شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ٹیکسلا:کنٹونمنٹ بورد واہ کینٹ کے مکین مسائل سے دوچار، سینٹری ورکرز افسران کے گھروں اور نجی کاموں میں مصروف

ٹیکسلا:کنٹونمنٹ بورد واہ کینٹ کے مکین مسائل سے دوچار، سینٹری ورکرز افسران کے گھروں اور نجی کاموں میں مصروف

ٹیکسلا(رپورٹ ڈاکٹر سید صابر علی)کنٹونمنٹ بورد واہ کینٹ کے مکین مسائل سے دوچار ، سینٹری ورکرز افسران کے گھروں اور نجی کاموں میں مصروف ،جا بجا کوڑے کرکٹ کے ڈھیر مہلق بیماریوں کا سبب بننے لگے،ٹیکس دینے کے باوجود ہمارے مسائل جوں کہ توں ہیں،کرپٹ افسران کے ستائے مکین پھٹ پڑے،لالہ رخ میں گزشتہ دس روز سے کھدا سیوریج کا گٹر کینٹ بوردڈکی عدم توجہ سے مکینوں کے لئے وبال جان بن گیا ، درخواست دینے کے باوجود کینٹ حکام مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں ، کھلے گڑے میں گر کر کئی بوڑھے مرد خواتین اور بچے گر کر زخمی ہوچکے سیکرٹری کینٹ بورڈ معاملہ سے بے خبر شکائت کے باوجود معاملہ کے حل پر کوئی توجہ نہیں دی،مکینوں کا چئیرمین پی او ایف بورڈ سے اصلاح احوال کامطالبہ،تفصیلات کے مطابق لالہ رخ اور اسکی مضافاتی آبادیوں کے مکین کینٹ بورڈ افسران کے ناروا رویہ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں مکینوں کا کہنا ہے کہ ہم سے ہر قسم کے ٹیکس لئے جاتے ہیں مگر مسائل کے حل پر کوئی توجہ نہیں دیتا ، کینٹ بورڈ میں رشوت کا بازار گرم ہے ٹیکس دینے والے مکینوں کو نظر انداز جبکہ رشوت دینے والوں کا فوری کام کردیا جاتا ہے مکینوں کا کہنا تھا کہ کینٹ ایگزیکٹیو آفیسر سے ملنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ایگزیکٹیو آفیسر سیٹ سے غائب ہوتے ہیں جبکہ اسسٹنٹ سیکرٹری کینٹ بورڈ سرور چوہدری عوامی شکایات پر کوئی کان نہیں دھرتے کہتے ہیں کہ میرے بس کی بات نہیں ،جبکہ رشوت خور اہلکار موجیں کرتے نظر آتے ہیں، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر ہیں مگر صفائی کا عملہ کام سے غائب افسران کی پرائیویٹ یا اپنے نجی کاموں میں مصروف رہا ہے گندگی کی وجہ سے مختلف مہلق بیماریاں پھیل رہی ہیں،ادہر کینٹ انجینیر عتیق اور اسسٹنت انجینئیر ملک وقار دفتر سے غائب رہتے ہیں کوئی شکائت لیکر جائے تو کہتے ہیں پہلے ہم سے ملاقات کا وقت لو پھر آنا ، لالہ رخ ڈی ٹائپ کے قریب ایک مکان کا سیوریج لائن بند ہے اپنی مدد آپ مکے تحت لائن کھلانے کی کوشش کی مگر قدیمی لائن چوک ہوچکی تھی ، دس روز سے زائد مذکورہ مکان پر لائن کی گٹر کی صفائی کے لئے کھدا گٹر تاحال اسی طرح کھلا پڑا ہے ادہر مکین کی جانب سے دفتر میں تحریری درخواست جمع کرائی گئی جس میں استداء کی گئی کہ مذکورہ لائن بند ہے لہذا سامنے بارہ فٹ کے فاصلہ پر مین لائن میں سیوریج ڈالنے کے لئے منظوری دی جائے ،جو وہ اپنے خرچ پر کرنا چاہتے ہیں مگر کینٹ بورڈ حکام بشمول انجینئیرز اور اسسٹنٹ سیکرٹری معاملہ سے چشم پوشی اختیار کئے ہوئے ہیں گڑا کھلا رہنے کی وجہ سے کئی بوڑھے مرد خواتین اور سکول کے بچے گر کر زخمی ہوچکے ہیں مکینوں کا کہنا ہے کہ کھلا گٹر کسی بڑے حادثہ کا موجب بن سکتا ہے جس کی بابت کینٹ سیکرٹری اور انجینئیرز کو بتایا جاچکا مگر تمام افسران رشوت نہ دینے کی بنا پر تاخیری حربے اختیار کر رہے ہیں ادہر لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ گڑا کے سامنے واقعہ مکان میں غیر قانونی پانی کے کنکشن ہیں ایک ڈی ٹائپ جبکہ دوسرا ای ٹائپ کی لائن سے لیا گیا مگر کینٹ بورڈ حکام کے نوٹس کے باوجود تاحال اس پر کوئی کاروائی نہ کی گئی مکینوں کا کہنا ہے کہ کینٹ بورڈ اہلکار ماہانہ بنیادوں پر بھتہ وصول کرتے ہیں اسی لئے انھوں نے معاملہ آشکار ہونے کے باوجود چپ سادھ رکھی ہے،ادہر واہ کینٹ کے کئی پارکوں کی حالت نی گفتہ بہ ہے کینٹ اہلکار نہ ہی اس کی تعمیر پر توجہ دے رہے ہپیں بلکہ کوئی دیکھ بھال بھی نہیں کی جارہی جسکی وجہ سے پارک جنگل کا منظر پیش کر رہا ہے ،نواب آباد بازار میں میں ناجائز تجاوزات نے انسانی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے ،لوگوں کا پیدل چلنا محال ، ریڑھی بانوں اور ٹھیہ والوں نے انت مچا رکھی ہے کینٹ اہلکار ان سے ماہانہ بھتہ وصول کرتے ہیں ۔ لوگوں کے منع کرنے پر قبضہ مافیا ان سے جھگڑا کرتا ہے اور بر ملا جواب دیا جاتا ہے جو کرنا ہے کر لو ہمیں کوئی مائی کا لال یہاں سے ہٹا نہیں سکتا ،افسران کے نوٹس لینے پر انفورسنمنٹ کا عملہ تھوڑی دیر کے لئے تجاوازت ہٹانے کا کہ دیتا ہے مگر چند لمحوں بعد حالات اسی طرح ہوتے ہیں ،عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو درپیش مسائل سے نکالا جائے اور محکمہ میں موجود کرپٹ افسران کا یہاں سے فوری تبادلہ کیا جائے جو عوام کے لئے پریشانی کے باعث بن رہے ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. واہ کینٹ میں اراضی کی فروخت پر ٹیکس ظالمانہ اقدام ہے۔ اس سے قبل بھی موجودہ حکومت عوام پر بہت ٹیکس لگا چکی ہے۔ اور یہ سارا ٹیکس عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں ہوتا بلکہ چند لوگ اسے اپنی ذاتی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرتے ہیں جس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ایف بی آر نے زمین سات لاکھ روپے فی مرلہ مقرر کرکے لوگوں کی زندگی کو تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ ا س سلسلے میں چوہدری نثار علی خان صاحب کی خدمت میں بارہا لوگ عرض گذار چکے ہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی آواز کہیں بھی سنائی نہیں دے رہی۔ ویسے بھی حکومت ایسے معاملات میں کب اچھا فیصلہ کر سکتی ہے جب کہ اس نے پہلے ہی ایک ایسا فیصلہ کر دیا ہے جس سے عوام کو مزید پریشانیوں سے گزرنا پڑے گا۔ واہ کینٹ کے علاقوں میں زمینوں کے ریٹ زمینی حقائق کے بالکل برعکس فیصلے کئے گئے ہیں۔ جو صرف چند اشخاص کے لئے تو فائدہ مند ہو ں گے یا ادارے کو اس سے فائدہ ملے گا یا لوٹ مار کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ یہاں کی گردو نواح میں غریب لوگ بستے ہیں اور زندگی میں ایک مکان تعمیر کرنے کی جرات رکھتے ہیں وہاں ان سے یہ سہولت بھی چھین لی گئی ہے کہ وہ زندگی میں ایک مکان تعمیر کر سکیں۔ ویسے تو ہماری حکومت نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے لیکن اس فیصلہ سے مزید لوگ تباہ حال ہوں گے۔ اور کینٹ کے بعض علاقوں میں ایک لاکھ اور پچاس ہزار روپے سے بھی کم جگہیں فروخت ہوتی ہیں ۔ ریٹ اس سے بھی زیادہ ہوتے ہیں لیکن اکثر جگہوں پر ریٹ کم ہیں۔ جب کہ حکومت نے یکمشت سات لاکھ فی مرلہ کا تعین کرکے ظلم کا ایک نیا راستہ کھول دیا ہے۔ کینٹ بورڈ واہ کے علاقے میں جو ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اس کا بھی لوگوں کو اچھی طرح سے علم ہے۔ اورکچھ دوست یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ پانچ لاکھ روپے فی مرلہ جگہیں فروخت کرنے کے لئے تیار ہیں تو عرض یہ ہے کہ وہ حالات کا ادراک نہیں رکھتے کہ ایک انسان زندگی میں صرف ایک پلاٹ خریدتا ہے اور پھر کینٹ بورڈ کے ناجائز ٹیکس ادا کرتا ہے اور پھر وہ نقشے پاس کروانے کے لئے جس ذلت اور خواری سے گزرتا ہے وہ ہر شخص جانتا ہے اور جو سہولیات لوگوں کو مل رہی ہیں وہ بھی ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ گویا کہ دوسرے لفظوں میں لوگوں کو ذلیل و رسوا کرنا اس حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔ اور اس طرح یہ موجودہ اقدام اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ حکومت عوام اور مزدوروں اور بے کس لوگوں کی دشمن ہے۔ اس سلسلے میں ان سے اپیل کرنا بھی اپنے آپ سے ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ موجود حکومت کے اراکین ہی تو عوام کو ذلیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اور عوام بھی ہمیشہ ان کو اقتدار میں لاتی ہے اور پھر زلیل و رسوا ہو کر اگلے الیکشن میں ان کو پھر کامیاب کرواتی ہے۔ کینٹ بورڈ کے ناجائز ٹیکس سے پہلے ہی ہم لوگ پریشان ہیں اب جب کہ یہ اقدام کیا گیا ہے تو یہ ظلم و اناانصافی اور غنڈہ گردی کا ایک بہت بڑا اقدام ہے ۔یہاں پر زیادہ لوگ ریٹائرڈ لوگ ہیں جو ملازمت کے بعد یک مکان بناتے ہیں اور اس میں اپنی رہائش رکھتے ہیں۔ مگر موجود حکومت کے اس اقدام نے ان کو خون کے آنسو رلانے پر مجبور کر دیا ہے ۔ عوام کو پہلے کون سی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں کہ اب یہ ظلم کا فیصلہ بھی کر دیا گیا ہے ۔لوگوں نے حکومت کے اراکین کو اپیل کی ہے اور کچھ دوستوں نے چوہدری نثار علی خان صاحب کو بھی مداخلت کی دعوت دی ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے جب یہ فیصلے کئے گئے ہیں تو موجودہ حکومت کے اراکین تو ان فیصلوں کے حق میں شامل ہیں بھلا وہ کیسے عوام کی بات سنیں گے۔ انہیں تو اپنی اور اپنی حکومت کو خوش کرنے کی فکر لاحق ہے۔ عوام جہنم میں جائیں ذلیل ہوں یافقیر ہو جائیں عوام رل جائیں تو بھی کوئی پرواہ نہیں ۔ صرف اپنی اقتدار کو اگلی نسل میں قائم کرنے کی فکر ان کو ہے۔
    Back to Conversion Tool

    Urdu Home

error: Content is Protected!!