تازہ ترینعلاقائی

واہ کینٹ میں دومنزلہ مکان گرنے سے ملبہ تلے دب کر ماں باپ اورایک ہی خاندان کے آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے

ٹیکسلا (ڈاکٹر سید صابر علی / نامہ نگار)واہ کینٹ میں دومنزلہ مکان گرنے سے ملبہ تلے دب کر ماں باپ اورایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والی دو خواتین سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے،چار بچوں کو امدادی کاروائی کے بعد زندہ نکال لیا گیا،زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال راولپنڈی منتقل کردیا گیا،تنگ گلی کے باعث ہیوی مشینری استعمال نہ ہوسکی ، امدادی کاروائیوں میں تاخیر کے باعث آٹھ قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں، مکان کی چھت گرنے سے جابحق ہونے والے بدنصیب خاندان کا تعلق ہنگو کے علاقہ سے تھا،اطلاع پر مقامی انتظامیہ کے افسران بھی موقع پر پہنچ گئے،تفصیلات کے مطابق واہ کینٹ جی ٹی روڈ نزد منیر آباد بندھن شادی ہال کے عقب پر واقعہ دو منزلہ مکان زمین بوس ہوگیا، مذکورہ مکان کے ساتھ سیوریج کا بڑا نالا بہہ رہا ہے بتایا جاتا ہے کہ نشیبی ہونے کے باعث نالے میں پانی کی سطح بلند ہوئی جسکے وجہ سے مکان نیچے بیٹھ گیا اور مکان کی چھت ٹوٹ کر مکینوں کے اوپر آن گری ،چونکہ مکان ڈبل منزلہ تھا اس لئے مکان کیں موجود تہہ خانہ بھی ملبہ کی نظر ہوگیا،اطلاع ملتے ہین ریسکیو1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جبکہ سول ہسپتال ٹیکسلا میں زخمیوں کو فوری طبی امداد دینے کی غرض سے ایمرجنسی نافذ کردی گئی تمام پیرا میڈیکل سٹاف بشمول ڈاکٹرز کو ڈیوٹی پر طلب کرلیا گیا ، ڈی ایچ او ڈاکٹر رفیق بھی سول ہسپتال ٹیکسلا پہنچ گئے ،ہیوی مشینری کا مذکورہ مقام پر نہ پہنچنے کے باعث لوگوں کو فوری ریسکیو کرنے میں شدید دشاوری کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد جن میں دو خواتین خاندان کا سربراہ اور پانچ بچے شامل تھے جابحق ہوگئے ،جابحق ہونے والوں میں خاندان کے سربراہ سید وزیر ولدمحمد منیر، اسکی بیوی شمناز بی بی ،باغ سلطان زوجہ بشیر احمد،اور خاندان کے بچے چار سالہ سنیلہ دخترسید وزیر،چودہ سالہ لقمان ولد سید وزیر،نو سالہ صبیحہ دختر سید وزیر،آٹھ سالہ سپنا دختر سید وزیر،تین سالہ صفیہ دختر سید وزیر،شامل تھے ، ریسکیو کے دوران جن چار بچوں کو زندہ نکال لیا گیا ان میں گیارہ سالہ محمد احمدولد سید وزیر،بارہ سالہ لبنہ دختر سید وزیر،چودہ ماہ کی بچی فاطمہ دختر سید وزیر،اور چار سالہ فہد ولد طار ق شامل ہیں،ادہر اہل علاقہ کی جانب سے ابھی بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دو سے تین افراد ابھی تک ملبہ تلے دبے میں جنہیں رسیکیو نہیں کیا گیا،یاد رہے کہ مذکورہ ڈبل سٹوری مکان ج وگرنے کے باعث ملبہ کا ڈھیر بن گیا تین مرلہ پر بنا ہو اتھا جس تہہ خانے میں بھی ایک فیملی رہائش پذیر تھی ،ادہر رسیکیو کی امدادی کاروائی ختم ہونے کے ملبہ سے نکلنے والی تمام نعشوں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہستال راولپنڈی منتقل کردیا گیا،ڈبل سٹوری مکان منہدم ہونے کی کے بعد وہاں لوگوں کا جم غفیر جمع ہوگیا ، پی ٹی آئی کے ایم این اے غلام سرور خان ، مسلم لیگ ن کے ملک عمر فاروق ، فیاض خان تنولی سمیت متعدد سیاسی زعما موقع پر پہنچ گئے اور واقعہ پر اظہار افسوس کیا،مکان منہدم ہونے کے بعد ارد گرد کے مکان بھی متاثرہوئے جبکہ نالے سے منسلک حفاظتی دیوار دیوار بھی زمین بوس ہوگئی ،حفاظتی اقدامات کے پیش نظر مکان سے ملحقہ رہائشی افراد کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے جگہ چھوڑ دینے کی ہدائت کی گئی،رسیکیو کے دوران ایک خاتون نے ریسکیو ٹیم کو بلند آواز میں بتایا کہ وہ اور اسکا کسمن بیٹا زندہ ہیں انھیں باہر نکالا جائے ، رسیکیو کے دوران اس وقت وہاں موجود افراد کلمہ طیبہ کا ورد کرنے لگے جب ایک ماں کو مردہ حالت میں نکالا گیا مگر اسکے پیٹ کے ساتھ لپٹا ایک سالہ بچہ زندہ تھا جسے ماں نے ملبہ تلے دبنے کے باوجود اپنے پیٹ کے درمیان چھپا رکھا تھا،ادہر لوگوں کا کہنا ہے کہ امدادی کاروائی میں تاخیر کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا،اگر بروقت ہیوی مشینری استعمال کر کے بھاری لنٹر کو ہٹا دیا جاتا تو کئی قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں، رسیکیو ہونے والے افراد کو پہلے سول ہسپتال ٹیکسلا بعدازاں سول ہسپتال حسن ابدال جبکہ الاصبح انھیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال راولپنڈی منتقل کردیا گیا، مذکورہ دومنزلہ عمارت محمدرفیق نامی شخص کی ہے جو کہ علاقہ حضروکارہائشی ہے۔ستر سالہ معمر خاتون باغ سلطان زوجہ بشیر احمد اپنی بیٹی سے ملنے آئی تھی جو حادثہ میں اپنی جان گنوا بیٹھی ، مذکورہ خاتون جو کہ ثاقب بٹ عرف بوبی کی والدہ تھی کو آج آہنوں سسکیوں میں گھٹیا قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا جنازہ میں اہم سیاسی و سماجی شخصیات امجد شاہ ، محمد فیصل اقبال ، ظہیر احمد گدوال ، سہیل انجم شاہ و دیگر موجود تھے،جبکہ جاں بحق ہونے والے دیگر افراد کی نعشیں ہنگو پہنچا دی گئیں،

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button