تازہ ترینعلاقائی

ٹیکسلا:مقامی انتظامیہ کی جانب سے مساجد میں ایک لاوڈسپیکر کے استعمال کے آرڈیننس پر مختلف مسالک،سے تعلق رکھنے والے علماء حضرات کا مشترکہ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی / نامہ نگار)مقامی انتظامیہ کی جانب سے صوبہ پنجاب میں دوران اذن مساجد میں ایک لاوڈسپیکر کے استعمال کے آرڈیننس پر مختلف مسالک ،سے تعلق رکھنے والے علماء حضرات کا مشترکہ مشاورتی اجلاس کمیونٹی سنٹر ٹیکسلا میں منعقد ہوا، اجلاس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر ٹیکسلاشاہد عمران مارتھ کر رہے تھے جبکہ ڈی ایس پی ٹیکسلا سرکل سلیم خٹک اور مسلم لیگ ن کے سابق رکن صوبائی اسمبلی ملک عمر فاروق سٹیج پر موجود تھے،مساجد میں ایک لاوڈ سپیکر کے استعمال پر پنجاب حکومت کے جاری آرڈننس پر مختلف مکاتب فکر مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء نے اپنی آراء پیش کیں ،ا س موقع پر علماء کرام کی جانب سے متفقہ قرار داد منظور کی گئی جس میں تمام علماء نے اس آرڈننس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر شرعی اور غیر منصفانہ فعل قرار دیا ، اجلاس میں علماء کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ اس آرڈننس کے خلاف ہم عدالت سے رجوع کرچکے ہیں تاہم مقامی پولیس اس ضمن میں پکڑ دھکڑ سے باز رہے ،ورنہ علماء کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جائے گا،ڈی ایس پی سلیم خٹک کا کہنا تھا کہ ہمیں قانون کے مطابق کام کرنا ہے جس پر اجلاس میں موجود علماء کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا، مقامی پولیس کو کہا گیا کہ تاوقتکہ اس پر عدالت کی جانب سے کوئی واضح فیصلہ نہیں آتا علماء کرام کو بلا وجہ تنگ نہ کیا جائے ،اسسٹنٹ کمشنر ٹیکسلا کا کہنا تھا کہ بلاوجہ کسی علماء کو تنگ نہیں کیا جائے گا،مسلم لیگ ن کے رہنما ملک عمر فاروق نے بھی علماء کے متفقہ فیصلہ کی تائید کی اور کہا کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے اس بابت بات کریں گے اور علماء کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا ،اجلاس سے پیر عبدالقادر صدر اہل سنت انٹر نیشنل و مہتمم اعلیٰ جامع رضویہ انوار العلوم،پیر سعید نقشبندی، اہل سنت ولجماعت کے رہنما مفتی حیدر علی حیدری، مولانا شاکر،اقلیتی رہنما سخاوت رضا،و دیگر نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر مقامی علماء ، پیر مصطفی شاہ،مولاناصدیق رضوی ، خطیب جامع مسجد واہ کینٹ قاضی عبدالوحید،سنی تحریک کے طارق قادری ،مولانا منیر ہزاروی،قاری داود،صاحبزادہ محمود عباسی،مولانا امین،اس موقع پر سانحہ لاہور میں ہلاک ہونے والے کرسچین کمیونٹی کے افراد کے لئے دعاء مغفرت کی گئی اور سانحہ لاہور کی پرزور مذمت کی گئی ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!