تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

تزکیۂ نفس اور تخلیقِ انسانی

ہتے ہیں کہ انسانی خلقت اپنے اعلیٰ و ارفع مقام و مراتب کے ساتھ موجوداتِ جمیع سے بلند ہے۔ کائنات کا وجود حکمِ ربّی: کن فیکون کا مرہونِ منت ہے اور انسانی خلقت اس سے کہیں بلند و بالا ہے کہ اس کا خالق خود فرماتا ہے۔’’ہم نے انسان کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا۔‘‘اس آیت کے ترجمے میں ’’ خلقت ‘‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کی ظاہری ہیئت یعنی وہ پتلۂ خاکی جس کی اولین صورت خود اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں سے بنائی ہوئی ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کی صورت کہلاتی ہے۔ اس کے بعد کا مرحلہ روح پھونکنے کا مرحلہ ہے جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمائی ہے۔
ونفخت فیہ من روحی oترجمہ:اور ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی۔
یہ دو تدریجی مراحل یعنی پہلا مرحلہ اللہ تعالیٰ کا اپنے ہاتھوں سے انسان کی تشکیل کا ، دوسرا مرحلہ اس میں اللہ تعالیٰ کے اپنے روح پھونکنے کا عبد و معبود اور خالق و مخلوق کے حقیقی وجودی اور روحانی رشتہ و داد اور چاہت کی نسبت کے اظہار پر دلالت کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ بار امانت جس کو دریا گہرائی کے باوجود‘ پہاڑ رفعت و طاقت کے باوجود‘ اور زمین وسعت و پھیلاؤ کے باوجود‘ اٹھانے سے معذور نظر آتے ہیں انسان بخوبی اٹھا لیتا ہے اور مطعون و ہدف ملامت بن جاتا ہے۔ یہ امانت آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تھی سو انہوں نے اس کی ذمہ داری سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اس کو اپنے ذمہ لے لیا، وہ ظالم ہے، جاہل ہے۔
یہ ظالم و جاہل پتلۂ خاکی جو اللہ تعالیٰ کی محبت میں اس حد سے تجاوز کرنے والا اور بظاہر بے حد کمزور اور لاغر ہے اس کو جب بار امانت تفویض کیا گیا تو اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ذمہ داری سے پوری طرح عہدہ برا ہونے کیلئے چند خصوصیات مثلاً وجدان اور حواس سے نوازا تاکہ وہ کائنات کی چیز کا بہتر طور پر ادراک کر سکے۔ اللہ رب العزت نے انسان کو عقل و ارادہ‘ گویائی‘ اوروجدان جیسی صفتوں کے ساتھ ایسی دو قوتیں یعنی قوت غصبیہ اور قوت شہویہ بھی انسان میں ودیعت فرما دیں جو انسان کو سیدھے راستے کی اتباع کے بجائے ہویٰ و ہوس کی طرف راغب کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی روح جو پیدائش کے وقت صاف و شفاف آئینے کی مانند ہوتی ہے آہستہ آہستہ ماحول کے اثرات سے کثیف ہو جاتی ہے انہی دو قوتوں یعنی قوت غصبیہ اور قوت شہویہ کی وجہ سے نفس کو تزکیہ کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ نفس امارہ اعتدال کی راہ اختیار کر لے، روح انسانی کی لطافت برقرار رہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو اجسام لطیفہ سے نوازا ہے بظاہر روح اور نفس کا اجسام لطیفہ میں ہونا اس طرح ہے جس طرح ملائکہ میں لطافت کی صفت پائی جاتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ آنکھ رویت کا محل ہے، کان سمع کا ‘ ناک سونگھنے کا ‘اور منہ ذائقہ کا‘ حالانکہ سمع‘ بصر شم اور ذائقہ سب انسان میں شامل اور متحد ہیں اسی طرح اوصاف حمیدہ کا مقام قلب و روح ہے اور اوصاف مذمومہ کا مقام نفس ہے۔ نفس کو اعتدال پر قائم رکھنے کا نام ہی انسانی معراج ہے۔
اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے:قد افلح من زکھا oترجمہ:بامراد ہوا وہ شخص جو پاک ہوا۔
گویا قرآن مجید کی رو سے کامیابی اور تقرب الٰہی کا واحد ذریعہ تزکیہ و تصفیہ نفس ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھی نفس کی بے اعتدالی سے بری نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہیں اور نفس کی گمراہی اور خواہشات نفس کے غلبہ کا اعتراف حضرت یوسف علیہ السلام کی زبانی سنئے۔ ترجمہ:اور میں برأت کرتا ہوں اپنے نفس کی‘ کیونکہ نفس ہر ایک کو بری بات کا حکم دیتا ہے مگر وہ جس پر میرا رب رحم کرے۔
پس تزکیہ نفس ہر اعلیٰ و ادنیٰ کیلئے ضروری ہے۔ البتہ مراتب انسانی کے مطابق ریاضت نفس میں فرق نمایاں ہوتا ہے۔ انسان اسی وقت بامراد ہوتا ہے جب وہ کسی طرح سے تزکیہ و تصفیہ نفس کا حامل ہوتا ہے، بصورتِ دیگر اس میں اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی کو آخرت میں بامراد ٹھہرایا ہے جس نے اپنے نفس کو ہوا و ہوس سے باز رکھا۔
ارشادِ ربانی ہے۔’’اور جس نے نفس کو حرام خواہش سے روکا۔‘‘
میری اس تحقیق کا بظاہر تو خلاصہ یہی ہے کہ تزکیہ نفس قرب الہیٰ اور ایمان کی زیادتی کا بہترین ذریعہ ہے اور تصوف کی روح بھی۔ لہٰذا تصوف کوئی مافوق الفطرت یا ماورائی نظریہ نہیں جسے عامۃ الناس سے علیحدہ رکھا جائے یا پھر خانقاہوں ، جوگیوں کے لباس محو و سکر و جذب و مستی اور مباح اشیاء کے حدود تک محدود رکھا جائے۔ یہ تو صفائے قلب کی ایک منہاج ہے جو معراجِ مومن ہے۔ اس کا آغاز روئے زمین پر بعث آدم علیہ السلام سے ہوتا ہے۔ جب مشیت ایزدی کے تحت ذرا سی لغزش سے آدم ؑ کا مستقر زمین قرار پاتی ہے تو تزکیہ و تصفیہ نفس کی پہلی کرن ہے ۔اسی لئے اللہ رب العزت سے ہر معاملے میں دعائے خیر کرتے رہنا چاہیئے :
اے ہمارے پروردگار ، ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہے۔ اگر آپ ہمیں نہیں بخشتے اور ہم پر رحم نہیں کرتے تو البتہ ہم ضرور نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ (الاعراف)
اس طرح تزکیہ نفس کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم النبین حضرت محمدﷺ تک جس قدر انبیاء علیہم السلام دنیا میں تشریف لائے وہ سارے آداب الٰہیہ کے تحت زیرِ تربیت رہے، مراتب کے یقین کے مطابق آزمائش کے منازل طے کرتے رہے۔ جوں جوں یقین عین الیقین میں بدلتا گیا روحِ تزکیہ کی اعلیٰ منازل طے کرتی ہوئی منتہائے مقصود سدرۃ المنتہیٰ تک جا پہنچی۔
اس وقت کو یاد کرو جبکہ ابراہیم نے غرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھ کو دکھا دیجئے کہ آپ مُردوں کو کس کیفیت سے زندہ کریں گے۔ ارشاد فرمایا کہ کیا تم یقین نہیں لائے؟ انہوں نے عرض کیا، کیوں نہیں لیکن اس عرض سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے قلب کو سکون ہو جائے۔ ارشاد ہوا کہ اچھا تم چار پرندے لے لو۔ پھر ان کو اپنے سے بہت قریب (ہلا لو) کر لو۔ پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک حصہ رکھ دو‘ پھر ان سب کو بلاؤ۔ وہ تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے۔
یہ وہ تجربے ہیں جن سے انبیاء علیہ السلام کے یقین میں پختگی پیدا ہوئی۔ یقین اور اعتقاد جازم کے بغیر تزکیہ نفس ممکن نہیں اور تزکیہ نفس کے بغیر تصوف کا ظہور نہیں ہو سکتا۔ تزکیہ نفس سے صداقت ، عفت و پاکیزگی، امانت و ریاضت جو دو سخا جیسی صفات حمیدہ انسان میں پیدا ہوتی ہیں جو اتباع ھدیٰ کے لئے ضروری ہیں۔
کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ تصوف یا صوفی کا لفظ قرآن حکیم میں موجود نہیں ۔ اس سلسلے میں کتاب ’’اللمع‘‘ میں شیخ ابو نصر سراج فرماتے ہیں۔’’ قرآن مجید میں بہ کثرت ایسے الفاظ و عبارات موجود ہیں جن سے اہلِ تصوف مراد ہیں مثلاً صادقین۔ صادقات، قانتین ، قانتات، خاشعین، خاشعات ، مخلصین ، عابدین، راسخین ، صابرین، متوکلین، اولیاء ، ابرار ، نیز شاہدین وغیرہ۔‘‘
بے شک اسلام لانے والے مرد اور اسلام لانے والی عورتیں‘ ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں‘ فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں ‘ راست باز مرد اور راست باز عورتیں‘اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں‘ اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں ‘اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں‘ روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں ‘اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں‘ اور بکثرت خدا کو یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں۔ ان سب کیلئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اجرِ عظیم رکھا ہے۔
ان کی صفات اور تصوف کے مفہوم کی وضاحت میں مقابلہ کرنے سے صاف طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ احکام خدا وندی کے بجا لانے کا نام ہی تصوف ہے جو زیادہ خلوص‘ یقین ‘ ازعان کے ساتھ شریعتِ اسلامی پر گامزن ہے وہ اتنا ہی زیادہ تصوف کا حاملِ ہے۔ کبھی یہ خیال ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ کے عہدِ زرین میں کسی صحابی کو صوفی کے لقب سے ملقب نہ کیا گیا بلکہ اس کا ظہور بہت بعد میں ہوا۔ اس کی وضاحت شیخ ابو نصر سراج فرماتے ہیں۔’’ اصحاب رسولﷺ کے لئے کوئی دوسرا تعظیمی لفظ مستعمل نہیں ہو سکتا تھا اس لیے کہ ان کے فضائل میں سب سے اشرف وا عظم صحابیت کی فضیلت بھی تھی کہ صحبت رسول ﷺ تمام بزرگیوں اور فضیلتوں سے بڑھ کر ہے۔ ان کا زہد‘ فقر‘ توکل ‘ عبادت‘ صبر‘ رضا وغیرہ سارے فضائل پر صحابیت کا شرف غالب ہے‘ پس جب کسی شخص کو صحابی بننے کا شرف حاصل ہوگیا تو اس کے فضائل کی انتہا ہوگئی۔، مزید کسی دوسرے لقب کی ضرورت باقی نہ رہی ان کیلئے صوفی بننے کا شرف حاصل ہوگیا تو اس کے فضائل کی انتہا ہوگئی۔ مزید کسی دوسرے لقب کی ضرورت باقی نہ رہی ان کیلئے صوفی یا کسی دوسرے تعظیمی لقب کے استعمال سے کوئی امتیاز ان کو حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔‘‘
راقم نے پچھلے کالم چند روز کیلئے نہیں لکھا اس کی خاص وجہ بھی یہی تھی کہ حاضر کردہ اس تحقیق کو عملی جامہ پہنانے کی جستجو میں غرق تھا۔اور بہت عرق ریزی کے بعد یہ مؤدبانہ تحقیق ’’تزکیۂ نفس اور تخلیقِ انسانی‘‘ کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ آپ سب پڑھنے والوں کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت مجھے بھی اس مضمون کے ذریعے بخشنے کا معاملہ فرما دیں۔ (آمین یا ربّ العالمین)

یہ بھی پڑھیں  سندھ کےتمام تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی سخت کرنیکافیصلہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker