پاکستان

سابق رکن اسمبلی اسلم مڈھیانہ نے سکول ٹیچر کی ٹانگیں توڑ دیں

پولیس کی کھلی کچہری کے دوران پرائیویٹ سکول کے پینسٹھ سالہ ٹیچر نفیس خان لودھی نے سابق ایم پی اے اسلم مڈھیانہ کیخلاف شکایات کے انبار لگا دئیے جس پر اسلم مڈھیانہ سمیت گیارہ افراد نے نفیس خان لودھی کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا۔ڈپی او سرگودھا ڈاکٹر محمد رضوان کے حکم پر پولیس نے گیارہ میں سے چھ ملزم گرفتار کرلئے جبکہ اسلم مڈھیانہ نے عبوری ضمانت کرالی جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے خارج کرتے ہوئے ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ اسلم مڈھیانہ کے خلاف پچیس مقدمات پہلے سے درج ہیں اور پولیس اس کی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ منڈی بہاءالدین سے پیپلز پارٹی کے رکن پنجاب اسمبلی اور اسلم مڈھیانہ کے داماد وسیم افضل چن اور ان کے بھائی ایم این اے ندیم افضل چن نے وفاقی حکومت پر شدید دباؤ ڈالا جس پر وفاقی حکومت نے ڈی پی او سرگودھا ڈاکٹر محمد رضوان کا تبادلہ کر دیا۔ اویس مڈھیانہ کا کہنا ہے کہ نون لیگ معاملے کو اچھال رہی ہے اور انہیں پارٹی سے منحرف کرانے کے لیے سازش کی جا رہی ہے۔ ڈی پی او ڈاکٹر محمد رضوان کا کہنا ہے کہ بعض ایم این اے نے انہیں تحقیقات کرنے سےروکا لیکن انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ ڈی پی او نے میرٹ پر فیصلہ کیا۔ انصاف کرنے والوں کو سزا نہیں ہونے دیں گے۔ با اثر افراد کے خلاف ایکشن لینے کے حوالے سے پولیس حکام کے خلاف کارروائی کی روایت تبدیل نہ ہوئی تو انصاف کی فراہمی کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ ادھر ٹیچر کی شکایت پر قانونی کارروائی کرنے والے ڈی پی او کو وفاقی حکومت نے انصاف فراہم کرنے کی پاداش میں تبدیل کرکے اس کی خدمات حکومت گلگت بلتستان کے حوالے کر دیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  30نومبر کے جلسے میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے،جلسے میں توڑ پھوڑ ہوئی تودفاع کریں گے، چوہدری نثار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker