تازہ ترینکالم

استاد اور شاگرد کا رشتہ

waqar butt مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے رہ جاتے اوردوسری قومیں بہت آگے نکل جاتی اگر سر سید احمد خان نے انگریزی تعلیم رائج کرنے کے لیے طویل جدوجہد نہ کی ہوتی ،چند علماء نے اس وقت یہ فتوا جاری کیا کہ انگریزی سیکھنا کُفر ہے مگر سر سید احمد خان نے طالبعلموں کو سمجھایا کہ یہ ایک زبان ہے جسے سیکھنا انتہائی ضروری ہے۔سر سید احمد خان نے انگریزی تعلیم کو محض ایک زبان تک محدود کیا مگر ناجانے کیوں اب ہم لوگوں نے اسے اپنی تہذیب کا حصہ بنا لیا۔اشفاق احمد جیسے اساتذہ کی ڈھیر ساری مثالیں ہیں جنہوں نے اپنے شاگردوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھایا۔کہا جاتا ہے کہ پرانے وقتوں میں اساتذہ اکرام طالبعلم کے لیے والد یا والدہ کی حیثیت رکھتے تھے اور اساتذہ کرام کے لیے طالبعلم ان کے اپنے صاحبزادے یا صاحبزادی کے مترادف تھے۔مگر جوں جوں وقت گزرتا رہا ہماری مشرقی تہذیب مغربی تہذیب میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ہمارے پیارے نبی سرکارِدو عالم حضرت محمد ﷺ کا ارشاد تھا کہ جس نے تمہیں ایک لفظ بھی سکھایا وہ تمھارا استاد ہے،وقت گزرنے کے ساتھ طالبعلم کے دل میں اساتذہ کے لیے عزت کم ہوتی گئی اوراساتذہ کے دل میں طالبعلم کے لیے بسی محبت کم ہوتی آئی۔ہر کوئی مطلبی ہوگیا اسکا سبب بننا مغربی نصاب جسے ہم پر مسلط کر دیا گیا، اب طالبعلم پڑھتے کم کم نظر آتے ہیں جب کہ اپنے اساتذہ سے خوش گپیاں لگاتے ہوئے زیادہ پائے جاتے ہیں۔والدین اپنی بچیوں کو کو ایجوکیشن کے بُرے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے گرلز کالجز اور وویمن یونیورسٹیز میں داخل کروا دیتے ہین،جہان پر 75فیصد مرد اساتذہ ہوتے ہیں ،جو کہ اس پیشے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے لرکیوں کو جنسی طور پر حراساں کرتے ہیں۔جسکی جتنی مذمت کی جائے بہت کم ہے۔چند اساتذہ اپنے منصب کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس رشتے کی پاکیزگی کی بے حد تحزیک کرتے ہیں۔بہت سے سکینڈل سامنے آئے ان پر شور مچایا گیا اور پھر دوبارہ خاموشی اختیار کر لی گئی۔والدین اپنے بچیوں کی عزت و آبرو کو محفوط رکھنے کے لیے انہیں (کالجز )اور کو یونیورسٹیز میں داخل نہیں کرواتے،مگر ان مظلوموں کو کیا معلوم کے کچھ سفاق درندا استاد کا لبادہ اوڑھے بیٹھے ہیں،کتنا ہولناک ملال کی عزت لوٹنے والا کوئی اور نہی بلکہ اپنا استاد جس کو باپ سمجھ کر حصولِ علم کے لیے بنایا،ایک مقدس رشتہ،کچھ اساتذہ کرام ارد گرد کے حالات و واقعات سے پریشان ہو کر دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں جس کے بعدجس کے بعد اپنے طلباء پر غصہ نکالتے ہیں اور انہیں ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنا دیتے ہیں،جس کئی طالبعلم پڑھائی سے بیزار ہو کر تعلیم کو خیر باد کہہ دیتے ہیں،جس سے لٹریسی ریٹ میں خاصی کمی واقع ہوتی ہے۔تعلیم کا شعبہ جا کا بجٹ محظ2فیصد مقرر کیا جاتاہے اس میں بھی کرپشن کے سنگین واقعات سامنے آئے ہیں۔گورنمنٹ سکول میں سہولیات نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ،اکثر گورنمنٹ سکول کے پرنسپل خود اتنے زیادہ کوالیفائیڈنہیں ہے تو آپ سوچیے کے وہ تعلیمی سرپرستی کے فرائض کیسے اچھے طریقے سے نبھا سکتے ہیں۔ہماری عوام ہمیشہ حکمرانوں سے ایک سوال کرتی نظر آتی ہے کہ آپ اپنے بچوں کو کیوں ان گورنمنٹ سکولز میں نہیں پڑھاتے؟؟اگر ایسا ہوجائے تو امیر اور غریب کا فرق سرے سے ختم ہوجائے۔اس مقدس واہم شعبے میں اگر میرٹ پر بھرتیاں کی جائے،اساتذہ کو مقرر کرنے سے پہلے ٹھیک سے جانچ پڑتال کی جائے تو ان سکینڈل میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔اب تک سینکڑوں ایسے کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں اساتذہ نے اپنے کئی شاگردوں کو اپنی حوس کے بھینٹ چڑھایا اور جنسی طور پر حراساں کیا،کیا ملک میں خواتین اساتذی کی کمی ہے جو وویمن انسٹیٹیوٹ میں مرد اساتذہ کو لگا دیا جات اہے۔کیا وزیرِ تعلیم کا کام صرف فنڈز جاری کرنا ہے یا چیک اینڈ بیلنس رکھنا بھی ؟چند بے ضمیر لوگ جو اپنے آپ کواستاد کہتے ہیں کیا وہ کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں گے کہ وہ تو انسان کہنے کہ لائق بھی نہیں ہیں۔اہم شخصیات کی سفارش پر ایسے لوگوں کی تقرری ایک لمحہ فکریہ ہے،تعلیم ایک ایسا کنواں ہے جس سے جتنا بھی پانی پیا جائے پیاس نہیں بجھتی۔یہ ایک ایسی شمع ہے جو تمام اندھیروں کو چیرتے ہوئے ہر سُواجالا کر دیتی ہے اسی کہ حصول کے لیے تو ایک طالبعلم اپنے اساتذہ کرام کی عزت وپیروی کرتا ہے،طلباء کا اساتذہ کرام کو تحفہ دینا ان کی آپسی محبت کو مزید فروغ دیتا ہے،مگر شاگرد ہمیشہ یہ التجا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مار نہی پیار۔جس پر حال ہی میں سابقہ حکومت نے بچوں پر وحشیانہ تشدد کی روک تھام کے لیے ایک قرار داد منظور کی ہے جو بہت خوش آئند ہے،اب وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا مقصد بھی ملک کو ترق یافتہ اور خودمختار بنانا ہے اس کے لیے میاں صاحب کو تعلیم کے شعبے میں اہم توجہ دینی ہوگی ۔صرف ہونہار طالبعلموں کو سراہنا اور لیپ ٹاپ دینے سے تعلیم میں بہتری نہی آئے گی۔بلکہ ان ناقص تعلیمی اداروں پر توجہ دینی ہوگی جہاں پر نہ سہولیات ہیں اور نہ کوالیفائیڈ ٹیچرز ۔تاکہ ملک میں ہر فرد تعلیم یافتہ اور مختلف شعبہ جات میں اپنی مہارت کا استعمال کر کے فتح جھنڈے گھاڑے ۔اس میں کسی قسم کا شکِ شبہ نہیں کہ اب بھی بہت سے اچھے اساتذہ موجود ہیں مگر افسوس ایسے قیمتی لاگوں کہ معاشرے میں میں کوئی قدروقیمت نہیں رہی۔قارئین یقین جانیئے کہ اس کالم کو لکھتے ہوئے میں آبدیدہ ہو ااور میرا من ودل رو رہا ہے کہ اللہ ہی ہد

یہ بھی پڑھیں  شاہد آفریدی تیز ترین رنزبنانے والوں میں دومرتبہ شامل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker