علاقائی

اساتذہ کرام کومقدمات میں الجھایا جاتارہا تو تعلیمی نظام درہم برہم ہوجائےگا

لاہور ﴿نامہ نگار﴾لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے قراردیا ہے کہ اگر اساتذہ کرام کو مقدمات میں الجھایا جاتارہا تو تعلیمی نظام درہم برہم ہوجائے گا،یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی طالب علم کو ایک استاد سے کسی بھی قسم کے نقصان کا احتمال ہو، گزشتہ روز درخواست گزار عائشہ ثنائ اور عائشہ سلیم وغیرہ نے ظفراقبال ایڈووکیٹ کی وساطت سے موقف اختیارکیا کہ آٹھویں کے سالانہ پیپروں کے دوران نجی سکول کی جانب سے ہوم اکنامکس کا پیپر انگلش میں حل کرنے کے لئے دیا گیا حالانکہ ساراسال انھوں نے ہوم اکنامکس کا سبجیکٹ اردو میں پڑھا ہے لیکن انتظامیہ نے انھیں زبردستی کہاکہ وہ پرچہ انگلش میں حل کریں جس پر انھوں نے کوشش کی مگر پرچہ ٹھیک طرح حل نہ ہوسکا، انھوںنے انتظامیہ سے رابطہ کیا اور پیپر اردو میں حل کرنے کے لئے زوردیا تو انھوں نے تمام طلبائ کو کلاس میں بیٹھادیا اور باہر سے کمرہ بند کردیا جس پر انھوں نے اپنے والدین سے رابطہ کیا اور اس طرح و ہ انتظامیہ کی قید سے آزاد ہوئے۔فاضل عدالت نے پنجاب ایگزامینیشن کے چیف ایگزیکٹوکو عدالت میں طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker