تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

ٹیکنیکل جرنلزم اورعلاقائی صحافی

zafar ali shah logoاگرچہ علاقائی صحافیوں کی تربیت کے حوالے سے صحافی تنظیموں،یونیورسٹیوں میں قائم جرنلزم کے شعبہ جات اورمختلف غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے سیمینارزاور تربیتی ورکشاپس کاانعقادکیاجاتاہے تاہم آج میں اپنے کالم میں ٹیکنیکل جرنلزم سے متعلق تھوڑابہت بتانے کی سعی کر رہاہوں۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ صحافی قوم اورمعاشرے کی آنکھیں ہوتے ہیں اور صحافت جسے ریاست کا چوتھاستون کہا جاتا ہے کا ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی اور سہولیات سے مزین تعلیم یافتہ،صحت منداورمہذب معاشرہ کی تشکیل میں کلیدی کردارہوتاہے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے دنیاکے ترقی یافتہ ممالک میں ڈویلپمنٹ اور پیس جرنلزم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔اگرچہ ترقیاتی عمل اورامن کاقیام ہمارے ہاں بھی اہم ایشوزہیں اورضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ہاں بھی صحافت کا مرکزومحور ترقیاتی عمل اور قیام امن ہی ہو لیکن چونکہ وجود رکھتے زمینی حقائق کے تناظرمیں ہرقوم وملک اورمعاشرہ کے اپنے الگ معروضی حالات اور واقعات ہوتے ہیں اوراپنے جغرافیائی حدود کے اندر ہرقوم کی اپنی روایات،تاریخی پس منظراورالگ الگ ضروریات کے پیش نظروہاں کے صحافتی تقاضے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اب اگر ہم پاکستانی معاشرہ کی بات کریں جہاں تعلیم کی کمی،وسائل کے فقدان ،طبقات کی محرومیت ،بداَمنی ولاقانونیت،فرقہ واریت اورپروان چڑھتے مالی بدعنوانی ،کمزور جمہوریت ،اداروں کی بدحالی ،غیرضروری سیاسی اثرورسوخ،قانون نافذکرنے والے اداروں بالخصوص پولیس کی غفلت ولاپرواہی ،انتہاپسندی اورانفرادی حیثیت میں قانون ہاتھ میں لینے کے رجحان کے قصے کہانیاں عام ہیں تویہاں ترقیاتی عمل اورقیام اَمن کے لئے جارحانہ جرنلزم کی بجائے دفاعی جرنلزم کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے دفاعی جرنلزم سے مراد مثبت رپورٹنگ ہے جس میں کسی ادارے کی اجتماعی کارکردگی یا فرد واحد کے ذاتی کردارپر بے جا تنقید کی بجائے عوام اورطبقات کوزیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش ہواور شائع یانشرہونے والی رپورٹ میں کسی بھی ایشوکامثبت عنصر زیادہ نمایاں ہو۔جس میں مایوسی کے برعکس امید کاپیغام واضح ہوتاکہ قوم کاحوصلہ بلندرہے۔صحافت کے کسی بھی شعبے کے اندر رپورٹنگ کرتے ہوئے رپورٹر اس بات کویقینی بنائیں کہ اس کی رپورٹ مختصرمگرجامع ہو جومخصوص ایشوپر فوکس کرتی ہوکیونکہ اکثرہوتایہ ہے کہ رپورٹ جسامت کے لحاظ سے بڑی ہوتی ہے تواس سے اس کی اہمیت کم ہوجاتی ہے اوراس میں اہم نکات سامنے آنے کی بجائے غیرضروری یاکم اہمیت کی حامل چیزیں زیادہ سامنے آجاتی ہیں ایسے میں رپورٹ کی اہمیت کم ہوناایک طرف تاہم اگررپورٹ غیرضروری طورپرلمبی ہوتووہ پرنٹ میڈیامیں شائع اور الیکٹرانک میڈیاپر نشر ہونے کے برعکس ضائع ہوجاتی ہے۔کیونکہ پرنٹ اورالیکٹرانک دونوں میڈیاز کے پاس جگہ اور وقت کی کمی ہوتی ہے۔رپورٹرکوبیان اور خبرکے درمیان فرق کا بھی علم ہو۔یعنی کسی بھی شخصیت کے ذاتی بیان یاکسی ادارے کی جانب سے جاری کئے گئے پریس ریلیز میں رپورٹر اپنی مرضی سے کمی بیشی کرنے کی بجائے اس کو من عن رپورٹ کریں تاہم اس میں صحافتی رنگ ضرور شامل ہو۔مثال کے طورپر اہم باتوں کو آگے لانااور کم اہمیت کی حامل چیزیں پیچھے لے جانا۔یااگراس میں ریاست،مذہبی منافرت پھیلانے ،کسی فردواحد یاادارے کے بارے میں توہین آمیز،غیرمعیاری اورغیر پارلیمانی الٖفاظ شامل ہوں توان کو حذف کیاجائے ایسی رپورٹنگ سے مثبت صحافت کاپہلوبھی اجاگرہوگاجب کہ خبر واقعات اور نظرآتے حقائق کے مطابق بھی ہوگی۔ خبربنیادی طورپر ایسی چیز ہوتی ہے جس کے مختلف پہلوؤں کواجاگر کیاجاسکتاہے۔اگر کرائم رپورٹنگ ہورہی ہوتو کرائمز رپورٹنگ میں رپورٹر کی ذاتی رائے زیادہ نہ ہوبلکہ یہ حقائق پر مبنی ہواور کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کرائمز رپورٹنگ پولیس ایف آئی آراور ان سے لی گئی معلومات کے مطابق ہوکیونکہ کوئی بھی کرائم رپورٹ دیتے ہوئے اگررپورٹرغیرضروری طورپر اپنی رائے زیادہ ظاہر کرتاہے تواس سے اس کوجرائم پیشہ عناصرکی جانب سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔مثال کے طورپراگرکسی پولیس مقابلے میں ایک یاایک سے زائد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں اور پولیس دعویٰ کرتی ہے کہ یہ اشتہاری مجرم تھے تواس حوالے سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاپررپورٹ پولیس کی ایف آئی آرکے مطابق آنی چاہئے اور اس قسم کی واقعاتی اور حادثاتی رپورٹنگ پولیس کی رائے اورعوامی تاثرات پر مبنی ہونہ کہ رپورٹرکی اپنی رائے پر کیونکہ اس سے رپورٹر کے لئے مسائل پیداہوسکتے ہیں۔مثال کے طورپر اگر رپورٹراپنی طرف سے یہ تجزیہ پیش کرتاہے کہ ہلاک یاگرفتارہونے والے تو پیشہ ور قاتل تھے،بھتہ خوراور منشیات کے سمگلر تھے اوریہ تو معاشرے کے لئے ناسور تھے توفنی اعتبارسے یہ مناسب نہیں ہوگا کیونکہ رپورٹر کی اس طرح کی رائے سے ایک طرف رپورٹر عدم تحفظ کاشکارہوجاتاہے تودوسری جانب اس کی ایسی کوئی بھی ذاتی رائے مقدمے کارخ موڑنے اور پولیس تفتیش اور عدالتی کارروائی کے دوران کسی ایک فریق کو فائدہ یانقصان پہنچانے کاذریعہ بھی ثابت ہوسکتا ہے ۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس قسم کے جرنلزم کی متعددمثالیں موجود ہیں ڈویلپمنٹ سٹوری کرتے ہوئے رپورٹر اس بات کوبھی یقینی بنائیں کہ اس کی رپورٹ محض سنی سنائی باتوں اور واہیات پرمشتمل نہ ہوبلکہ حقائق اور بھرپور معلومات پرمبنی ہوجبک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button