تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

صنعتی تحقیق اور حکومتی ذمہ داریاں

maqsood anjumوفاقی جمہوریہ جرمنی کی حکومت سا ئنس اور ٹیکنا لوجی کی تحقیق کے فروغ کیلئے جو اقداما ت اُٹھا رہی ہے ۔اس سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کو بہت فائدہ پہنچ رہا ہے ۔اور مختلف شعبوں میں اس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں بون کی وفاقی حکومت کیلئے یہ با ت دلی اطمینان کی با عث ہے کہ یورپی برادری کے تحقیقی پروگرام سے اتحاد اوریک جہتی کو بھی بہت فائدہ پہنچاہے ۔وفاقی حکومت بارہا واضع کر چکی ہے کہ یہ حکومت کا کام نہیں ہے کہ وہ کمپنیوں اور صنعتوں کوبتائے کہ انہیں کس سمت پیش قدمی کرنی چائیے اپنے لئے شعبے اور سمت کا تعین کرنا خود سرمایہ لگانے والوں کا کام ہے ۔البتہ حکومت ان کی مدد کرنے کیلئے کئی مراعات ترجیحات اور سہولیات فراہم کرتی ہے مثلاًٹیکس میں چھوٹ اور ظابطوں میں نرمی کرنا ،پہلے سے موجود سرکاری شعبے کے حوالے کرنا اور اسی طرح کے کچھ اور اقدامات کے ذریعے ماحول کو نجی شعبے کیلئے سازگار بناتی ہے بعدازاں حکومت کمپنیوں اور صنعتوں سے یہ تو قع رکھتی ہے کہ وہ نئی نئی ٹیکنا لو جی دریا فت کر ے اور اسے استعمال کر کے نئی چیزیں اور مصنو عا ت متعا رف کروائے اور ان کی کھپت کیلئے نئی منڈیا ں تلا ش کریں ۔1990میں جر منی میں مجمو عی طو ر پر 70
ارب ما رک خر چ کیے گئے جس میں 4ارب ما رک حکو مت نے خر چ کیے وفا قی جمہوریہ جر منی میں تحقیق سے متعلق پا لیسوں کا مقصد تحقیق کی آزادی اور اس ضمن میں بین الا اقوامی تعا ون ہے اور ان تما م پا لیسوں کا منتہا ئے مقصود یہ ہے کہ مسلسل تحقیق کے ذریعے ایسے ذرائع اور
ٹیکنا لو جی کی دریا فت کا سلسلہ جا ری رہے جس سے بنی نو ع انسا ن کی زند گی کو بہتر بنا یا جا سکے ۔ اس مقصد کے حصول کیلئے دیگر کئی شعبو ں کے علا وہ سمند روں ،قطبین اور لا محدود خلا ء میں تحقیق کو آ گے بڑھا یا جا رہا ہے اس کے سا تھ ہی اس با رے میں بھی تحقیق اور کو ششیں جا ری ہیں کہ ابتک کی صنعتی تر قی سے ما حو ل ،فضاء اور انسا نی صحت کیلئے جو مسا ئل پید ا ہو چکے ہیں ان سے کس طر ح نمٹا جا سکتا ہے اور ہر نئی ٹیکنا لو جی کی دریا فت کے سا تھ یہ بھی خیال رکھا جا ئے کہ ا س سے انسا نی زندگی پر مضر اثرات مرتب نہ ہو ں ۔یو ں تو جر منی میں تحقیق کی روایت بہت پر انی ہے لیکن وفا قی جمہوریہ جر منی میں جدید ٹیکنا لو جی پر تحقیق کا سلسلہ واقتعاً کئی بر س پہلے شروع ہو ا تھا گزشتہ 15بر سو ں میں وفا قی
جمہوریہ جر منی نے اطلاعات کی ٹیکنا لو جی میں ما ئیکر و الیکٹرونکس کمیو نیکیشن انجینئرنگ ، بائیولوجی یعنی حیا تیات کے شعبے میں جنٹک یعنی جنیاتی مولیکیولر یعنی سالماتی اور بائیولوجی میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔
جرمن حکومت تحقیق کے فروغ پر اپنے فنڈزکا تقریباً19فیصد جاپان 13فیصد امریکہ صرف بارہ فیصد خرچ کرتا ہے جرمن حکومت چاہتی ہے کہ نئی نئی سائنسی دریا فتوں کوکس طرح زیادہ سے زیادہ موثراندازمیں استعمال کیا جائے تا کہ مصنوعات کی پیداوار کی رفتار تیز سے تیزتر کی جا سکے جر من اور جاپان سائنس اور ٹیکنالوجی کی تحقیق کو فروغ دینے میں شب وروز مصروف ہیں اسی لئے صنعتی شعبہ میں مثالی اور انقلابی نتائج مل رہے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ہما رئے ہاں حکومت نہ توخود کچھ کرتی ہے اور نہ ہی پرائیوئٹ کمپنیوں اور صنعتی اداروں کو کچھ کرنے دیتی ہے ۔
مراعات و سہولیات کو چھوڑئیے چھوٹے چھوٹے مسائل کے تدارک کیلئے بھی عملی تعاون فراہم نہیں کیا جاتا ۔افسر شاہی کو لگام نہیں دی جاسکی سیاسی مداخلت نے بڑے بڑے خدماتی و صنعتی اداروں کو برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔بھتہ خوروں اور بلیک میلروں نے بھی کمرشل کمپنیوں اور صنعتی اداروں کو یر غمال بنا رکھا ہے ان کے پیچھے بھی بڑے بڑے پاپی سیاستدانوں کا ہاتھ ہے۔
ہماری حکومت تحقیقی پروگراموں میں 2فیصدتک حصہ ڈالتی ہے بجٹ کا زیادہ تر حصہ جمہوریت کھا جاتی ہے ۔تعمراتی وترقیاتی منصوبوں کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے کوئی احتسابی ایجنسی آزادی سے کا م نہیں کر سکتی بڑے بڑے اہم اداروں کی سربراہی کرپٹ و بدعنوان شخصیتوں کو سونپ دی جاتی ہے جو اربوں روپے لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں۔جنہیں جب عدلیہ پکڑنے کی کوشش کرتی ہے تو حکمران آڑے آجاتے ہیں ۔اس وقت کھربوں روپے لٹیروں نے ہضم کر لئے ہیں ۔ان حالات میں ہمارے ملک میں صنعتی و سائنسی تحقیق کس طرح فروغ پاسکتی ہما ری سب سے بڑ ی بد قسمتی یہ ہے کہ ہم سب چوروں اورلٹیر وں کے پیٹی بھائی ہیں ۔
کرپشن ایک ناسور بن کر ہمارے جسم میں سرایت کر چکی ہے ۔
جس ملک میں کرپشن دینی مدرسوں اور مسجدوں کی د ہلیزیں پھلانگ چکی ہو وہاں ترقی و خوشحالی کا خواب دیکھناسورج کو چراغ دیکھانے کے مترادف ہے یہی وجہ ہے کہ اماموں ،عالموں ،خطیبوں اور مذہبی سکالروں کی دعائیں اور روحانی وظیفے بھی کام نہیں آرہے جب اپنا من ہی پاپی ہو تو آفتیں اور بلائیں کب جان چھوڑتی ہیں ۔ہمارا ہر شعبہ نجی ہویا حکومتی کرپشن کی دلدل میں گلے تک دھنسا ہوا ہے ۔ہمیں جھوٹے خوابوں نے آن لیا ہے آج ہماراحال یہ ہے کہ ہمیں دن کو بھی خواب نظر آنے لگے ہیں ایسے خواب جو ہمیں دوزخ کی طرف لے جا نے پر اصرار کرتے ہیں ۔خدارا ہو ش کے ناخن لو چھوڑو برادریاں ،پارٹیاں اور سیاسی وفاداریاں اپنے قمتی ووٹ سے اپنی اندھر دنیامیں اُجالا کر لو ۔
لٹیر وں بلیک میلروں،بھتہ خوروں اور سیاسی بھیڑیوں سے چھٹکارا حاصل کر لو باہر سے کوئی نجات دہندہ نہیں آئے گااور نہ ہی آسمان سے آپکی دنیابدلنے کیلئے فر شتے نازل ہو نگے خدا بھی اُنکی حالت نہیں بدلتا جو خود اپنی حالت بد لنے کے خواہا ں نہ ہوں ۔ہم نے اپنی کو تاہیوں ،لاپروائیوں اور بدمعاشیوں سے اپنے کمزور دشمنوں کو بھی سر پر مسلط کر لیا ہے ہمت کرو ابھی وہ مقا م نہیںآیا کہ ہم پر فالج غالب آچکاہو کیا ہمیں طارق بن زیاد بن کر دشمنوں پر ٹوٹ پڑناچائیے یا پھر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر بن کر غلام بن جاناچائیے فیصلہ آپکے ہاتھوں میں ہے۔ خدارا انقلاب لانے کیلئے کسی دیانت دار اور محب وطن شخص کو ووٹ دیجیے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button