تازہ ترینفیصل اظفر علویکالم

تحریک انصاف کا امن مارچ

پاکستان کی حقیقی مقبول ترین سیاسی جماعت اور مقبول ترین لیڈر عمران خان نے وزیرستان کی جانب اپنے اعلان کردہ امن مارچ کا آغاز کرکے قوم کے دل جیت لئے‘ بلا شبہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت بھی عوام میں اسی طرح مقبول ہے جس طرح وہ گذشتہ کچھ ماہ قبل تھی‘ عمران خان اور تحریک انصاف کی مقبولیت میں کمی کے سروے حقیقت میں کوئی معنی نہیں رکھتے‘ میرا ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن کا طالبعلم ہونے کی حیثیت سے اس طرح کے سرویز اور اور تحقیق کے ان پہلوؤں کے حوالے سے زیادہ نہ سہی لیکن تھوڑا بہت تو تجربہ ہے‘ حقیقت میں ایسے سرویز اور سروے کروانے والے ادارے بھی مخالف جماعتوں کی مقبولیت میں کمی بیشی کیلئے سیاسی غنڈوں کا ہتھیار بنتے ہیں‘ اعداد و شمار کا گورکھ دھندا رکھنے والے ملک پاکستان میں کئے جانے والے اس طرح کے سرویز اپنی کوئی ٹھوس بنیاد‘ سروے کے طریقہ کار اور سروے کے 100 فیصد درست ہونے کا ہی جواز پیش نہیں کر سکتے تو وہ کسی مسئلے‘ سوچ یا سیاسی جماعت کے بارے میں کیا سروے کریں گے؟
قارئین کرام! میرے ذاتی خیال میں اس طرح کے سروے تحریک انصاف کی حقیقی مقبولیت کو نقصان پہنچانے کیلئے سامنے آ رہے ہیں یا لائے جا رہے ہیں‘ بہر حال تحریک انصاف کے سلجھے ہوئے‘ پڑھے لکھے ممبران کو اس طرح کے سرویز کی کوئی پرواہ نہیں‘ حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد وطن عزیز کو عمران خان کی صورت میں ایسا لیڈر میسر آیا ہے جس نے حقیقی معنوں میں پاکستان کے پڑھے لکھے نوجوان طبقے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور انہیں اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ ملکی سیاست میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے انتظامی ڈھانچے میں موجود ناسوروں اور پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لٹیروں سے وطن عزیز کی جان چھڑوائیں‘ سروے کے مطابق (ن) لیگ مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے‘ اگر میاں نواز شریف کے رائے ونڈ کے محل میں بیٹھ کر گستاخانہ فلم کیخلاف ایک چھوٹا سا بیان دینے سے ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے تو آپ خود اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے؟ خیر (ن) لیگ کے چمچہ گیر سیاستدانوں کو اس سروے نے عرصہ بعد خوش ہونے کا کوئی تو موقع فراہم کیا‘ موجودہ ملکی حالات میں جب ہر طرف وزیرستان میں دوبارہ فوجی آپریشن کی باز گشت سنائی دے رہی تھی تو ایسے میں عمران خان کا وزیرستان امن مارچ کا علان کرنا اور اس پر عمل در آمد کرنا انتہائی ہمت و حوصلے کا کام ہے‘ تحریک انصاف کا امن مارچ وزیرستان میں مثبت تبدیلیوں کا اغاز لا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی مخالف جماعتوں کے پیروں تلے زمین نکلتی جا رہی ہے اور اسی بوکھلاہٹ میں وہ عمران خان کے امن مارچ کو ’’ٹوپی ڈرامہ‘‘ جیسے خطابات سے نواز رہے ہیں‘ عمران خان اس وقت ملکی سیاست میں ایسے لیڈر کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے تمام بڑے بڑے چوروں‘ ڈاکوؤں اور لٹیروں کے تن بدن میں آگ لگائی ہوئی ہے‘اسی وجہ سے تحریک انصاف کے مخالفین میں شدید بوکھلاہٹ پائی جاتی ہے۔
اگر میاں نواز شریف اور ان کے حواریوں کے اس بیان کو درست ہی تسلیم کر لیا جائے کہ عمران خان کا امن مارچ ایک ٹوپی ڈرامہ ہے تو میں یہ کہتا ہوں کہ میاں صاحب! ایسا کوئی ’’ٹوپی ڈرامہ‘‘ آپ بھی کر کے دکھا دیں اگار آپ میں اتنی جرات ہے تو؟ رائے ونڈ کے محل میں بیٹھ کر بیان دینے سے کام نہیں چلتا‘ گستاخانہ فلم کیخلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے D چوک پر عملی احتجاجی مظاہرہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ گستاخانہ فلم سے کس کے کتنے جذبات مجروح ہوئے‘ اگر عمران خان کا ڈی چوک اسلام آباد میں گستاخانہ فلم کیخلاف ریلی کی قیادت کرنا اور وزیرستان امن مارچ کرنا ’’ٹوپی ڈرامہ‘‘ ہے تو آپ بھی میدان میں آئیں اور صرف ایک عدد ایسا ’’ٹوپی ڈرامہ‘‘ کرکے دکھائیں‘ عوام اچھی طرح جانتی ہے کہ عمران خان کے سوا اس وقت ملک میں کوئی اسیا لیڈر نہیں جو ان حالات میں وزیرستان امن مارچ کا بیڑہ اٹھائے‘ اب عوام کو پتہ چل گیا ہے کہ ن لیگ اور دیگر جماعتوں کی مقبولیت صرف کئے جانے والے سرویز تک ہی رہ گئی ہے‘ اب وہ دور گیا جب مخصوص ذہنیت کا طبقہ ’’تیرا لیڈر‘ میرا لیڈر‘‘ کے نعرے لگا کر ووٹ ڈال دیتا تھا‘ اب نوجوان نسل جاگ گئی ہے‘ انشاء اللہ کامیاب امن مارچ کی طرح کامیابی سے ملک میں موجود چوروں‘ ڈاکوؤں اور لٹیروں کا صفایا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں  وہاڑی: میری بیٹی سفینہ کوثر کے بیوٹی پارلر پر کام کرتی تھی جہاں اسکے بھائی نے زیادتی کا نشانہ بنایا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker