تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

تحریک کے باغی اور نشانِ عبرت

zafar ali shah logoاسفندیار ولی خان پختون قومی تحریک کے سربراہ اور خان عبدالولی خان کے مشن کے ناگزیر تسلسل ہیں ان کے خلاف بیان بازی باچاخان سے غددّاری کے مترادف ہے یہ بیان ہے حالیہ دنوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی خان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے دکھائی دیتے سینیٹر اعظم خان ہوتی کے فرزند سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور ممبر قومی اسمبلی امیر حیدر خان ہوتی کا جو انہوں نے اپنے دورہ چین سے واپسی پر جاری کیا ہے اپنے بیان میں ان کا مزید کہنا یہ ہے کہ اسفندیار ولی خان پختون سیاست کی علامت اور پختون قومی تحریک کے قائد ہیں عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ کوئی رُکن اُن کے خلاف ایسی بیان بازی کو کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا ۔اسفندیار ولی خان کے خلاف اپنے والد سینیٹراعظم ہوتی کی جانب سے حالیہ بیانات کے تناظر میں سابق وزیراعلیٰ کا واضح کہنا یہ ہے کہ ان کے لئے اولین رشتہ پختون قومی تحریک ہے جس کے قائد اسفندیارولی خان ہیں اور باقی تمام رشتے باچاخان اور خان عبدالولی خان کی تحریک پر نچھاور کئے جاسکتے ہیں۔انہوں نے ان بیانات کو منفی اور مضحکہ خیز قراردیاہے جن میں اسفندیارولی خان کی ذات پر کیچڑاُچھالنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ اسفندیارولی خان کے خلاف بیانات اور کارکنوں کو بغاوت پر اکسانے کو بنیاد بناکر عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے سینیٹر اعظم ہوتی کو جاری کردہ شوکازنوٹس کے حوالے سے اپنے بیان میں حیدرہوتی کا کہنا یہ ہے اس پر سخت کارروائی کرتے ہوئے تحریک کے باغیوں کو نشانِ عبرت بنایاجائے۔اس سے قبل جب سابق وزیراعلیٰ صحافیوں اور سیاستدانوں پر مشتمل وفد کے ہمراہ بیرونِ ملک دورے پر تھے اور ان کے والد سینیٹراعظم خان ہوتی نے بیانات کے ذریعے گیارہ مئی کے عام انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کی شکست کو تاریخ کی بد ترین شکست اور اسے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی نااہلی اور غلط فیصلوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسفندیار ولی خان سے پارٹی معاملات سے دستبرداری اور اے این پی چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر پارٹی کی جانب سے انہیں شوکازنوٹس جاری کیا گیا تو عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھایاجارہا تھا کہ اعظم ہوتی نے پارٹی قیادت کے خلاف شکایات اور الزامات پر مبنی جو بیانات دیئے ہیں جن میں اسفندیار ولی کی ذات کو خاص طور پر نشانہ بنایاگیاہے تو کیا ان کے بیٹے حیدر ہوتی کو بھی پارٹی قیادت سے ایسی شکایات ہیں اگر ہیں تومنظرعام پر کیوں نہیں آئیںیا کب آئیں گی؟ اور اگرا نہیں پارٹی قیادت سے شکایات اور اختلافات ہیں نہ ہی اپنے والدسے اتفاق توپھراپنے والد کے اس عمل پر ان کا ردِعمل کیا ہوگا؟ اگرچہ سیاسی معاملات کس وقت کیا رُخ اختیار کرتے ہیں حتمی اوریقینی طورپر کچھ نہیں کہا جاسکتا جبکہ سیاست میں کوئی بات حرفِ اَخر بھی نہیں ہوتی سواس تناظر میں اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ اے این پی اور اعظم ہوتی کے مابین پیش آنے والا یہ معاملہ مزید بگڑنے اور اُلجھنے کی بجائے سُلجھ بھی جائے کیونکہ ایسے سیاسی معاملات اور تنازعات کا پیش آنا اور بعد میں فریقین کے عذرمعذرت کی بناء پر ان کا تصفیہ ہوجانا سیاسی عمل میں اکثر دیکھنے کو ملتاہے تاہم سیاسی حلقے اور سیاسی اُمورپر نظررکھتے عوامی حلقے یہ سوال بھی اٹھارہے تھے کہ اگراے این پی اور اعظم ہوتی کے مابین اختلافات کی نظرآتی موجودہ صورتحال مزید کشیدگی کی جانب بڑھتی ہے اور ایسے میں خود پارٹی کو الوداع کہنے یا شوکازنوٹس پر کاروائی کی صورت میں پارٹی سے نکالے جانے پر اعظم خان ہوتی مستقبل قریب میں نئی حکمت عملی اپناکرنئی سیاسی صف بندی کی جانب آگے بڑھتے ہیں جس کا امکان بظاہر زیادہ نظرآتاہے کیونکہ سیاسی اُمور کے ماہرین کے نزدیک اس وقت پارٹی اور اعظم ہوتی کے مابین اختلافات کی نوعیت ، رویوں میں تلخی اور ان تلخیوں میں آئے روز نظر آتی شدت کو سامنے رکھتے ہوئے اعظم ہوتی کی پارٹی میں واپسی کا امکان بہت ہی کم دکھائی دیتا ہے تو ایسے میں ان کے فرزند امیر حیدر خان ہوتی کہاں کھڑے نظر آئیں گے کیونکہ ایک طرف اپنا سیاسی مستقبل ہو پھر ماموں اور ان کی قیادت میں اس پارٹی کالحاظ بھی مدنظرہو جس نے کم عمری میں انہیں وزارت اعلیٰ جیسے بڑے اہم ،ذمہ دار اوراقتدار کے بااختیارمنصب پر فائز کیا تھاوہ بھی ایسے حالات میں جبکہ وزارت اعلیٰ کے منصب کے لئے بشیر بلور جیسے مضبوط امیدوار اور بڑے برج موجود تھے اور آج بھی اگر وہ منتخب ممبر کی حیثیت سے منتخب ایوان میں موجود ہیں تو یہ اسفندیار ولی جیسے ماموں کی قیادت میں ان کی جماعت کی وجہ سے جبکہ وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے کا عمل ہو یا موجودہ منتخب ایوان تک رسائی کا مرحلہ۔۔ بلاشبہ ہر مرحلے پر ان کے ماموں کاکتنااہم کردار رہاہوگاسمیت بانی تحریک باچاخان کے پوتے اوررہبرتحریک خان عبدالولی خان کے فرزند ہونے کی حیثیت سے اسفندیارولی کا سیاسی قد کاٹھ اور اے این پی میں ان کی اہمیت کیا ہے اس کا ادراک بھی ہوگا حیدرہوتی کو لیکن دوسری وکٹ پر کھیلنے والا اگروالد ہو تو ایسے میں پارٹی کا ساتھ دے کر والد کے مقابلے میں آنے یا والد کے مؤقف کودرست مانتے ہوئے پارٹی کی مخالفت کرنے جیسے دو اہم ٹیموں میں کسی ایک کا انتخاب کرنا بلاشبہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے اور ایسے میں سوالات بھی سر اٹھاتے رہتے ہیں لیکن سابق وزیر اعلیٰ نے کہیں متوقع تو کہیں غیر متوقع طور پرنہ صرف
پارٹی اور پارٹی کے سربراہ کے حق میں بیان دے کر سوال اٹھانے والوں کا منہ بند اور اپنی پوزیشن واضح کردی ہے بلکہ اس حقیقت کے باوجود کہ اعظم ہوتی ان کے والد ہیں انہوں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ شوکاز نوٹس پر کارروائی اس قدر ہو کہ تحریک کے باغیوں کو نشانِ عبرت بنایاجائے۔بہرحال قطع نظر اس کے کہ اعظم ہوتی اے این پی میں رہتے ہیں یا بچھاتے ہیں نئی سیاسی بساط البتہ امیرحید ہوتی اگر اپنے اس عزم پر قائم رہتے ہیں جس کا اظہار انہوں نے اپنے حالیہ بیان میں کیا ہے تو ایسے سیاسی فیصلے اگرچہ ہمارے روائتی سیاسی عمل میں بہت کم لئے جاتے ہیں مگر ان جیسے فیصلوں اور اقدام کی ضرورت بھی ہے اوران کی اہمیت و حیثیت کو بھی کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتااور اس سے پارٹی میں ان کا مقام کیاہوگا، کتنی عزت و محبت سے انہیں یاد کیا جائے گا اور اس کا انہیں انعام کیا ملے گا اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا جبکہ سیاست میں دوراندیشی کے ساتھ مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا اوربلا خوف و جھجک دوٹوک فیصلہ لینا کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔note

یہ بھی پڑھیں  وزیر اعظم کا آرمی چیف کو فون، کارروائیاں بھرپور قوت سے جاری رکھنے کا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker