بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

اسلام آباد۔۔۔۔۔۔ تحریر اسکوائر

bashir ahmad mirگذشتہ روز کراچی جناح گراؤنڈ عزیز آبادمیں سفر انقلاب پاکستان ریلی کا انعقاد،ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور تحریک منہاج القران کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کے خطابات جو ہماری سیاسی تاریخ میں نئی بنیاد بننے جارہے ہیں انتہائی توجہ طلب حالات کی نشاندھی کر رہے ہیں ،اپنے خطاب میں ڈاکٹر طاہر القادری نے پہلی بار مستقبل کی حکمت عملی کی جانب واضح اشارہ دیا ہے کہ 14جنوری کو اسلام آباد میں دنیا کا سب سے بڑا تحریر اسکوائر بنے گا، ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ تحریر اسکوائر پرامن اور خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہایا جائے گا،عوامی پارلیمینٹ نگران حکومت کا فیصلہ کریگی،انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے انقلاب کی سب کو دعوت دی مگر جس انداز سے الطاف حسین اور ایم کیو ایم نے لبیک کہا اور غریب کے لئے اٹھنے والی آواز کا ساتھ دیا اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ ایم کیو ایم نے قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ،14جنوری کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا جائے گا اور مطالبات پورے ہونے تک واپس نہیں ہونگے،ریلی سے ایم کیا ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ 14جنوری کو اسلام آباد میں جاگیر دارانہ،سرمایہ دارانہ نظام ،کرپٹ سیاسی کلچر،مورو ثیت اور اجارہ داری ،قومی دولت لوٹنے والوں ،قرضے معاف کرنے والوں سے نجات کا دن ہو گایہ عوامی مارچ نہ انتخابات کے التواء ،جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے لئے نہیں بلکہ یہ عوامی مارچ پاکستان کو بچانے ،انتخابی نظام میں اصلاحات ،نظام انصاف کے قیام ،ملک کو مضبوط و خوشحال بنانے کی جانب قدم ہوگا،انہوں نے کہا کہ مسلح افواج اور قومی سلامتی کے ادارے پاکستان کے تحفظ کے لئے انقلاب کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں ۔کراچی کی ریلی میں دو اہم قومی رہنماؤں کے خطاب کا مختصر متن پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قارئین کو پیش آمدہ حالات سے باخبر کیا جائے اور اس اہم سیاسی موڑ پر سیاسی جماعتوں کے کردار پر بھی نظر ڈالی جائے نیز مستقبل کے حالات پر بھی اشارے جو مل رہے ہیں اس پر بھی بات کی جائے ۔
سب سے پہلے تحریر اسکوائر کی تاریخ کو دیکھتے ہیں کہ وہ کیا ہے ۔تحریراسکوائر مصر کا وہ چوک ہے جو 19صدی میں نہر سوئیز تعمیر کرنے والے حکمران اسماعیل پاشا کی مناسبت سے میدان اسماعیلیہ کے طور متعارف کیا گیا بعد ازاں 1919کے انقلاب مصر کے بعد اسے آذادی چوک یا تحریر چوک سے یاد کیا گیا ۔1952ء میں سرکاری طور پر اسے تحریر اسکوائر قرار دیا گیا۔11 تحریر اسکوائر میں فروری 2011ء کو 18روزہ مسلسل مظاہروں ،دھرنوں اور پر تشدد حالات ، قریباً ایک ہزار شہریوں کی ہلاکتوں ،چھ ہزار سے زائد زخمیوں کے بعد 30سالہ حکمران حسنی مبارک کو اقتدار چھوڑنا پڑا ،اس تحریک کا پس منظر یہ تھا کہ ملک میں طویل شخصی حکمرانی کے سبب قریباًسات لاکھ بے روزگار نوجوان مایوسی کا شکار ہوئے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے افراط زر پیدا کر دیا جبکہ ملک میں کرپشن نے بھی زور پکڑ لیا تھا ان اسباب کے پیش نظر تیونس میں خراب حالات پیدا ہوتے ہی مصری عوام کو جگا دیا اور ایک گمنام تحریک کا ایک دم آغاز ہوا جس میں بچے ،جوان اور بوڑھے شامل ہو گے اور اس تحریک میں بے شمار جانیں قربان ہوئیں آخرکار حسنی مبارک کو جانا پڑا۔
جب ہم تحریر اسکوائر کی تاریخ کی جانب پلٹتے ہیں تو ہمیں سب سے اہم یہ بات نظر آتی ہے کہ مسلسل 30سالہ شخصی حکمرانی اس تبدیلی کی اہم وجہ بنی،اگر چہ عالمی سطح پر معاشی بحران کے سبب بے روزگاری اور مہنگائی کا نہ تو حسنی مبارک کے پاس کوئی علاج تھا اور نہ ہی دو سال گذرنے کے بعد مصری صدر محمد مرسی بھی اس کا خاتمہ نہ کر سکے ،جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے تو یہ بھی عالمی مسئلوں میں سے ایک بڑا مسئلہ ہے جسے تبدیلی لانے والوں نے کسی حد تک کنٹرول کرنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔
اب پاکستان کے مختصر حالات پر نظر ڈالتے ہیں کہ کیا ’’مصری طرز انقلاب ‘‘کے ہم متحمل ہو سکتے ہیں۔۔؟؟ وطن عزیز میں طویل آمرانہ ادوار گذرنے کے بعد 2008ء میں جمہوری حکومت قائم ہوئی ،اگرچہ ماضی میں بھی جمہوری حکومتیں رہیں مگر وہ نیم جمہوری اور چند برسوں تک محدود رہیں ،سابق وزراء اعظم ذوالفقار علی بھٹو،بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی حکومیتں بلاشبہ جمہوری تھیں مگر سازشوں اور نا عاقبت اندیشوں کی کارستانیوں کے سبب اپنی آئینی مدت بھی پوری نہ کر سکیں ۔مشرف کے طویل دور میں معاشی حالات خراب ہوئے اور سابق صدر ضیاء الحق کی مہربانی سے کلاشنکوف کلچر بڑھتے بڑھتے آج دہشتگردی کی شکل میں ملک کو ہر لحاظ سے کمزور کرتا جا رہا ہے۔حقیقت حال یہ ہے کہ دہشتگردی نے ہمارا معاشی نظام بری طرح متاثر کر رکھا ہے ،ان غیر یقینی حالات میں جمہوری حکومت کا پھلنا پھولنا کسی معجزے سے کم نہیں۔اب انتخابات سر پر پہنچ چکے ہیں ،بلکہ ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ آئندہ ہفتے تک نگران سیٹ اپ تشکیل پا جائے گا اور انتخابات کا اعلان بھی کر دیا جائے گا۔اس صورت حال میں ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد اور ان کی سرگرمیاں جہاں خوش آئند مستقبل کا بظاہر احاطہ کر رہی ہیں وہیں بہت سے خطرات اور خدشات کی نشاندھی ہو رہی ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد اور انہیں ایم کیو ایم ،ق لیگ کی غیر متوقع حمایت یقیناًآکسیجن سے کم نہیں ،یہ دونوں سیاسی جماعتیں حکومت کی اتحادی بھی ہیں ،لیکن 14جنوری کے معرکہ میں ان کا کیا کردار ہو گا اس کا شبہ پایا جاتا ہے کہ کہیں در پردہ اشاروں پر صدر زرداری کو بے خبر رکھ کر ’’حسنی مبارک‘‘بنانے کی تیاری تو نہیں کی جا رہی ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری اور الطاف بھائی کے خطاب سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ کچھ انہونی صورت حال کی جانب بڑھ رہے ہیں ،اگر 14جنوری کو اسلام آباد تحریر چوک بن جاتا ہے تو اس کا واضح مطلب و معنی یہ ہے کہ موجودہ حکمرانی کو چلتا کئے بغیر کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہو سکتا،پھر الطاف بھائی نے افواج پاکستان کو دعوت اشتراک بھی دے دی ہے اس سے بھی خدشات ہیں کہ کچھ ہونے والا ہے۔۔؟ اس سارے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت باالخصوص سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جانے انجانے میں تحریر اسکوائر بنانے کی کوشش نہ کریں ورنہ ساری بساط الٹ سکتی ہے۔ضروری ہے کہ فوری طور پر عام انتخابات کا اعلان کیا جائے ،اقتدار سے چمٹنے کی حرص خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جس کے پیش نظر ڈاکٹر طاہر القادری کی مثبت تجاویز پر عمل کیا جائے اسی میں جمہوریت اور ملک کی بہتری ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ملکی تاریخ میں پیٹرول کی قیمت اپنی بلند ترین سطح پر آگئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker