تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

تہذیبِ محمدی اور کائنات کی بد تہذیب قوم امریکی

کائنات کی وہ ہستی جس نے عرب کے بدووں کو تہذیب سیکھائی ۔یہ دنیا جو جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی ۔تہذیب و تمدن نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔آقائے دو جہاں ﷺ کی شمع ہدایت کی بدولت صدیوں سے ایک دوسرے کی جان کے پیاسے ایک دوسرے کی جان کے محافظ بن گئے ۔دشمنی کی جگہ پیار و محبت اور خلوص نے لی۔جن کو کھانے پینے کی تہذیب نہیں تھی ۔جن کو معاشرے میں رہن سہن کا ڈھنگ نہیں تھا وہ مہذب بن گے ۔میں پھر یہ ہی کہوں گا کہ تہذیب کا مادہ ہی عرب سے شروع ہوا اور میرے پیارے آقاﷺ کی آمد سے شروع ہوا اور پوری دینا میں پھیلتا چلا گیا ۔پیارے نبیﷺ کی آمد سے قبل عرب کے قبائلی لوگ ذرہ ذرہ سی بات پر لڑتے جو کئی صدیوں تک جاری رہتی ۔ عورتوں کو معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا اسلام نے عورت کو ان کے جائز حقوق دلوائے ۔ماں بہن بیٹی بیوی جیسے مقدس رشتوں کی لڑی میں پرو دیا ۔ میرے آقا ﷺ کے آجانے سے ماں کے قدموں تلے جنت آگئی بیٹی اللہ کی طرف رحمت سے بن گی ۔یہ وہ تہذیب ہے جو نبی ﷺ نے سیکھائی
آج دنیا کا سب سے بدتہذیب ملک بے غیرت امریکہ اپنے آپ کو مہذب سمجھتا ہے ۔جہاں تہذیب نام کی کوئی چیز ہی نہیں ۔ سب سے زیادہ چوری امریکہ میں ۔سب سے زیادہ قتل و غارت امریکہ میں ۔ زنا کی انتہا امریکہ میں ۔یہاں تک کہ ان کا ایک ٹولے کا کہنا ہے کہ انسان ننگا پیدا ہوا ہے لہذا انسان کو ہمیشہ ننگا ہی رہنا چاہیے ۔یہ نظریات صرف اپنی جنسی خواہش کی تسکین کے لیے ہے ۔اور ایسی بد تہذیب قوم جن کے بوڑھے اور بچے تو کئیر سنٹروں میں پلتے ہیں اور کتے گھروں میں ۔بچے گھروں میں اور کتے گودوں میں
اللہ تعا لیٰ نے اپنے مقد س کلام میں فر ما یا ،اور ہم نے آ پ کا ذکر بلند کر دیا،نبی ﷺ پو ری کا ئنا ت میں سے ہر لحا ظ سے اعلیٰ ہیں۔ آپﷺ جما ل میں بھی اعلیٰ کما ل میں بھی اعلیٰ صورت میں بھی اعلیٰ سیر ت میں بھی اعلیٰ عالمِ اروہ میں اللہ تعا لیٰ نے تما م انبیا ء کی رو حوں کو اکٹھا کر کے ایک سوال کیا اے میر ے نبیوں میں تمہیں نبوتیں اور رسا لتیں دیں کر دنیا میں بھیج دو تمہا ری نبو توں اور رسا لتوں کا سکاہ قا ئم و دائم ہو اسی دوران میں اپنے ایک آخری پیغبر ﷺ کو بھیج دوں تو تم کیا کر و گے ۔ سب نے با یک زبان جو اب دیا اے اللہ ہم اپنی نبو تیں اور رسا لتیں چھو ڑ کر پیغبرِ آ خر ا لذما ں کے پر و کا ر بن جا ئے گے اس سے نبی ﷺ کی عظمت ، رفعت اور بلندی کا اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ کہ آ پ ﷺ ایک لا کھ چو بیس ہزار کم و بیس انبیا ء میں سے اعلیٰ ہیں ۔نبی ﷺ کی ذات گرامی کے با رے میں آپ ﷺ کی ہر بیو ی اس با ت کی شہا دت دے رہی ہے کہ میر ے خا و ند محمد ﷺ جیسا کا ئنا ت میں اور کو ئی نہیں۔ نبی ﷺ کے ڈیڑھ لا کھ کے قر یب شا گر د ہیں، لیکن ہر شا گر د اس با ت کی گو اہی دے رہا ہے۔ کہ میر ے استا د جیسا اس کا ئنا ت میں اور کو ئی نہیں ۔شیما ء اس با ت کی گو ہی دے رہی ہے کہ محمد عر بی ﷺ جیسا اس کا ئنا ت میں اور کو ئی نہیں۔ حلیمہ سعد یہ اس با ت کی گو ا ہی دے رہی ہیں کہ محمد عر بی ﷺجیسا انسان اس کا ئنا ت میں اور کو ئی نہیں۔ جبر یل امین سے پو چھو ، حضر ت جبر یل امین ؑ فر ما تے ہیں۔ میں مشر ق ، مغر ب ، شما ل ، جنو ب میں بڑے بڑے نبیوں کے پا س گیا اور ان کی زیا ر تیں کیں ، لیکن پو ری زند گی محمد عر بی ﷺ جیسا انسا ن میں نے بھی نہیں دیکھا۔
و ہا بی، دیو بند ی ، بر یلو ی ، حنفی، شا فعی، ما لکی ، حنبلی سا رے اس با ت کی شہا دت دے رہے ہیں کہ محمد عر بی ﷺ جیسا اس کا ئنا ت میں اور کو ئی نہیں۔سا را جہا ن پھر لو اور پو رے جہا ن کا چکر لگا لوایک بات تمہیں ملے گی کہ اگر کا ئنا ت میں کسی چیز کا قد ر ہے تو اللہ کی ر ضا کا ہے اور سنتِ مصطفی ﷺ کا ہے۔ اور صحا بہ کرام کا اسلا م کے سا تھ وفا کا قد ر ہے اور اس کا ئنا ت میں ا و لیا ء اللہ کا قد ر ہے اور اس کا ئنا ت میں نبی ﷺ کے پر وا نوں ہے۔ ربِ کا ئنا ت نے اپنے پیا ر ے پیغمبر کے با رے میں اعلا ن فر ما یا۔ (اور ہم نے آپ کو تما م لو گو ں کے لیے خو شخبر یا ں سنا نے والا اور ڈرا نے والا بنا کر بھیجا ہے)(سبا 28)
یعنی ما لک کا ئنا ت یہ بتا نا چا ہتے ہیں کہ میر ے پیغبر کا دین سا ری کا ئنا ت کے لیے کا فی ہے، میر ے پیغمبر ﷺ کی شر یعت سا ری کا ئنا ت کے لیے کا فی ہے۔ میر ے پیغمبرﷺکا اسلام مو منوں کے لیے کا فی ہے، میر ے پیغمبر کا کر دار مو منوں کے لیے کا فی ہے۔ اور اللہ پاک نے اپنے پیغمبرکے با رے میں ایک دو سرے مقا م پر اس طر ح اعلان فر ما یا ۔ (یقیناًتمھا رے لیے ر سو ل اللہ ﷺ میں عمدہ نمو نہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعا لیٰ کی اور قیا مت کے دن کی تو قع ر کھتا ہے اور بکثر ت اللہ تعا لیٰ کو یا د کر تا ہے)(الا حزا ب )
اللہ پاک نے میر ے پیغمبر کے با رے میں اعلا ج فر ما یا ۔ (اور ہم نے آپ کو تما م جہا نو ں کے لیے ر حمت بنا کر بھیجا ہے)(الا نییا ء ) دو سرے مقا م پر فر ما یا ۔(اللہ کی رحمت کے با عث آ پ ﷺ ان پر نر م دل ہیں اور اگر آپ بد ز با ن اور سخت دل ہو تے تو یہ سب آپ ﷺ کے پا س سے بھا گ کھڑے ہو تے۔ سو آ پ ﷺ ان سے در گز ر کر یں اور ان کے لیے استغفا ر کر یں اور کا م کا مشو رہ ان سے کیا کر یں، پھر جب آ پ کا پختہ ارادہ ہو جا ئے تو اللہ تعالیٰ پر تو کل کر یں ، بے شک اللہ تو کل کر نے وا لوں کو بڑا پسند فر ما یا ہے)(آلِ عمران109 )
ایک اور جگہ اعلا ن فر ما یا ۔ (بے شک مسلما نو ں پر اللہ تعا لیٰ کا بڑا احسا ن ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسو ل ان میں بھیجا ، جو انہیں اسکی آیتیں پڑھ کر سنا تا ہے اور انہیں پاک کر تاہے۔ اور انہیں کیا ب و حکمت سکھا تا ہے، یقیناًیہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے)(آل عمر ان 163)
اللہ پاک نے یہ نہیں فر ما یا ۔ جس نے اما م ابو حنیفہ کی اطا عت کی اس نے میر ی ا طاعت کی ، جس نے اما م شا فعی کی ا طا عت کی اس نے میر ی اطا عت کی، جس نے اما م احمد بن حنبل کی ا طا عت کی اس نے میر ی ا طا عت کی جس نے اما م ما لک کی ا طا عت کی اس نے میر ی ا طا عت کی بلکہ فر ما یا۔(کہہ دیجیے اگر تم اللہ تعا لیٰ سے محبت ر کھتے ہو تو میر ی تا بعداری کرو، خو د اللہ تعا لیٰ تم سے محبت کر ے گا اور تمہا ر ے گنا ہ معا ف فر ما دے گا اور اللہ تعا لیٰ بڑا بخشنے والا مہر با ن ہے۔ )آل عمران 31
جب اللہ تعا لیٰ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمھیں کتا ب و حکمت دو ں پھر تمہا رے پا س وہ ر سو ل آ ئے جو تمہا رے پا س کی چیز کو سچ بیا ئے تو تمہا رے لیے اس پر ایما ن لا نا اور اس کی مد د کر نا ضروری ہے۔ تم اس کے اقرا ری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقر ار ہے تو اب گو اہ رہو اور خو د میں بھی تمہا ر ے سا تھ گو اہ ہوں (آل عمرا ن 81)

یہ بھی پڑھیں  واہ کینٹ سویڈش کالج کی زیر تعمیر سات منزلہ عمارت کینٹ بورڈ کے ذمہ داران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker