پاکستانتازہ ترین

اسلام آباد:ایجنسیوں کو ٹیلی فون ٹیپ کرنے کی اجازت

national assemblyاسلام آباد(مانیٹرنگ سیل) قومی اسمبلی نے ایک ایسا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت چھ سکیورٹی ایجنسیوں کو مشتبہ افراد کے ٹیلفون ٹیپ فون ٹیپ کرنے، ای میل کی نگرانی اور سی سی ٹی وی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت ہو گی۔ ٹیکنالوجی کی نگرانی کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کو عدالتوں میں بطور شہادت پیش کیا جا سکے گا۔ فیئر ٹرائل نامی بل جمعرات کو ایوان زیریں میں پیش ہوا۔ مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ نے اعتراض کیا اور کہا کہ بل میں خامیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے غلط اطلاق کو روکنے کے لیے ان کی پیش کردہ ترامیم شامل کی جائیں۔ حکومت نے تیس سے زائد ترامیم کے ساتھ یہ بل منظور کرا لیا۔ اس بل کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ عدالتوں میں الیکٹرانک آلات اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اکٹھے کردہ شواہد کو قانون شہادت کے تحت ٹھوس شواہد تسلیم کی جائے گا۔ بل کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر یہ ایک تاریخی قانون منظور کرایا ہے۔ اس بل کے حوالے سے سابق وزیرِقانون اور مسلم لیگ نون کے سرکردہ رکن قومی اسمبلی زاہد حامد نے کہا کہ وہ اس بل کے بنیادی مقاصد سے اتفاق کرتے ہیں اور یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ مشتبہ افراد کے ٹیلفون ٹیپ فون ٹیپ کرنے، ای میل کی نگرانی اور سی سی ٹی وی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے کی ذمہ داری یا اجازت کن ایجنسیوں کو ہوگی انہوں نے کہا کہ پہلے والے بل میں تو اس کام کے لیے سولہ ایجنسیوں کو اس کی اجازت دی گئی تھی لیکن احتجاج کے بعد آئی ایس آئی، آئی بی اور پولیس کے ساتھ تین اور اداروں کو اس میں شامل کر لیا گیا جن میں ملٹری انٹیلی جنس، نیول اور ائیر فورس انٹیلی جنس شامل ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی اس تشویش کے بارے میں کہ اس قانون کو شک کی بنیاد پر کسی کے بھی خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔زاہد حامد نے کہا کہ ترامیم کے بعد اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ کے ساتھ شک نہیں بلکہ شواہد بھی شامل کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سزا بھی رکھی گئی ہے اور اس کے تحت جمع کیے جانے والے شواہد کا استعمال کہیں اور کیا گیا تو تین سال قید اور جرمانہ بھی رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پتوکی:اسسٹنٹ کمشنر کے گھر دن دیہاڑے ڈکیتی کےپر اظہار افسوس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker