شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تہمور حسن / کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟

کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد آج تک پاکستان کی ساخت کے لب اپنی تشنگی کا اظہار کرتے کرتے شاید خاموش صدوا میں تبدیل ہو چکے ہیں‘ اور کئی سالوں پہلے آزادی کے رنگ بے رنگ نمائش کی زینت بنی سوچوں پر گرد جمنے کے کام آتی ہے‘ جس سے فائدوں کے تمام باب بند ہو چکے ہیں‘ ہر انسان آزادی کے نشے کو سر سے اتار کر غلامی کی زنجیروں سے خود کو اسیر کر چکا ہے‘ لب و خیالات میں اتنا تضاد آتا جا رہا ہے کہ لفظ آزادی پر ان کی جنگ کسی طرح سے بھی عام فہم سوچ کا حصہ بننے کو تیار تک نہیںیہ بات بہت افسوس کے ساتھ کہنی پڑتی ہے کہ ایسی لازوال تشکیل کے باوجود آج تک پاکستان کو ایسا کوئی لیڈر میسر نہیں ہوسکا جو مظلوم کی آواز اور ملک کی ترقی کا پرچم لے کر آگے بڑھے۔
لیکن ہم سب نے مل جل کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حال کیا کر دیا؟ جس میں حیات کی جگہ چند پیسوں نے لے لی ہے‘ جس کو کماتے کماتے کب قدرت اور فطرت سے بغاوت کرتے ہیں۔ ’’انسان اور انسانی قدروں سے پیار کرنا جان کے سکوں کی پہلی سیڑھی ہے‘‘ اور ہر انسان پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے ضرور لڑکھڑاتا ہے پر آخری سیڑھی مقدر اُس کا ہوتی ہے جس کی قسمت میں پہلی سیڑھی کا لڑکھڑانا ہو۔۔۔
آج تک پاکستان کے نام پر سیاست چمکا کر کر اپنی گتھیاں سلجھانے والے بہت آئے‘ لیکن جمہوریت اور انصاف پسندی کو ملحوث خاطر رکھ کر اس عوام کی جھولی میں ایسا کوئی لمحہ تک نہیں ڈال سکے جس کی بنائ پر وہ یہ کہنے کا حق ادا کر سکیں کہ وہ عوام کے منتخب نمائندگان ہیں‘ اسی بے حسی کا شکار افراد آج ملک میں کے مختلف جرائم پیشہ افراد کی فہرست میں اپنا نام درج کروانے کو ہی اس بات کا حل سمجھتے ہیںاور جن کو جرم سے کوئی خوف نہیں وہ خود ریاست کے بنائے ہوئے قوانین سے خود کو بالا تر سمجھتے ہیں‘ اس صورتحال میں ریاست کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے اور اعلٰی سطح پر ترتیب دیئے جانے والا نظام اور قانون خود ان افراد کے گریبانوں تک رینگ رینگ کر پہنچتا ہے‘ اگر اس سلسلے میں کوئی کاروائی کسی بھی فرد کے گرد گھیرا تنگ کر دے تو ان افراد کی سرپرستی کی ذناہ داریاں انجام دینے والے خود قانون کے ننگے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہیں اور ہم ہر بار نئے وعدوں‘ نئی امیدوں اور سہارے کی بنیاد پر ماضی کی طرح ترجمانی کے فرائض پھر انہی لوگوں کو سونپ دیتے ہیں‘ اور ان کے ناپید اصولوں کے تحت مار کھانے کو تیار ہو جاتے ہیں‘ پھر اس عوام کا واسطہ نا اہل حکمرانوں کے ان اصولوں سے پرتا ہے جو کتب کی بجائے ہتھیار‘ بھوک پیاس بجھانے کیلئے چوری اور ڈکیتیوں کی راہ ہموار کرتے ہیں‘ بے روزگاری‘ دہشتگردی‘ اشیائ خورد و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں‘ ہر طرف خانہ جنگی کے حالات اور سب سے بڑی یہ بات کہ نوجوانوں کا تعلیمی میدان میں کم رحجان‘ یہ سب ریاست کے حکمرانوں کی نا اہلی کا ثبوت ہے‘ 62 سالوں میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا اس بات کا اندازہ آپ سے لگا لیں کے ہمارے حکمرانوں کی سات پشتیں اور آنے والی سات نسلیں ان کی کمائی ہوئی دولت بغیر بڑھائے کھا سکتی ہیں‘ اور ایک وقت کی روٹی کمانے والے مزدور کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ واپسی پر اپنے گھر والوں کیلئے مطلوبہ مقدار میں کھانا لے جا سکے گا یا نہیں‘ ہمارے ان حکمرانوں کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ ہماری ہی رائے پر منتخب ہو کر ہمارے ساتھ ہی غیر منصفانہ رویئے اختیار کریں؟
ہماری عوام جب بازار سے کوئی چیز خریدنے کیلئے جائے تو اس شے کی تیاری سے لیکر اس کے بازار آنے تک اس کا تمام شجرہ نصب کھنگال لیتی ہے لیکن یہ عادت اپنے لئے منتخب کئے جانے والے نمائندگان کے انتخاب پر کیوں لاگو نہیں کی جاتی ؟؟
اگر سیاست کو بدلنے کی ہم میں ہمت نہیں تو خود اپنے پائون پر کلہاڑی مارنے کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں رہ جاتا‘ اگر احتجاجی مظاہروں سڑکوں پر آگ لگانے اور سرکاری املاک جلانے سے کوئی انقلاب لایا جا سکتا ہے تو سب سے بڑا انقلاب 8 اکتوبر کے زلزلے کے بعد آنا چاہئے تھا‘ ہمیں بحیثیت قوم اچھے اور برے کی تمیز کرنی ہوگی اور اس ملک کو مثالی ملک بنانا ہوگا تا کہ اس کے عنوان ’’ کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟‘‘ میں سے ’’کیا‘‘ اور ’’ہے‘‘کے الفاظ ختم ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں  اونچی جتنی چلی جائے آخر تو کٹتی ہے پتنگ
error: Content is Protected!!