ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

عا رضی لا پتہ یا مستقل لا پتہ افراد

s m irfan thairجب کسی ریا ست کے قانون نا فذ کر نے والے اور تحفظ و انصاف فراہم کر نے والے اداروں کو یو ں سر عام تنقید کا نشانہ بنایا جا ئے گا اور مو رد الزام ٹھہرا یا جا ئے گا تو بیر ونی دنیا کو کیا پیغام جا ئے گا ۔ جو افراد چند لمحوں یا چند دنو ں یا چند مہینو ں کے لیے پس پر دہ چلے جا تے ہیں اور ان کی موجود گی کا حقیقت میں کسی کو پتا نہیں ہو تا ہے ایسے لا پتہ افرا د کی خا طر تو شہر ، شہر ، نگر ، نگر آواز بلند کر نے والی ڈیفنس آف ہیو من را ئٹس جیسی کئی بین الا قوامی این جی اوز تو کھڑی ہو جا تی ہیں اور ان اداروں پر الزاما ت لگا تی ہیں جن کا مقصد ملک و قوم کی حفاظت اور پاسبانی کر نا ہے جن کی زندگیا ں محض گمنامی اور جہد مسلسل میں گم ہو کر رہ جا تی ہیں جو قوم کی آزادی اور سکون کی خا طر اپنے گھر والو ں اپنی خو شیو ں اپنی تمنا ؤ ں کو چھو ڑ کر محض ایک ہی جستجو کیلیے جئیے جا تے ہیں کہ اس وطن پر کبھی بھی کوئی آنچ نہ آئے اور اس وطن میں بسنے والے آزاد اور آباد رہیں ۔ قانون ، قا عدے اور ضا بطے کی با ت کر نے والے یہ تو سوچیں کے ان سے وابستہ افراد جو کچھ عرصہ کے لیے ان کے سامنے نہیں آتے ہیں اور ان سے با ت چیت نہیں ہو پا تی ہے اس صورتحال میں کتنی تکلیف ہو تی ہے ۔ جب کو ئی عا رضی طور پر غا ئب ہو جا تا ہے وہ لمحہ اور جب کوئی مستقل طور پر غا ئب ہو جا تا ہے دونو ں میں درد کا اندازہ کس حد تک ہو تا ہے کیو ں اپنے پیا رو ں اپنے چا ہنے والو ں اور اپنے عزیز وں کو اس وقت نہیں روکا جا تا یا پر کھا جا تا ہے جب وہ کسی منفی نقل و حرکت میں مبتلا ہو جا تے ہیں اور اپنی ذاتی نفسانی تسکین کی خا طر اور اپنے خا ندان کنبے کو فائدہ پہنچا نے کی خا طر اپنے ضمیر اور اپنے ایمان کا سودہ کر لیتے ہیں اپنی زندگی کی خو شیو ں ، رعنائیو ں اور سہولتو ں کی خا طر کیو ں دوسروں کی زندگیا ں بربا د کردیتے ہیں ؟ جب کوئی اپنا ، کوئی ہمسفر ، کوئی بھائی ، کوئی بیٹا ، کوئی با پ اندرون خانہ تخریب کا ریو ں اور دہشتگردیو ں میں مبتلا ء ہو جا تا ہے تو اس وقت اس کی پرواہ کیو ں نہیں کی جا تی ہے؟ کیو ں اس وقت اس کی بھلا ئی اور بہتری کی سوچ پیدا نہیں ہو تی ہے؟ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک چھت تلے رہتے ہو ئے ایک دوسرے کے معاملا ت اور معمولا ت کا بخوبی انداہ نہ ہو پا ئے اس وقت کیو ں ہما ری آنکھو ں پر پر دہ آجا تا ہے ۔ ایک انسان جو کسی بھی تخریب کا ر گر وہ کے ساتھ مل کر دوسری کمیو نٹی کے امن و امان کے لیے خطرہ بنتا ہے یا نقصان کا با عث بنتا ہے تو اس کے ساتھ بھلا ئی اور نرمی کیسے بر تی جا سکتی ہے کہا جا تا ہے کہ شر اور بر ائی پھیلا نے والے کا وجود بھی خطرہ ہو تا ہے اور اس وقت اچھائی ، نیکی اور امن و آشتی کی فضاء پیدا کر نے کے لیے ضروری ہے کہ اس شر کو گرفت میں لے لیا جا ئے اور اسے اس حصہ سے کا ٹ پھینکا جا ئے جہا ں وہ اپنے شر سے دوسروں کی تکلیف اور صدمے کا با عث بنتا ہے اپنے لا پتہ پیارو ں کا دکھ اور صدمہ تو بر داشت نہیں ہو تا ہے لیکن ان کی وجہ سے جس ماں کی گو د خالی ہو جا تی ہے ، ان کی وجہ سے جس بہن کا بھائی دنیا ئے فا نی سے کو چ کر جا تا ہے ان کی وجہ سے جس بیو ہ کا ہمسفر جد ائی کا غم دیکر فنا ہو جا تا ہے ان کی وجہ سے جس گھر میں یتیم بچے بے یا رو مدد گا ر بلکتے،سسکتے اور روتے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں ان کا سہا را کو ن بنے گا ان کے دکھو ں کا مداوا کون کرے گا کون انہیں کما ئی لا کر دے گا کون انہیں تین وقت کا کھانا مہیا کرے گا
کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے شہر سارا ہی پر یشان ہوا پھرتا ہے
ایک با رود کی جیکٹ اور نعرہ تکبیر را ستہ جنت کا آسان ہوا پھرتا ہے
کیسا عشق ہے تیرے نام پہ قربان ہے مگر تیری ہر بات سے انجان ہوا پھرتا ہے
شب کو شیطان بھی ما نگے ہے پناہ جس سے صبح کو وہ صاحب ایمان ہوا پھرتا ہے
جانے کب کون کسے ما ر دے کا فر کہہ کر شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے
بیرونی قوتوں سے ڈا لر اور پا ؤ نڈ حاصل کر نے والو ں کو کم از کم یہ سوچنا ضرور چا ہیے کہ ایک انسانی زندگی کی کیا قیمت ہے اور جو ڈھیرو ں قیمتی جا نو ں کو آگ میں جھونک دے یا اسکا سبب بنے تو اسکے لیے نرم گو شہ رکھنا اور اسکے لیے خفیہ اداروں اور آرمی کو نشانہ بنانا کہا ں کا انصاف ہے ؟عدل و انصاف اور امن کی علا مت تو یہ ہے کہ ان طا قتور اور قابل احترام اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا نے والے بھی آزادانہ ما حول میں سانس لے رہے ہیں حالانکہ جو ان کے رویے ہیں اور جو قصور ان سے وابستہ افراد سے ہوا ہے اس پر ان کی سانسیں بھی چھین لی جا ئیں تو کم ہیں ۔ بے سبب کوئی بھی کسی کو نہیں اٹھا تا ہے خفیہ اداروں پر انگلی اٹھا نے والو ں کو ذرا یہ تو سوچنا چا ہیے کہ یہ ادراے پو لیس اور لوکل گو رنمنٹ پر مبنی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے پاس اتنا فضول وقت ہے کے بلا جواز کسی کو غا ئب کر نا شروع کردیںیا اٹھا کر لا پتہ کردیں ۔ دہشتگردوں کے سراغ تک پہنچنے اور ان کی جڑوں کو ختم کر نے کے لیے ہی کسی نہ کسی شخص کو قصور وار سمجھتے ہو ئے ہی گرفت میں لا یاجا تا ہے ۔ ڈیفنس آف ہیو من رائٹس اور آمنہ مسعود جنجو عہ سمیت تمام وہ لو گ جو یہ اعتراض اٹھا تے ہیں کہ ان کے عزیز و اقارب خفیہ اداروں یا آئی ایس آئی نے اٹھا ئے ہیں تو انہیں چا ہیے کہ جگہ جگہ کیمپ لگا نے اور احتجا ج کر نے کی بجا ئے لیگل راستہ اختیا ر کریں اس طر ح کے عمل سے نہ صرف پو ری دنیا میں پا کستان کی بدنامی ہو رہی ہے بلکہ خفیہ ادارو ں کا کردار بھی مشکو ک سمجھا جا نے لگا ہے یہ کیسے محب وطن ہیں ؟اور کیسے انسانیت اور نسانی حقوق کے علمبردار ہیں ؟جو اپنے ہی ملک اور اسکی سیکیو رٹی فو رسز اور اداروں کو بدنام کر نے پر تلے ہو ئے ہیں ضرور انکے پیچھے کوئی بیرونی قوت اور خفیہ ادارے کا ر فرما ہیں جو ان لو گو ں کو اس صورتحال میں استعمال کر کے اپنے نا جا ئز منصوبو ں کی تکمیل کے لیے چلا رہے ہیں ۔
یہا ں تہذ یب بکتی ہے یہا ں فرمان بکتے ہیں ذرا تم دام تو بد لو یہا ں ایمان بکتے ہیں
عد لیہ کو چا ہیے کہ دہشتگردوں کے خلا ف قانو ن کو اسقدر مو ئثر اور مضبوط کر دے کہ کوئی بھی سزا پا نے اور اپنے منطقی انجام تک پہنچنے سے پہلے بچ نہ پا ئے تاکہ جو مسائل اس مر وجہ قانون کی کمزوری کے با عث پیدا ہو رہے ہیں ان کا مکمل طو ر پر خاتمہ کیا جا سکے ۔

یہ بھی پڑھیں  قصور:20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کردیا۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker