تازہ ترینکالم

تھائی وزیراعظم کی نوازشریف کوخصوصی دعوت

syed fawadتھائی لینڈ کے معنی ہیں آزاد لوگوں کے رہنے کی جگہ اس ملک کا پرانا نام سیآم ہوا کرتا تھا ، یہ ملک تاریخ میں کبھی کسی اور قوم کا غلام نہیں بنا، اسی وجہ سے تھائی لینڈ کی عوام ذہنی طور پر کسی مغربی ملک کی غلام نہیں ہیں۔ جس طرح ہمارے ملک کے کرپٹ حکمران انگریزوں سے آزادی ملنے کے بعد بھی غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔اس بات پر مجھے ایک قصہ یاد آیا کہ ایک روز میں بینکاک کے شہر میں گھوم رہا تھا کہ ایک امریکی شخص نے راہ جاتی ہوئی تھائی خاتون کو چھیڑا تو وہاں موجود تمام عورتوں نے مل کر مذکورہ امریکی کی دھلائی کر دی جس کے بعد پولیس نے مذکورہ امریکی کو گرفتار کر کے تھانے لے گئی اور باقاعدہ اُس پر ایف آئی آر کاٹی گئی جس کے بعد یہ معلوم ہوا کہ مذکورہ امریکی کو جرمانے سمیت جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی ۔ اگر ایسا واقعہ پاکستان میں ہوتا تو ہمارے ملک کی ساری مشینری امریکی کو چھڑوانے کے لئے رات دن ایک کر دیتی جبکہ ایسا واقع تو نہیں مگر ہمارے ملک میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ مغربی ممالک کے شہریوں کو قانون کی خلاف ورزی کرنے پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔مگر تھائی لینڈ ایسے معاملات میں بہت سخت ہے اسی وجہ سے تھائی لینڈ کی جیلوں میں اس وقت کئی غیر ملکی بند پڑے ہیں جن کو اُن کی حکومتیں سرتوڑ کوششوں کے باوجود بھی نہیں بچا سکتیں ۔ پاکستان میں ایسے معاملات میں ہماری آئی ایس آئی کا کردار بھی بہت بہتر ہے مگر کرپٹ سیاستدانوں کی وجہ سے ہماری آئی ایس آئی بے بس نظر آتی ہے۔ خیر میں تھائی لینڈ جیسے آزاد ملک کا ذکر کر رہا تھا مگر بات کہاں سے کہاں تک جا پہنچی۔
18اکتوبر کو تھائی لینڈ کی وزیر اعظم Yingluck Shinawatra کی خصوصی دعوت پر وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف دو روزہ دورے پر تھائی لینڈ جائیں گے۔ جہاں تھائی وزیر اعظم سے ملاقات میں تجارت ،دہشت گردی ، منشیات اسمگلنگ کے خاتمے اور دفاعی اُمور پر تبادلہ خیال ہو گا۔اس دورے کے دوران وہ تھائی لینڈ میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملاقات کریں گے ۔ دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کی ملاقات سے پاکستانی اور تھائی عوام کے درمیان نزدیکیاں بڑھیں گی اور پاکستانی عوام کو تھائی لینڈ جاکر کاروبار کرنے میں آسانی ہو گی۔اس وقت تھائی لینڈ میں ساٹھ ہزار پاکستانی رہ رہے ہیں جن میں ضلع بٹگرام ہزارہ سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت پنجاب اور سندھ کے لوگ بھی شامل ہیں جو تھائی لینڈ میں کاروبار کرکے سالانہ کروڑوں ڈالر پاکستان کو بھجواتے ہیں۔ تھائی لینڈ کے عوام کے لئے پاکستان ایک مقدس ملک ہے کیونکہ ٹیکسلا اور تخت بھائی میں بدھ مت کی قدیم یونیورسٹیاں ہیں جہاں سے کسی وقت تھائی باشندے تعلیم حاصل کرتے تھے اور جو اِن یونیورسٹیوں سے پڑھ کر تھائی لینڈ واپس جاتا اُس کو بہت قابل اور ہوشیار شخص مانا جاتا جیسا کہ ہمارے ملک میں کوئی شخص کئی سال سعودی عرب سے اسلامی تعلیم حاصل کر کے آیا ہو یا لندن کی آکسفورڈ یونیورسٹی یا امریکہ کی شگاگو سے پڑھا ہوا ہو تو وہ بہت ذہین اور ہوشیار کہلاتا ہے۔ اسی طرح تھائی عوام میں بھی اگر کوئی بڑا کام کرے توتھائی لوگ اُس کی تعریف میں کہاوتاً یہ جملہ کہتے ہیں کہ یہ ٹیکسلا کا پڑھاہوا معلوم ہوتا ہے(یعنی بہت ہوشیار ہے)۔
تھائی لینڈ حکومت کی جانب سے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی مہمان نوازی کے لئے ایک شاندار ہوٹل کے دو فلور ز کی بکنگ کر دی گئی ہے۔ جبکہ تھائی حکومت کی جانب سے اس دورے کو بہت اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ گزشتہ ماہ جب تھائی لینڈ کی خاتون وزیر اعظم ینگ لک شیناوترا جب پاکستان آئیں تو پاکستان کی جانب سے اُن کی بہت خوب مہمان نوازی کی گئی جس سے متاثر ہو کر اُنہوں نے نواز شریف کی کو اپنے ملک آنے کی دعوت دی ۔پوری دنیا میں قائم پاکستانی سفارت خانوں میں واحد تھائی لینڈ میں قائم پاکستانی سفارت خانہ ہے جس کی کارکردگی لائق تحسین ہے ،جس کی کاوششوں سے تھائی لینڈ کی جیلوں سے کئی پاکستانی رہا ہوکر پاکستان پہنچے مگر مذکورہ سفارت خانے کی یہ اعلیٰ کارکردگی میڈیا کو نظر نہ آئی ۔ بینکاک میں قائم پاکستانی سفارت خانے نے جس تیزی سے پاکستانیوں کے پاسپورٹس، کارڈز ،ویزہ اور دیگر مسائل حل کرنے میں چُستی دیکھائی ہے شاید دنیا بھر میں کوئی پاکستانی سفارت خانہ ایسی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔ مذکورہ سفارت خانے کی جانب سے تھائی لینڈ کی جیلوں میں مختلف جرائم میں بند پاکستانیوں کی ہر دوسرے روز خیریت دریافت کی جاتی ہے جس کے لئے سفارت خانے کا عملہ ہر دوسرے روز جیل جا کر پاکستانیوں کے حالات سے خود کو باخبر رکھتا ہے اور اُن کو اُن کے کیسوں کے متعلق ہونے والی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے جبکہ مذکورہ پاکستانی قیدیوں کی جانب سے اُن کے گھروں تک پیغام رسائی بھی اسی ذریعے سے کی جاتی ہے۔ تھائی لینڈ کی جیلوں میں پاکستانیوں کی صحت ،نماز اور حلال خوراک کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ جسکا کا سہرا پاکستانی سفیر اور قونصلر کے سَر ہے۔ بیرون ممالک میں قائم دیگر پاکستانی سفارت خانے بھی اسی طرح پاکستانیوں کی خدمت میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کریں تو ان کی اعلیٰ کارکردگی کا اثر ہمارے ملک کے لئے مثبت ثابت ہوگا کیونکہ یہ سفارت خانے دوسرے ممالک میں اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہر ملک اپنے سفارت خانے کی بہترین کارکردگی سے جانا جاتا ہے۔
ٓجبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے پاک فوج کے اعلیٰ افسروں کو پرائز پوسٹنگ کے کوٹہ پر بیرون ممالک پاکستانی سفارت خانوں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کرنے تجربہ اس لئے بھی کامیاب رہا کہ فوجی افسروں کی تعیناتی سے سفارت خانوں کا نظام بہترہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button