شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / شکریہ عمران خان

شکریہ عمران خان

عام انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے بعد عمران خان نے قوم پر ایک اور احسان کردیا ہے کہ تمام سیاسی مخالفین کو ایک کردیا ”شکریہ عمران خان“ انتخابی مہم جلسے اس بات کے گواہ ہیں کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین ، سابق صدمملکت آصف علی زرداری کے خلاف قائد پاکستان مسلم لیگ ن میاں نوازشریف اور صدرمسلم لیگ ن میاں شہبازشریف سمیت دیگر ن لیگی اراکین کی تقریروں میں ایک طوفان بدتمیزی تھا ۔اب الیکشن میں ہارنے کے بعد میاں شہبازشریف سمیت تمام ن لیگی اراکین آصف علی زرداری کے قدم میں بیٹھے گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت سمیت اہم رہنماﺅں کی انتخابی مہم جلسوں کی تقریروں اور مبینہ کریشن ، نیب ریفرنسز کی وجوہات کی بناءپر انتخابات میں دھاندلی کا شور مچانے والی سیاسی جماعتیں کسی متحدہ اپوزیشن محاز یا لائحہ عمل پر اب تک متفق ہوتی دکھائی نہیں دی رہی ہیں۔دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے نئی پارلیمان میں حلف نہ اٹھانے جیسے مسئلے پر بھی کوئی اتفاق دکھائی نہ دیا۔ تو کیا یہ نئی پارلیمان میں ایک کمزور اور منقسم حزب اختلاف کے اشارے ہیں۔
گزشتہ روز25 جولائی کے انتخابات کے فوراً بعد بظاہر عجلت میں اسلام آباد میں طلب کی گئی کل جماعتی کانفرنس ا ±تنی ہی جلدی بغیر کسی فیصلے کے ختم ہو گئی۔مسلم لیگ نون نے حلف نہ لینے کی تجویز کی پہلی اے پی سی میں ہی مخالفت کر دی تھی اور پیپلز پارٹی پہلے دن سے علیحدہ علیحدہ رہنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔مبصرین کے خیال میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گیم بھی ان کے ہاتھ سے نکلتی دکھائی دیتی ہے۔ آخر نئی ممکنہ حزب اختلاف بظاہر اتنی منقسم کیوں ہے؟
اب تحریک انصاف کی پہلی وفاقی حکومت میںاگر عمران خان وزیراعظم بنتے ہیں تو وہ کسی بھی ملک میں وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے والے پہلے کرکٹر بن جائیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے لیے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار دکھائی دے رہی ہے لیکن عمران خان کی کامیابیوں کے سفر کی ایک لمبی داستان بھی ہے۔عمران خان نے اپنے بین الاقوامی کرکٹ کیریئر کا آغاز سنہ 1971 میں انگلینڈ کے خلاف کیا تھا لیکن انھیں اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ کے لیے مزید تین سال انتظار کرنا پڑا۔25 جولائی کو منعقد عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی اکثریت ملی اور 26 جولائی کو عمران خان نے بطور فاتح قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کے قیام کا عندیہ دیا۔قابل ذکر امر یہ ہے کہ 25 جولائی 1974 کو ہی شروع ہونے والے انگلینڈ کے خلاف لیڈز ٹیسٹ کے دوسرے روز 26 جولائی کو عمران خان نے اپنی پہلی بین الاقوامی وکٹ حاصل کی تھی۔ آو ¿ٹ ہونے والے بلے باز ٹونی کریگ تھے جن کا کیچ وسیم باری نے وکٹوں کے پیچھے لیا تھا۔
عمران احمد خان نیازی پاکستانی سیاست دان اور سابق کرکٹ کھلاڑی ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان، شوکت خانم میموریل ہسپتال کے بانی اور تحریک انصاف کے سربراہ، لاہور میں 25 نومبر، 1952ءمیں اکرام اللہ خان کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے 1971ءسے 1992ءتک کھیلتے رہے۔25 اپریل، 1996ءکو تحریک انصاف قائم کرکے سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ ابتدائی طور پر انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ لیکن حالیہ دنوں میں وہ اپنی جدوجہد اور اصول پرستی کی بدولت پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔
 پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی جانب یہ دعویٰ کیا جارہے کہ قومی اسمبلی میں نمبر گیم ابھی تک پی ٹی آئی کے حق میں نہیں، اس وقت تحریک انصاف کی ساری سیاست کا دارومدار ایم کیو ایم پر ہے، گرینڈ اپوزیشن وزیر اعظم اور سپیکر و ڈپٹی سپیکر کیلئے مشترکہ امیدوار دے گی، 9 یا10اگست تک قومی اسمبلی میں نومنتخب ارکان حلف اٹھا لیں گے۔ اس سے پہلے گرینڈ اپوزیشن تمام معاملات طے کرلے گی۔ تحریک انصاف ابھی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی، نمبر گیم پی ٹی آئی کے حق میں نہیں بہت کم فرق ہے، مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی، ایم ایم اے اور دیگر جماعتیں وزیر اعظم اور سپیکر و ڈپٹی سپیکر کیلئے مشترکہ امیدوار دیں گی۔لیکن متحد ہ پاکستان کے رہنماﺅں کی تحریک انصاف کی حمایت کے بعد سید خورشید شاہ کا دعویٰ بھی دم توڑ گیا ہے
مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رہنماﺅں اور مبینہ کریشن ، نیب ریفرنسز میں مطلوب سیاست دانوں کی بھاگ دوڑ سے لگتا ہے کہ پاکستان میں تبدیلی آگئی ہے ”شکر یہ عمران “ آپ نے تو وزیراعظم بننے سے پہلے ہی کمال کردیا ہے 26جولائی2018ءکے خطاب کے مطابق سیاسی دشمن بھی دوست بن چکے ہیں
یہ بھی پڑھیں  لندن قیادت کا فیصلہ، رکن قومی اسمبلی کا مستعفیٰ ہونے کا اعلان