انور عباس انورتازہ ترینکالم

تھرپارکر

صوبہ سندھ کا ایک دوردراز کا ایک ضلع ہے،جس کی آبادی 2012کے مطابق 1,113,194 اور کل رقبہ 17,355کلو میٹر ہے،تھرپارکر ضلع 5تحصیلوں اور 44 یونین کونسلوں پر پھیلا ہواہے۔صدر مقام مٹھی ہے۔ دو ہزار گیارہ کے سیلاب نے اس ضلع کی اینٹ ست اینٹ بجادی تھی، جس کے اثرات ابھی تک موجود ہیں۔ابھی تک اس سیلاب کے لگائے ہوئے زخم مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئے تھے کہ خوشک سالی اور قحط نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔تھرپارکرمیں خوشک سالی اور قحط سے ہونے والی اموات کوئی پہلی بار نہیں ہوئیں۔تھرپارکر کے عوام کا یہ برس ہا برس سے مقدر چلا آ رہا ہے۔ہر بر جب ننھے منے معصوم نونہال اور مرد وزن موت کا شکار ہوتی ہیں ،اگر تو میڈیا نے اسے لائق توجہ سمجھتے ہوئے اسے ایشو بنایا تو حکومتی مشینری حرکت میں آجاتی ہے۔ورنہ سسک سسک کر مرنا تھرپارکر کے عوام کا مقدر بن جاتا ہے۔
تھرپارکر کی انتظامیہ کی جانب سے سندھ حکومت خصوصا وزیر اعلی سندھ اور انکے وزرا کے لیے دعوت ولیمہ کا سا بندوبست کرنا انتہائی شرم کی بات ہے۔اور سندھ کے وزیر اعلی اور انکے وزرا کا ایسی دعوتیں اڑانا اس سے بھی زیادہ لعن طعن کا مستحق ہے۔شرم آنی چاہئے وزیر اعلی سندھ اور انکے وزرا کو بھوک افلاس سے بلک بلک اور سسک سسک کر مرنے والوں کی امداد کے فریضہ کو نظر انداز کرکے خود فرائی مچھلی ،کوفتوں سمیت دیگر قسم کی ڈشوں سے لطف اندوز ہونا اور اپنا پیٹ بھرنا انتہائی گھٹیا پن کا مظاہر ہ اور نادیدہ پن ہے۔ کیا وزیر اعلی سند ھ سید قائم علی شاہ اور انکے وزرا نے ’’کوفتے ،فرائی مچھلی ،وائیٹ میٹ اور بریانی کبھی نہیں دیکھی تھی۔جو سرکٹ ہاوس میں ان ڈشوں پر ایسے ٹوٹ پڑے جیسے کئی دنوں کے بھوکے پیاسے ’’ کتے‘‘ کھانا ملنے پر جھپٹ پڑتے ہیں۔
اس وقت تھرپارکر کے 4200 دیہات میں موت کا وحشیانہ رقص جاری ہے۔اس وقت جب وزیر اعلی سندھ اور انکے وزرا سرکٹ ہاوس میں شاہانہ دعوت سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔مٹھی کے ہسپتال میں 2500 مریض بدستور ٹھندے پانی سے محروم پڑے اپنے ان مسیحا وں کی جانب نظریں لگائے انکی راہیں دیکھ رہے تھے۔ لیکن ان بے حس اور مردہ ضمیر راہنماوں کو عوام سے کیا غرض ہے۔انہیں تو اپنے اللے تللے اڑانے سے مطلب ہے
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سندھ کے سابق وزیر اعلی ارباب غلام رحیم کو لاہور طلب کیا ہے،ہو سکتا ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک وہ ان سے ہدایات لیکر واپس تھر بھی پہنچ چکے ہوں۔ وزیر اعظم کوان سے پوچھنا چاہئے کہ پورے پانچ سال وہ بھی تو بلا شرکت ایرے غیرے سندھ کے وزیر اعلی رہے ہیں۔انہوں نے تھر کے عوام کی تقدیر بدلنے کے لیے کیا کچھ کیا تھا؟ارباب غلام رحیم کو سندھ کی حکومت پر انگلی اٹھانے سے قبل اس سوال کا جواب دینا چاہئے۔

وزیر اعلی سندھ خصوصا انکے سرپرست آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری لمحہ فکریہ ہے کہ ابھی تک 2400 دیہات میں امدادی سرگرمیوں کا آغاز ہی نہیں ہو سکا۔۔۔ تھرپارکر کے گوداموں میں پڑی 47000 گندم کی بوریوں میں سے ابھی تک محض 9 سو تقسیم کی جا سکی ہیں۔ابھی تک حکومت بچوں کے ڈاکٹرز بھیجنے میں کامیاب نہ ہوسکی ہے ۔سندھ کے وزیر اعلی قائم علی شاہ کی کارکردگی پر یہ اطلاعات بدنما داغ ہے کہ انتظامیہ کو تھر کے مظلوم عوام کی امداد کے لیے مذید دو ہفتے درکار ہیں۔ تھرپارکر کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق اب تک 2 لاکھ افراد قحط اور خوشک سالی سے متاثر ہوئے ہیں۔
وزیر اعلی سندھ سید قائم علی شاہ کو چاہئے تھا کہ وہ اطلاع ملتے ہی متاثرہ علاقوں میں پہنچتے اور وہاں اپنا آفس لگاتے اور خود آستینیں چڑھاکر تھر کے عوام کے پاس پہنچتے۔امدادی کارروائیوں کی خود نگرانی کرتے، انکا یہ بھی فرض بنتا تھا کہ جن افسران نے انکے اور وزرا کے لیے شاہانہ دعوت کا انتظام کیا تھا ۔انکے خلاف سخت ایکشن لیتے اور انہیں عبرت کا نشان بنادیتے۔۔۔۔شائد وزیر اعلی سندھ کے کمزور دل و دماغ میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں رہی۔۔۔یاپھر وہ سفارش پر تعینات بیروکریسی کے آگے بے بس ہیں۔
سچی بات تو یہ ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور انکے صاحبزادے پیپلز پارٹی کی امیدوں کا محور و مرکز بلاول بھٹو کو خود اس وقت تھر کے مظلوم عوام کی دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں انکے درمیان موجود ہونا چاہئے تھا۔اور امدادی کارروائیوں کی خود نگرانی کرنی چاہئے تھی۔میرا خیال ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے دہشت گردوں کے خلاف شاندار بیٹنگ کرکے جو عزت شہرت کمائی ہے وہ کہیں ضائع نہ ہوجائے۔کیونکہ حقیقی لیڈر وہیں ہوتا ہے جو دکھ اور مصیبت کے لمحات میں اپنے عوام کے درمیان موجود رہے۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں لیکن سچی بات یہی ہے۔
آخری سطور لکھ رہا ہوں تو خبر سنی کہ وزیر اعظم نواز شریف پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ تھر کے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گے ہیں اور انہوں نے تھر کے قحط سالی کا شکار عوام کے پیٹ بھرنے کے لیے فوری طور پر ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔دوسری طرف بلاول بھٹو نے بھی اعلان کیا ہے کہ ہم اپنا پیٹ کاٹ کر تھر کے بچوں کا پیٹ بھریں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک ایک فرد کوجب تک مکمل غذا نہیں ملے گی میں اور میرے ورکر اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ بلاول اور نواز شریف کی ایک ساتھ متاثرہ علاقوں کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا نیک شگون ہے۔اس سے ہمارے دشمنوں کو مثبت پیغام ملیگا۔اوپر میں نے لکھا ہے کہ سندھ کے وزیر اعلی کو پر تکلف کھانے پیش کرنے والوں کی جواب دہی کرنی چاہئے۔لیکن نواز شریف نے موقعہ پر ہی انہیں( قائم علی شاہ ) کو ڈانٹ ڈپٹ کر کے بہت اچھا کیاہے۔تاکہ باقیوں کو سبق ملے
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے کے لیے مل جھل کر کام کرنا چاہئے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے پرہیز کرنا ہوگا اور ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور پھبتیاں کسنے سے بھی مکمل گریز کی راہ اپنانی ہوگی۔میں یہاں اپنے برخوردار اور اصلی وزیر اعلی پنجاب جناب حمزہ شہباز شریف سے گذارش کروں گا کہ وہ تیزیاں دکھانے اور سکورنگ کرنے کی سیاست سے بچیں کیونکہ یہ وقت کا تقاضہ ہے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button