انور عباس انورتازہ ترینکالم

بوڑھے شیر پنجاب کی خواہش

anwar abasکہتے ہیں کہ شیر شیر ہی رہتا ہے ۔چاہئے وہ جوان ہو یا بوڑھا ۔۔۔جیسا کہتے ہیں ناں کہ زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مرا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے ۔۔۔اسی طرح بوڑھے شیر کی قدر و قیمت کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ بے شک بوڑھا شیر شکار کرنے کی طاقت اور ہمت نہ رکھتا ہو مگر اسکی ہیبت اور دہشت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکس مالکان اسے خرید لیتے ہیں ۔اور پھر بچے بوڑھوں سمیت سب مردزن پیر و جواں کی خوشی و مسرت کا سامان کرتے ہیں۔سب بلا لحاظ عمر و مرتبہ سب بوڑھے شیر کے دھاڑنے سے یکساں لطف اندوز ہوتے ہیں۔۔۔شیر چاہئے جوان ہو یا بوڑھا کوئی سیانا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسکی خالہ کی مثال ہم سب نے سن رکھی ہے۔ اگر سیانا ہوتا تو وہ اسکی پرورش اور تربیت کرنے والی اور اسے پالنے پوسنے والی اپنی خالہ کو شکار کرنے کی نہ ٹھان لیتا۔۔۔ شیر اور بوڑھے شیر کی باتیں اس لیے کر رہا ہوں کہ جس دن مخدوم احمد محمود کو گورنرپنجاب لگانے کا فیصلہ ہوا تو اسی دن ایک خبر اخبارات کی زینت بنی کہ مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صاحب پگاڑہ نے مخدوم احمد محمود کی جگہ ملک غلام مصطفی کھر کو فنکشنل لیگ پنجاب کا صدر بنادیا ہے۔ اور ملک مصطفی کھر نے ماضی کے اپنے تمام قائدین کے اعتماد پر پورا اترنے کیطرح پیر صاحب پگاڑہ کے اعتماد پر پورا اترنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔بلکہ پنجاب کے اس بوڑھے شیر نے بڑھک لگائی ہے کہ پیپلزپارٹی کے پاس ہر قسم کا بیلنس زیرو ہے۔ ملک مصطفی کھر سیاست میں نئے ہیں اور نہ ہی وادی سیاست ان سے نا آشنا ہے۔دونوں ایک دوسرے سے بخوبی آگاہ ہیں۔دونوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے ۔مصطفی کھر اپنی غضب کی جوانی کے عالم میں پنجاب کے گورنر اور وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔اور وہ بھی با اختیاروزیر اعلی اور گورنر۔۔۔اپنے نواب صادق حسین قریشی یااپنے درویش غلام حیدر وائیں کی طرح بے اختیار اور بے نام نہیں تھے۔لیکن جب سے بھٹو صاحب اور انکی پیپلزپارٹی سے علیحدہ ہوئے ہیں ۔ادھر اور ادھر کی خاک چھانتے پھرتے ہیں ۔توکبھی غلام مصطفی جتوئی مرحوم کے ساتھ ملکر نیشنل پیپلز پارٹی بناتے ہیں ۔اور کبھی ان سے الگ ہوکر اپنی نیشنل پیپلز پارٹی قائم کرتے ہیں۔ پھرمسلم لیگ میں اپنا رنگ جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔میاں نواز شیف کی وطن واپسی کے وقت انکے پیچھے کھڑنے ہونے کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔1993میں پی ڈی اے پلیٹ فارم سے آگے بڑھنے کی بڑی بھرپور جدوجہد بھی کام نہیں آتی۔بے نظیر بھٹو شہید کے پاؤں پڑھنے کو تیار تھے کہ انہیں ملک اور قوم کے لیے کسی بڑی خدمت کرنے کے لیے پنجاب میں کوئی بڑے منصب پر فائز کیا جائے لیکن بی بی بے نظیر نے انہیں قریب تک نہ پٹکنے دیااس دن سے لیکر آج تک بھٹو شہید کے دور جیسی سہولیات کے دوبارہ حصول کے لیے ہاتھ پاؤں مار تے پھر رہے ہیں لیکن نہ نواز شریف نے انہیں کوئی زیادہ لفٹ کرائی ہے اور نہ ہی بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے انہیں منہ لگایا ہے۔آ جا کے پیر صاحب پگاڑا شریف نے انکی قدم بوسی کی خدمت کو شرف قبولیت عطا فرمائی ہے اور انہیں پنجاب کی صدارت پر فائز کر کے ان کی بڑے عہدے پر فائز ہونے کی آدھی خواہش پوری کر دی ہے۔ اب ان کی آدھی خواہش باقی رہ گئی ہے جو یہ ہے کہ ملک مصطفی کھر بڑا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں کوئی بڑا کام کرنے کی امنگ ان کے دل میں تڑپ رہی ہے۔ملک غلام مصطفی کھر صاحب عوام کی کوئی بڑی خدمت کرنے کے لیے بڑے بے چین رہتے ہیں۔اور اس مقصد کے لیے کوئی بڑا عہدہ بھی چاہتے ہیں ۔لیکن جس لیڈر کی بدولت کسی اہم منصب پر فائز ہوتے ہیں اس سے بے وفائی کرنا اور اس میں کیڑے رلاش کرنا بھی ملک غلام مصطفی کھر کا ہی خاصہ ہے۔دیکھتے ہیں کہ اس نئی سیاسی جماعت مسلم لیگ فنکشنل میں کتنی دیر قیام کرتے ہیں اور پیر پگارا شریف ان کی فطرت بد سے خود کو کتنا محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو تے ہیں۔اب تو خیر پنجاب تو کیا پورے پاکستان میں شیروں کی کمی نہیں ہے۔مسلم لیگ نواز شیروں کی جماعت ہے ۔ میاں شہباز شریف نے اپنے سے بڑھ کر کوئی شیر جمنے ہی نہیں دیا۔ میدان چاہئے زیادہ شادیاں رچانے کا ہو یا عوام کی خدمت کا۔۔۔۔میاں شہباز شریف نے تمام میدانوں میں اپنا سکہ جمایا ہوا ہے۔مصطفی کھر کے کئی ریکارڈ تو میاں شہباز شریف نے توڑ دئیے ہیں اور کئی عالمی ریکارڈ قائم بھی کیے ہیں۔جنہیں توڑنے کی کم از کم غلام مصطفی کھر میں ہمت اور سکت نہیں ہے۔اور نہ ہی بوڑھا شیر پنجاب میں سے باقی جماعتوں کا صفایا کر کے تمام پنجاب کی نشستیں پیر صاحب پگاڑا شریف کے قدموں میں لیجا کر نچا ور کرنے کی حکمت ان کے پاس ہے۔نہ جانے پیر صاحب نے انہیں کس خوش فہمی میں پنجاب کی صدارت سونپ دی ہے؟خیر میں تو خدا بزرگ و برتر سے یہی دعا کرتا ہوں کہ خدا پیر صاحب پگاڑا شریف کا بھلا کرے جنہوں نے کھر صاحب کی آدھی خواہش پوری کردی ہے۔میں پیر صاحب سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں کہ پیر صاحب جہاں آپ نے اپنی مرضی اور اپنی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھر صاحب کو پنجاب کی صدارت سونپ دی ہے وہاں فنکشنل لیگ کی بے مثال کامیابی کے بعد انہیں پبجاب کی وزارت اعلی کے منصب پر ضرور فائز کیجئے گا تاکہ مصطفی کھر صاحب اپنے من کی مراد پوری کر نے میں کامیاب ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں  فضل الرحمن، رحمن ملک اورعمران پردہشت گردحملوں کا خطرہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker