تازہ ترینکالممیرافسر امان

دی اینڈ!

رمضان کے مبارک مہینے کی ستاسویںشب جس میں پاکستانی عبادت کے اندرمصروف تھے کچھ ملک دشمنوں نے ہمارے کامرہ منہاس ائر بیس پر حملہ کر کے اپنی مسلم دشمنی کا ثبوت دیا یہ نہ تو پاکستانی ہو سکتے ہیں نہ ہی کوئی مسلمان اس بابرکت رات میں ہزار اختلافات کے باوجود کوئی مسلمان ایسی قبیج حرکت نہیں کر سکتا ہے یقیناً یہ لوگ غیر ملکی دہشگرد تھے۔ کامرہ ائر بیس پر نو دہشتگردوں، جو فوجی وردیوں میں ملبوس تھے نے حملہ کر دیا جس میں نو کے نو دہشت گرد ہمارے سیکورٹی کے لوگوں سے8 گھنٹے مقابلے کے بعد ہلاک کر دئیے گئے۔
یہ دہشت گرد رات کی تاریکی میں جمعرات کی رات۲ بجے کے قریب کامرہ منہاس بیس کی مغر ب جانب گائوں پنڈ سلمان مکھن کے ویرانے سے کامرہ ائر بیس کی8 فٹ اونچی دیوار پر سیٹرھیاں لگا کر بائونڈری وال کو عبور کیا اور بیس پر حملہ کر دیا۔ترجمان کے مطابق خود کار ہتھیاروں اور آر پی جی سے لیس حملہ آوروں کو سیکورٹی اہلکاروں نے ائر کرافٹ ہینگر تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کامرہ کی سیکورٹی فورسسز نے موئثر کاروائی کی۔ سیکورٹی اہلکاروں اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً2 گھنٹے سے زائد جاری رہا ۔ ان کے حملے سے ہینگر اور ایک جہاز کو جزوی نقصان پہنچا۔ایک سیکورٹی اہلکارشہید ہوا۔ بیس کمانڈر سمیت ۴ اہلکار زخمی ہوئے بیس کو کسی بڑی کاروائی سے محفوظ کر لیا گیا۔بیس پر کام کرنے والے ہمارے چینی انجینئر بھی محفوظ ہیں۔ فضائیہ کے مطابق یہ خود کش دہشگردغیر ملکی تھے۔سارے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ دہشت گرد فوجی وردیوں میں ملبوس اور جدید اسلحہ اور خود کش جیکٹس سے لیس تھے۔ ان کی طرف سے بچھائیں گئیں۲بارودی سرنگیں کنٹرولڈ دھماکوں سے تلف کر دی گئی اور ان کے موبائل فونز اور جدید اسلحہ قبضے میں لے لیا گیا۔رحمٰن ملک کے مطابق مرنے والے دہشت گردوں کا تعلق وزیرستان سے ہے ان میں سے چار دہشتگردوں کی شناخت ہو گئی ہے۔ پاک فضائیہ کے اعلانیہ کے مطابق تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی جس کے ہیڈ ائر مارشل سید اطہر ہونگے۔
وزارت داخلہ نے2 ہفتے قبل پنجاب حکومت اور رینجرز کو فضائیہ کی تنصیبات پر حملوں کی اطلاع دے دی گئی تھی کہ دہشت گرد27 اور28 رمضان کے درمیان کاروائی کر سکتے ہیں۔8 گھنٹے کے سرچ آپریشن کے بعد سیکورٹی اداروں نے دہشت گردوں کی کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد علاقہ کو کلئیر قرار دے دیا اور سیکورٹی ادروں نے معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری کر دیں اٹک پولیس نے 8 مشکوک افراد بھی گرفتار کئے کامرہ کے قریب آبادی میںسرچ آپریشن کرتے ہوئے ان علاقوں میں مقیم افراد کا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے۔ملزمان کے خلاف تھانہ صدر ا ٹک پولیس نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ایک ایف آئی آر فضائیہ کی طرف سے بھی درج کی گئی ہے۔ کلیئرنس کے بعد اٹک کامرہ روڈ کو عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا ہے صدر مملکت، وزیر اعظم،وزیر دفاع،اور وزیر داخلہ نے حملے کی مذمت کی اور جامع تحقیقات کا حکم جاری کیا۔پورے ملک میں سیکورٹی ہائی الرٹ کرکردی گئی ہے۔
یہاں تک سیکورٹی کنسرن ہے تو بیس کے اندرسیکورٹی اسٹاف نے دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا خود بیس کمانڈر ائر کموڈورمحمد اعظم سمیت ۴ شدید زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ایک اہلکار سپاہی آصف شہید ہوا جس کی نماز جنازہ کامرہ ائر بیس پر ادا کی گئی اس میں وزیر اعظم،وزیر دفاع اور دوسرے حکومتی حضرات شریک ہوئے بعد میں اس کی جسد خاکی فضائیہ کے سی ون جہاز کے ذریعے آبائی جگہ ملتان روانہ کر دی گئی آج ایک مذید زخمی چل بسا ہے۔ ائر چیف نے دہشتگردوں کے خلاف اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے سپاہی شہید آصف رمضان کے اہلخانہ کے لیے 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔
سید منور حسن اور عمران خان کے مطابق کامرہ ائر بیس حملہ ممکنہ وزیرستان آپریشن کا رد عمل ہے حکومت اور فوج اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں ورنہ پورے ملک میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے حکومت جانتی ہے مذید کاروائیاں ہونگی۔ دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کے خلاف امریکی جنگ میں حکمرانوں کی شرکت نے ملک کو تباہو برباد کر دیا۔وزرات داخلہ کے کے مطابق شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ طالبان دہشت گرد عدنان ریشد کامرہ ائر بیس حملے میں ملوث ہو سکتا ہے۔
تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے اور کہا کہ جے ایف طیارے ہدف تھے اگلا نشانہ بھارت ہو گا۔ کاروائی اسامہ بن لادن اور بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ ہے حملے جاری رہیں گے۔ادھر امریکی میڈیا اور بھارتی نے اپنی پُرانی اسلام اور پاکستان دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نے پروپگنڈا شروع

یہ بھی پڑھیں  ’’میں سپاں دی وی ماں‘‘

2
کیا ہوا ہے کہ کامرہ میں ایٹمی ہتھیار پر حملہ ہوا ہے جس میں وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستانی ایٹمی ہتھیار محفوط نہیں جبکہ یہ پروپگنڈا غلط ہے پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے اور یقیناً صحیح کہا ہے کہ پاکستانی ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں کسی کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ۔یہی بیان ایٹمی سائنسدان ڈاکڑ عبدلقدیر خان نے بھی دیا ہے
اخباری خبر کے مطابق پاکستان میں فوجی اور سرکاری تنصیبات پر لاتعداد دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں ۔ان کاروائیوں میں سیکڑوں اہلکار اور شہری شہید ہوئے ہیں۔2 مئی2011 ئ کو پی این ایس پر دہشت گرد حملہ آور ہوئے،11 نومبر2010ئ کراچی سی آئی ڈی سینٹر پر حملہ ہوا،8 مارچ2010ئ کو لاہور ایف آئی اے کے انسداد دہشتگردی ونگ پر حملہ ہوا،8 دسمبر 2009ئ کو ملتان میں حساس ادارے دفتر کے قریب دھماکہ ہوا،۳۱ نومبر2009ئ کو پشاور میں آئی ایس آئی کے ریجنل ہیڈ کواٹر کے قریب دھماکہ ہوا،15 اکتوبر2009ئ کو دہشت گردوں کی جانب سے لاہور ایف آئی اے بلڈنگ مناواں پولیس ٹرینگ اسکول اور بیدایاں میں ایلیٹ پولیس پر حملہ کیا گیا،10 اکتوبر2009ئ کو دہشت گردوں نے راولپنڈی میں پاک فوج کے جنرل ہیڈ کواٹر پر حملہ کیا،27 مئی 2009ئ کو لاہور میں آئی ایس آئی اور سی سی پی او آفس کے قرب دھماکہ ہوا،30 مارچ 2009ئ کو لاہورکے قریب مناواں پولیس ٹرینگ سینٹر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا،21 اگست2008ئ واہ فیکٹری کے گیٹ پر خود کش دھماکہ ہوا،11مارچ2008ئ کو لاہور میں ایف آئی اے بلڈنگ پر خود کش حملہ ہوا،4مارچ 2008ئ کو لاہور میں نیوی وار کالج خودکش ہوا، 24 نومبر2007ئ کو خود کش حملہ آور نے جی ایچ کیو ہیڈ کواٹر میں گھسنے کی کوشش کی،4ستمبر 2007ئ کو راولپنڈی کے آراے بازار میں خود کش حملہ ہوا ۔
قارئین یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد ہے کہ ہماری فوج کب تک اپنے شہریوں سے لڑتی رہے گی۔ یہ خود کش بمبار کب تک اپنی جان پر کھیل کر ہماری فوج کا جانی اور مالی نقصان کرتے رہیں گے۔ پاکستان کا اتنا نقصان بھارت سے جنگوں کے دوران نہیں ہوا جتنا ان مٹھی بھر خود کش دہشت گروں کی وجہ سے ہوا ہے ہمیں یاد رکھنا چاہیے ایسے لوگوں سے مذاکرات سے ہی معاملہ درست ہو سکتاہے اس کا فوجی حل ممکن نہیں ان اسلحہ بردار لوگوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی قوم اور اپنے ہی ملک کا نقصان کر رہے ہیں۔ ہمارے مقتدر حلقے اتنے بے خبر ہیں جن لوگوں کو مارنے کے لیے نیٹو سپلائی کھولی گئی ہے وہ ہمیں پھولوں کے گلدستے بھیجیں گے یا خود کش حملے کر واکے بدلہ لیں گے۔ہمیں اپنی غلطی کا احساس کرنا چاہیے اور امریکا کی جنگ سے علیحدہ ہو جانا چاہیے یہی مسئلے کا حل ہے۔ محب وطن سیاسی اور دینی پارٹیاں بار بار مذاکرات کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن مقتدر حلقے ان کی باتوں کو سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔پاکستان کے سپہ سالار کا آج کا بیان قوم کی ترجمانی ہے انہوں نے امریکی فوج کے سربراہ جنرل جیمز میٹس کو صاف جواب دیا کہ شمالی وزیرستان میں مشترکہ کاروائی نہیں کریں گے کاروائی کا فیصلہ ملک کے مفادات کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا ہلیری کلنٹن سے صرف مربوط آپریشن پر اتفاق ہوا تھا مشترکہ کاروائی کا مطالبہ عوام اور فوج کے لیے ناقابل قبول ہے بیرونی دبائو میں آکر فیصلہ نہیں کرینگے۔ امریکہ ہمیں اپنے شہریوں سے مذاکرات نہیں کرنے دیتا وہ خود تو افغانستان میں طالبان سے بات کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ آج ہی عید الفطر کے پیغام میں طالبان کے امیر المومنین ملا عمر نے امریکا سے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات کو شکست نہ سمجھا جائے بات چیت کا مقصد قیدیوں کا تبادلہ اور سیاسی دفتر کا قیام اور دیگر مقاصد کا حصول تھا۔امریکاپاکستان کو مذاکرات نہیں کرنے دیتا۔ ملک کے محب وطن حلقوں کے مطابق لال مسجد اور مدرسہ جامع حفصہ پر بے گناہ بچیوں پر فاسفورس بموں سے حملے کی کاروائی سے،امریکا کی ایک فون کال سے ہمارے کمانڈو جنرل کی پسپائی اور امریکا کو لاجسٹک اور فوجی اڈے اور ائر پورٹ دینے، سوات اور باجوڑ اور ملک میں دوسرے آپریشنز سے جو ملک میں آگ لگی تھی اب ناٹو سپلائی کھلنے سے، ڈرون حملوں کی وجہ سے اور شمالی وزیرستان میں ممکنہ آپریشن سے ملک میں مذید خون خرابہ ہو گا گو کہ فوج نے اس کی تردید کر دی ہے۔آخر ہم کیوں نہ ان مسلح مزاحمت کرنے والے لوگوں سے مذاکرات کریں آخر ہم دشمن ملک بھارت سے بھی تو مذاکرات کی بات کرتے رہتے ہیں تو اپنے شہریوں سے مذاکرات کرنے میں کیا حرج ہے۔یہ تازہ خود کش حملہ پاکستانی مقتدر حلقوں کو دی اینڈ کے طور پر لینا چاہیے اور مذاکرات کا عمل فورناً شروع کرانا چاہیے امریکا کی جنگ سے علیحدہ ہونا چاہیے تاکہ اس عذ اب سے پاکستانی قوم نکلے ملک میں ترقی ہو امن آمان ہو اللہ ہمارے ملک کی حفاظت کرے آمین۔

یہ بھی پڑھیں  رمضان المبارک نیکیوںاور برکتوں کا مہینہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker