انور عباس انورتازہ ترینکالم

الیکشن کے بعد۔۔۔سیاسی قیادت کی اصل ذمہ داری کا امتحان

anwar abasآج گیارہ مئی ہے۔۔۔انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور فیصلہ کی وہ گھڑی آن پہنچی ہے۔۔۔جس کے ہم سب کو بڑی شدت سے منتظر تھے۔۔۔ہمارے ساتھ مستقبل میں جو اچھا یا برا ہونے جا رہاہے۔اسکا دارومدار آج گیارہ مئی کے دن بیلٹ پیپر پر لگائی گئی ہماری مہر پر ہوگا۔۔۔ کیونکہ جیسی پارٹی کو ہم عوام اپنی قیادت کے لیے منتخب کریں گے ۔ہماری ،آپ کی بلکہ ہمارے پیارے پاکستان کی قسمت اور سمت کا تعین یہی ہماری لگائی گئی مہر کرے گی۔ہمارا یعنی ہم عوام اور ہماری سیاسی قیادت کا اصل امتحان تو گیارہ مئی کے اگلے روز اس وقت شروع ہو گا۔ جب انتخابات کے نتائج آئیں گے۔امتحان یہ ہوگا کہ ہم ان نتائج کو کس حد تک درست تسلیم کرتے ہیں؟ یا پھر اپنی مرضی و منشا کے مطابق نتائج نہ آنے پر ہمارے سیاسی قا ئدین نتخابات کے صاف ،شفاف اور غیر جانبدار انہ نہ ہونے کیالزامات لگا کر انتخابات کے نتائج کو ماننے سے ہی انکار کر دیتے ہیں ۔اور ہم یعنی عوام آنکھیں بند کرکے قائدین کے اشاروں پر ملک میں افراتفری اور ادھم مچا نے کے لیے سڑکوں کا رخ کرتے ہیں۔ہر کوئی اس بات سے متفق ہے کہ یہ انتخابات کس قدر اہمیت کے حامل ہیں۔ اور سب کہتے ہیں ۔کہ یہ انتخابات ہماری اور پاکستان کی مستقبل کے حوالے سے سمت کا بھی تعین کریں گے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہماری تمام سیاسی قیادت کے ناتواں کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اب سیاسی قیادت نے فیصلہ کرنا ہے کہ ملک کو 1977 کیانارکی کی جانب لیجانا ہے ۔اور اسے غیر جمہوری قوتوں کے حوالے کرکے ملک اور قوم کو تاریکی کے نہ ختم ہونے والے اندھیروں میں گم کرنا ہے۔ یا ملک کوروشن بنانا ہے اور ترقی کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔خوف اور دہشت کی فضا کے باوجود پاکستانی عوام گھروں سے باہر نکلی اور اس نے اپنی پسندیدہ پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی نشان پر مہر لگا کر اپنا فرض بھی نبھادیاہے۔اپنی پسند کے امیدوار یا پارٹی کو ووٹ دینا ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔اور اس سے اسکا یہ حق کوئی جاگیردار ،خان بلوچ،سردار یا وڈیراکوئی طالع آزاما نہیں چھین سکتا ۔پاکستانی عوام اور عوام کی نمائندہ سیاسی جماعتوں نے 23 روزہ انتخابی مہم بڑے صبر و تحمل سے چلائی۔حالانکہ اس مختصر سی انتخابی مہم کے دوران 115پاکستان کے شہری موت کی نید سلادئیے گے۔ جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اس وقت عوام نے اپنا فیصلہ دیدیا ہے ۔ یعنی پولنگ کا وقت ختم ہو چکا ہے ۔ اور عوام نے اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں کے حق میں مینڈیٹ دیدیا ہے ۔اور اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار کی جرآت نہیں کہ عوام کا فیصلے ہمیشہ درست ہوتے ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ عوام کسی ایک پارٹی کو مینڈیٹ نہیں دیں گے ۔شایدان کے خیال میں یہ ہو کہ عوام سیاسی جماعتوں کی انتقام کی حدوں کو چھوتی ہوئی روش سے تنگ آ گئی ہے اور اس نے سوچا ہو کہ ہمارے منقسم مینڈیٹ کے باعث کوئی ایک جماعت فرعون نہ بن سکے گی۔بلکہ تمام سیاسی جماعتیں ملکر اتحاد کے ساتھ حکومت سازی کریں۔ہماری عوام نے پورے شعور اور جوش و خروش کے ساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے ۔شہروں اور دیہاتوں میں جو عوامی جوش اور ولولہ میں نے دیکھا ہے ۔اسے دیکھتے ہوئے میں یہ کہہ سکتا ہوں۔اس بار کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ عوام گھروں سے باہر نہیں نکلی۔عوام کے فیصلے کے مطابق تمام پارٹیوں کو عوام کے فیصلے کے آگے سرتسلیم خم کرنا چائیے اور آگے کی طرف قدم بڑھانے اور جمہوریت کے استحکام کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی پر اپنی نگاہیں مرتکز کرنی چاہئیں۔پاکستان کا بچہ بچہ بخوبی جانتا ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔اور بیشمار مسائل اور چیلنجزمنہ کھلے بیٹھے ہیں۔ہماری نئی منتخب سیاسی قیادت اور اپوزیشن عوام کو یہ یقین اور احساس دلائیں کہ ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کو نہیں دہرایا جائیگا۔اور عوام کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل بھی کیا جائیگا۔جو بھی پارٹی یا اتحاد حکومت بنائے اس کا فرض ہے کہ وہ عوام کی امنگوں کا خیال رکھے اور انکے مسائل حل کرنے میں کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر پیش رفت کرے۔سب سے اہم مسلہ دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔اور پاکستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنا ہوگا ۔دہشت گردوں کی بیخ کنی کرنے کے ہمیں اپنے پاکستان کو جنت نظیر بنانا ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں کسی قسم کی مصلحت پسندی کو آڑے نہیں آنے دینا ہوگا۔خاص طور پر کشمیر اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے کی جانب بھرپور توجہ دینی ہوگی۔محض اسلیے اس منصوبے کو ختم کرنے کی سوچ کو پروان چڑھانا درست نہیں ہوگا کہ ایران ایک شیعہ ملک ہے ۔اور اسکے ساتھ اس منصوبے کو مکمل کرنے سے ہمارا برادر اسلامی ملک سعودی عرب ناراض ہو جائیگا۔یا یہ کہہ کر کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے سے امریکہ ہم پر پابندیا ں لگا دے گا اور ہمیں پتھر کے زمانے میں دھکیل دے گا۔یہ سب مفروضے ہیں۔ایران پاک گیس پائپ لائن منصوبے کو صرف اور صرف پاکستان کے مفادات کی نظر سے دیکھنا ہوگا۔اس سے بڑھ کر یہ کہ نئی حکومت اور اپوزیشن کو عوام کے اتحاد پر زیادہ توجہ دینی چاہئے تاکہ کسی بدخواہ کو اسکی کی جانب میلی آنکھ دینے سے قبل پتہ ہو کہ پاکستان کے 20 کروڑ عوام ایک ہیں۔ اگر نئی حکومت ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئی تو پھر ہمیں دنیا کی کوئی سپر پاور ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ہم سے کہیں چھوٹے ملک ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے۔کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔سیاسی قیادت پر یہ بھی فرض عائد ہوتا ہے اور اسکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے ساتھ یکساں اور مساوی برتاؤ کرے۔اسکی نظروں میں بلوچی ،پٹھان، سندھی اور پنجابی کے مابین پیدا کی جانی والی محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ورنہ دشمن اپنا کھیل کھیلنے میں کامیاب ہو جائیگا۔

یہ بھی پڑھیں  ممبران اسمبلی وزیر اعلی کے پتوکی کے دورے کے دوران گنے کے کروڑوں کسانوں کے مطالبات منظورکرائیں، کسان بورڈ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker