شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / تھو ڑا انتظارفرمائیں

تھو ڑا انتظارفرمائیں

عوام سمجھے ، عوام کیا سمجھے ، عوا م یہ سمجھ کہ ، خا ں کی حکو مت ، پا لیسیاں بنا رہی ہے، کا ر کر دگی نظر آ ئے گی، بس تھو ڑا انتظا ر فر ما ئیں ، کچھ حلقہ پو چھتا ہے کہ یہ مہنگا ئی ، جو اب ملتا ہے ،حا لا ت ایسے ہیں ، ملکی صو رت حال ایسی ہے ، عوام حکو مت کی مجبو ری سمجھیں ،،، ایک لا ئن ،،
خاں کی با تیں کا م کیں،،، کا رکر دگی کا ش ایسی ہو جا ئے ،،،
مو جو دہ حکو مت اپنے انداز میں حکو متی مجبو ریوں کو دیکھتے ہو ئے ، ایسے اقدام اٹھا رہی ہے کہ عوام کو زیا دہ محسو س نہ ہو کہ حکو مت وقت عوام کے لیے پر یشا نی بنا رہی ہے ، مگر کیا کر یں ہر پند رہ دن بعد اور ہر ماہ کے بعد پٹر ولیم قیمتیں بڑ ھا نی پڑ جا تی ہیں ، پٹر ول کی قیمت بڑ ھنے کے سا تھ ہی ہر طر ف مہنگا ئی کی گھٹنی بج جا تی ہے ، عوام دبے الفا ظ مہنگا ئی کا رونا رو رہی ہے ، مگر اس کی آ واز دم پیدا ہو جب اپو زیشن جما عتیں عوام کی آ واز بنے اور کہیں کہیں سڑ کو ں پر احتجا ج نظر آ ئے ، مگر اپو ز یشن کے سا تھ مسا ئل ہی کچھ اس طر ح کے چل رہے ہیں ، کہ وہ اپنی صو رت حال کو کنٹر ول کریں یا عوا م کی آ واز بنیں اور سیا ست کو چمکا ئیں ،مو لا نا صا حب کہیں اپنی صلا حیت دکھا نا چا ہتے مگر ان کو چا نس نہیں دیا جا رہا ، خاں صاحب چا ہیں تو ان کو کسی کمیٹی کا ہیڈ ہی بنا دیں چلیں مولا نا صا حب کا گزراہ چلتا رہے گا اور مو لا نا صا حب کی طر ف سے بھی کہا جا ئے گا ، پہلے جمہو ریت خطر ے میں تھی اب ہما رے ہا تھوں میں آ ئی ہے اس کو ہم سنبھا ل لیں گے ، مسلم لیگ ن اور پیپلز پا رٹی والے اپنے اپنے قا ئد کو بچا نے کے لیے کو شا ں ہیں ، مسلم لیگ ن کو لا ہور میں کا فی ریلیف مل رہا ہے ، ادھر پیپلز پا رٹی والوں کو کو ئی سگنل نہیں دیا جا رہا ہے ، زرداری صا حب سیا ست کے ما ہر ہیں ، ابھی وہ کچھ پتے کھیل رہے ہیں مگر ہم ، عوام کو صا ف نظر نہیں آ رہے ، تحر یک انصا ف کی پو ری جما عت کو یہ فا ئد ہ ہے کہ اس جما عت کی چھو ٹی مو ٹی غلطیوں کو عمران خاں صا حب کا خطا ب کلےئر کر جا تا ہے ، اور عوام کی زبا نوں پر تحر یک انصاف کی چھو ٹی مو ٹی غلطیوں کی بحث کی بجا ئے یہ ڈسکس ہو تا ہے کہ خاں عوام کی آ واز میں عوامی با تیں کر گیا ہے اور ہم عوام چا ہتے بھی یہی ہیں ۔ مگت یہاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ خاں صا حب اپنی جما عت کی غلطیاں کب تک سنبھا لتے رہیں گے، ابھی جہا نگیرتر ین اور شا ہ محمود قر یشی صا حب والا ایشو پو ری انگڑا ئی نہیں لے رہا ، اگر مسئلہ بنتا ہے تو خاں صا حب کے لیے کڑا امتخان گاْ ۔
ایک سوال یہ بھی پیدا ہو تا ہے ، کہ جیسے تحر یک انصا ف ما ضی میں اپو از یشن میں ہو تے حکومتی جما عت پر کڑی تنقید کر تی رہی ہے اور اس وقت جو اظہا ر آ گے سے حکو متی جما عت کیا کر تی تھی ، بلکل ویسے ہی آ ج تحر یک انصا ف کے وزیر اظہا ر خیا ل کر رہے ہیں تو عوام ان کی با تیں بر داشت کر جا ئے گی یا عوام کو سمجھ لگ جا ئے گی کہ حکو مت میں جو بھی جما عت ہو تی وہ ایسے ہی نکتے نکا لتی ہے ، جیسے ن لیگ ، پیپلز پا رٹی والے اور اب تحر یک انصا ف کر رہی ہے ، جیسے اسد عمر صا حب نے فر ما یا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضا فے کا فیصلہ حکو مت نہیں بلکے جو مخصو ص ادارہ ہے وہ فیصلہ کر تا ہے ، اب قا رئین ضر ور سوال اٹھا ئیں گے کہ اسد عمر صا حب ہی اپواز یشن میں ہو تے ہو ئے حکو مت پر تنقید کر تے تھے کی با قی دنیا میں پٹر ول اتنی قیمت پر اور پا کستان میں کیوں اتنا مہنگا ،
اس میں کو ئی شک نہیں کہ منگا ئی بہت تیز ی کے سا تھ بڑ ھ رہی ہے ، مز دور طبقہ ایک ما ہ میں دس سے پند رہ ہزار کی کما ئی کر تا ہے ،تو صر ف اس پر با ت کر لیں کہ پا نی بجلی اور گیس کے بل اور کسی کے ایک دو بچے ہیں تو ان کے خر چ کے بعد اس مز دور کے پا س کیا بچتا ہو گا ، خاں صا حب نے کل اسلا م آ با د کے پا س غر یبوں کے پا س جا کر ان سے رات گے ملا قا ت کی اور وہاں کی سہو لتیں جو فرا ہم کی جا رہی ہیں اس کا جا ئزہ لیا ،ریا ست کے سر براہ کے یہ فر ض ہے کہ وہ غر یب طبقے سے ملے ان کے مسا ئل سنے ، مگر با قی عوام کیا ان ملا قا توں سے خو ش ہو جا ئے گی ، یہ منطق بھی مان لیتے ہیں کہ انڈیا کو جیسے جوا ب دیا گیا شا ہد با ؤ جی کی حکو مت جو اب نہ دیتی ، یہ بھی ما ن لیتے ہیں جو ایک ہسپتال نہیں ایسا بنا سکے جس میں یہ خو د اپنا علا ج کر وانا پسند کر یں تو ان کو کو ئی حق نہیں کہ اب بھی عوام کو مز ید بے و قو ف بنا ئیں ، مگر گوشت چا ول دالیں تیل بجلی گیس کے بل اس پر کیا عوام کا ردعمل نہیں نظر آ ئے گا ، خاں صا حب عوام کے دلو ں پر تب تک را ج کر سکتے ہیں بے شک دوسر ی جا نب مہنگا ئی اور با قی معاملا ت ہو جا ئیں بس ان کے و زیر قا بو میں رہیں اور ایسی با تیں نہ کر ئیں جس سے عوام سو چ میں پڑ ھ جا ئے کہ صر ف چہر ے بد لے ہیں اور وہ بھی کچھ اور صرف حکو متی جما عت کا نام تبد یل ہو ا ہے با قی سب کچھ پر انا ہی ہے ، عوام کا ایک سوال خاں صا حب سے یہ بھی ہے کہ احتسا ب ہو نا چا ہیے مگر صر ف پکڑ پکڑ نہ کھیلا جا ئے بلکے ان سے پیسے لے کر قو می خز انے میں شا مل کیے جا ئیں تب عوام سمجھے گی کہ اصل میں احتساب اب ہو ا ہے اور اس کا ملک قوم کو کچھ فا ئد ہ بھی ہو ا ہے ،
عوام سمجھے ، عوام کیا سمجھے ، عوا م یہ سمجھ کہ ، خا ں کی حکو مت ، پا لیسیاں بنا رہی ہے، کا ر کر دگی نظر آ ئے گی، بس تھو ڑا انتظا ر فر ما ئیں ، کچھ حلقہ پو چھتا ہے کہ یہ مہنگا ئی ، جو اب ملتا ہے ،حا لا ت ایسے ہیں ، ملکی صو رت حال ایسی ہے ، عوام حکو مت کی مجبو ری سمجھے،،، ایک لا ئن ،،
خاں کی با تیں کا م کیں،،، کا رکر دگی کا ش ایسی ہو جا ئے ،،،

یہ بھی پڑھیں  سونامی کا خوف ،ریڈزون بلاک،فوج تعینات

error: Content is Protected!!