تازہ ترینکالم

ٹوبے کا مائیکل

شادی تو محض ایک بہانہ تھی ۔ ٹوبہ اور ٹیکو سنگھ ۔ ٹوبہ رہ گیا ۔ ٹیکو سنگھ تاریخ میں اپنے پانی کے مشکیزے کے ساتھ جا سویا ۔ راستے میں بار بار” بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ” یاد آتا رہا ۔ شہر کے نواح میں ہر دوسرا آدمی بوٹا اور ہر تیسرا آدمی ٹیکو سنگھ کا روپ دھارے تھا ۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ختم ہوئیں تو میرج ہال سامنے تھا ۔ اس چھوٹے شہر میں اس قدر جدید شادی ہال کافی بڑا کارنامہ تھا ۔ کارنامہ انجام دینے والے صاحب سنی سنائی ہے کہ حکمت کے پیشے سے وابستہ حکیم صاحب ہیں ۔ وجہ شہرت ایک ایسی دوائی کہ جو استھما کے مریضوں کے لئے باعث آرام ہے اور یہ دوائی باہر کے ممالک بھی مہنگے داموں بیچ کر حکیم صاحب نے پاکستان کو اپنے لئے ولائت بنایا ہوا ہے۔ مقدر کا کھیل ہے نصیب کی بات ہے ۔ کسی کا پٹرول نہیں بکتا تو کسی کا متر بھی پٹرول بن کر بکتاہے ۔ حکیم صاحب بھلے جو بھی بیچیں ہمارے لئے ان کے شادی ہال سے منسلک کمرے کافی باعثِ آرام تھے۔ شادی میں سب عام تھا ماسوائے جرمن نڑاد گورے کے ۔ خدا کی شان کہ کہاں تو ٹیکو سنگھ نے شہر آباد کیا اور آج جرمنی کا مائیکل وہاں ٹیکو سنگھ کے شہر کے باسی کی شادی میں شریک تھا ۔ گاڑیوں کی قطار دولہے کی گاڑی سب سے آگے ۔ اس کے پیچھے باقی گاڑیاں۔ ہم پروٹوکول کے ہاتھوں مارے ہوئے لوگ ہیں۔ ہم اگر گاڑیوں کی قطار نہ بنائیں تو شائد دولہے کی عظمت و درجات میں کچھ کمی آجائے بھلے ہی باقی سب ٹریفک جام ہوجائے۔کب ت ہم پاکستانی اپنے برخوداروں کو شہزادہ سلیم بنا کر لمبی قطاریں سجاکربیاہتے رہیں گے۔ کچھ پتا نہیں یہ ٹرینڈ کب اور کیسے سیٹ ہوا ۔میری ناقص رائے میں ہو سکتا ہے کہ ہم نے جھوٹ فریب دھوکہ دہی وعدوں کو حدیث قرار دے کر مکر جانے کے فن کے ساتھ ساتھ یہ پروٹوکول کی کوکین بھی اپنے حکمرانوں سے لی ہو۔ خیال غلط بھی ہوسکتاہے۔ اب گھوڑوں کی جگہ کاروں نے لے لی ہے ۔ خیر مائیکل شادی کے ہال میں گم سم صوفے پر بیٹھا ایسے دیکھ رہا تھاجیسے پنجرے میں آنے والا جانور درو دیوار کا بغور جائزہ لیتا ہے۔ میرے اندر کا غلام نہ جانے کیوں مائیکل سے گپ شپ کے لئے تڑپنے لگا۔ میں نے بہت سمجھایاجب نہ مانا تو تب کھانا کھل گیا۔ غلامی کے ٹھرک کو پیٹ اور نگاہوں کی ہوس نے اچک لیا۔ کھانا کھا کر تمباکو نوشی کی عادت کو پورا کرنے کے لئے ہال سے باہر نکلاتو من کی مراد بھر آئی ۔گورا ایک پاکستانی کو جو غالبا اس کا ڈرائیور تھا ہاتھ کے اشاروں سے بہت کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا مگر پاکستانی نے بھی کچھ نہ سمجھنے کے باوجود اوکے اوکے کی رٹ لگا رکھی تھی۔ صورتحال خاصی دلچسپ تھی گورا کبھی اشاروں سے 2کا اشارہ کرتا پھر گاڑی دکھاتا پھر ڈگی کی طرف اشارہ کرتاپھر فرنٹ سیٹ کی طرف انگلی اٹھاتا۔ پھر ہاتھ سے جہاز بنا کر اسے اڑا کر دکھاتا۔ لیکن پاکستانی نے بھی ایک دفعہ نہیں کہاکہ” میاں مائیکل میں نہ گونگا ہوں نہ بہرہ۔ پر مجبوری اے وے کہ انگریزی میری کمزوری اے”۔ وہ جتنا یقین دلاتا کہ مجھے بات سمجھ آگئی ہے۔ گورااتنا زیادہ الجھن کا شکار ہوتا۔مجھے پاس پاکر مائیکل نے میری خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا یہ فیصلہ کرنا تھا کہ میں بھی غلامی کی سب زنجیروں کو توڑ کر اس کی محبت کا طوق گلے میں سجائے مرید کی طرح اس کے پاس جا کھڑا ہوا۔ تعارف کی منزل کو بعد میں طے کرنے کا کہہ کر پہلے اس نے اپنا مسئلہ بیان کیا کہ” مجھے کل دو بجے لاہور کے لئے روانہ ہونا ہے شام کو چھ بجے میری فلائیٹ ہے ۔ پاکستانی ہر جگہ ایک گھنٹہ لیٹ ہوتے ہیں مجھے خطرہ ہے کہ یہ اوکے اوکے کہہ کر مجھے فلائیٹ مس ہوجانے کے بعد لاہور پہنچائے گا۔ آپ برائے مہربانی اسے اپنی زبان میں سمجھا دیں”۔ ڈرائیور سے جب میں نے دریافت کیا تو وہ ہنسا کہ” کل 2بجے ولیمہ اسٹارٹ ہوگا اور ہم بھلا اسے ولیمہ کھائے بغیر یہاں سے تھورڑا جانے دیں گے”۔ گورے کا شک ٹھیک تھا معلوم ہوا کہ مائیکل سات دن سے پاکستانیوں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے اور شائد ماضی کے تجربوں سے ہی اس نے یہ سیکھا کہ” دے آر آل ویز لیٹ”۔ ڈرائیورکو میں نے معاملے کی حساسیت کا احساس دلایا تو وہ راضی ہوگیا کہ میں اسے کل بارہ بجے یہاں سے لیکر روانہ ہوجاؤں گا ۔اب باری تھی ایک دوسرے کو جاننے کی۔ تعارف کی منزل سے نکل کر جب اس نے مجھے بتایا کہ” لوگ یہاں بہت فرینڈلی ہیں۔ پاکستان کا صرف نام بدنام ہے کہ یہاں دہشت گردی ہوتی ہے مجھ سے تو جو ملا بہت پیار محبت سے ملا اور تو اور اس نے پولیس کی بہت تعریف کی "۔ میں خاموشی سے اس کی سب تعریفیں سنتا رہااور آخر میں صرف اتنا کہا”مسٹر یوآر ٹیکنگ اٹ ایزی”۔ خوف کا ایک رنگ اس کے چہرے پر آیا اور گزر گیا۔ گورا دولہے کا استاد تھااور شاگرد کی رخصتی کا ٹائم ہوگیا تھا۔ دولہا موصوف اڑگئے کہ مائیکل کے بغیر رخصتی نہیں ممکن ۔ مائیکل نے بھی اجازت چاہی۔ میں نے بھی مسکرا کر اجازت دے دی۔ آخرکار دولہا موصوف کی بھی مجبوری ہوگی کہ عین رخصتی کے وقت پورا خاندان اگر گوراماسٹر نہ دیکھے گا تو بھلا کون یقین کرے گا کہ دولہا جرمنی میں زیر تعلیم ہے ۔ رخصتی چھوڑ کر میں نے بھی واپسی کا سفر باندھا۔
مائیکل سے لمحہ بھر گفتگو سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ لوگ وقت کے معاملے میں کس قدرحساس اور سنجیدہ ہیں۔ اور ہم لسی کے دیوانے وقت کو روزانہ بے وقعت کرنے میں مصروف ہیں۔ دوسرا مائیکل کی عمر ساٹھ سال تھی لیکن دیکھنے میں جسمانی ساخت اور فٹنس کے اعتبار سے وہ تیس سے زیادہ کا دکھائی نہ دیتا تھا۔ ہشاش بشاش چہرہ ،مسکراہٹ ہونٹوں پر رقصاں ،دھیما انداز گفتگو اور دوسری طرف ہم پاکستانی لوگ بے ڈھنگے ڈیل ڈول لٹکی ہوئی توندیں ۔ظلم کی حد تو یہ ہے کہ اب کالج کے طلبہ کی بھی توندیں نکلی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔نا خالص غذا تو تھی ہی ساتھ ہی ساتھ اب جو کمپیوٹر پر کرکٹ اور فٹ بال کھیلنے کی رسم کا رواج ہواہے یہ توندیں اسی سپورٹس مین شپ کا نتیجہ ہیں۔ پارک پہلے ہی کتوں کے قبضے میں چلے گئے گدھوں کا گوشت کھا لینے کے بعد ہم سب عقل کے بھی گدھے بنتے جارہے ہیں۔ بیگانگی کا یہ عالم ہے ملک اور ادارے تو دور کی بات کسی کو اپنی ذاتی صحت تک کا خیال نہیں ۔ سب سے پہلے پاکستان کی طرح سب سے پہلے صحت ہونی چاہیے اسکے بعد باقی دنیاکے جھنجھٹ۔ کمپوٹر پر کرکٹ نامنظور۔ بچوں کو بھی سپیس دیں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button