پروفیسر مظہرتازہ ترینکالم

کیا ایک نیا طوفان اٹھے گا؟

اللہ کی آخری کتاب میں درج ہے ’’تم اپنی عاقبت کے لیے جو بھلائی کما کر بھیجو گے ، اللہ کے ہاں موجود پاؤگے ۔جو کچھ تم کرتے ہو سب اللہ کی نظر میں ہے‘‘۔آقاؐ نے فرمایا ’’تیرے مال میں تیرا حصہ تو وہی ہے جو تو کھا کر ختم کر دے یا پہن کر پرانا کر دے‘‘۔اس کے باوجود بھی ہم محض دنیاوی آسائشوں کی خاطر اپنے ممدوحین کی مدح سرائی کر تے ہوئے یہ بھی نہیں سوچتے کہ صحافت تو عبادت ہے جس میں کثافت کی گنجائش نہیں ،ہرگز نہیں۔
محترم عمران خاں صاحب کے مدح سرا ایک سینئر تجزیہ نگار فرماتے ہیں کہ کپتان میں واپس پلٹنے اور خود کو بحال کر لینے کی غیر معمولی صلاحیت ہے ۔وہ فرماتے ہیں ’’مسلسل چار میچ ہارنے کے بعد جب کپتان نے اپنے عزم کا ارادہ کیا تو شرکاء ایک پھیکی اور شرمندہ سی ہنسی ہنسے ۔۔۔۔ کیا دیوانوں کی سی بات ہے‘‘۔ بات تو واقعی دیوانوں کی سی تھی اور حماقت سے لبریز کہ خاں صاحب تو اپنے سارے پتے کھیل کر مسلسل جیتنے والی ٹیم ویسٹ انڈیز کے رحم وکرم پر تھے ۔قوم کی دعاؤں اور ویسٹ انڈیز کی صریحاََ حماقت سے آسٹریلیا جیت گیا اور ہم ورلڈ کپ تک جا پہنچے وگرنہ ہماری پوزیشن تو آٹھویں، نویں تھی۔موصوف لکھتے ہیں ’’ اپنی قوتِ فیصلہ اور اپنے بلّے سے اس نے تاریخ لکھی‘‘۔یہ قوتِ فیصلہ تھی یا قدرت کی مہربانی؟ ۔خاں صاحب تو اپنی قوتِ فیصلہ کے جوہر دکھا کر چاروں شانے چت ہو چکے تھے البتہ قدرت مہربان ہو گئی ۔اگر قوتِ فیصلہ کی بات کرنی ہے تو آسٹریلیا کے مارک و ا اور سٹیو وا کی کیجئے جنہوں نے بسترِ مرگ پہ پڑے اپنے باپ سے ورلڈ کپ جیت کر لانے کا وعدہ کیا اور کر دکھایا ۔اگر ورلڈ کپ کی جیت پر ہی وزارتِ عظمیٰ ملتی تو پھر آسٹریلیا کے آج تک وہی حکمران ہوتے لیکن ایسا نہیں ہوا اور ایسا ہوتا بھی نہیں کہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے کرکٹ کے میدانوں میں ہوا کرتے ہیں نہ کرکٹ کی ’’پچ‘‘ اور ’’سیاسی پچ‘‘ میں کوئی مماثلت ہے ۔کرکٹ کی پچ دیکھ کر فوری فیصلے کیے جاتے ہیں اور سیاست میں عشروں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔وہاں ایک میچ ہارنے کے بعد دوسرا پھر تیسرا ۔۔۔ یہاں ایک ہی غلط فیصلہ قوموں کو عشروں پیچھے دھکیل دیتا ہے ۔مثال آپ کے سامنے ہے ، قوم کاایک غلط فیصلہ گزشتہ پانچ سالوں سے اسے عذابِ مسلسل میں گرفتار کیے ہوئے ہے ۔ویسے بھی خاں صاحب تو ابھی سیاست کے ’’بارھویں کھلاڑی‘‘ ہیں جنہوں نے ابتدا ہی میں یہ ثابت کر دیا کہ ’’ان تلوں میں تیل نہیں‘‘۔
موصوف فرماتے ہیں ’’ جوانوں کی اکثریت اب بھی ساتھ ہے ، چھوڑ تو لیڈر گئے ہیں ‘‘ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ جب لیڈر آ رہے تھے تو تحریکِ انصاف کے سیکرٹری اطلاعات جنابِ شفقت محمود کہتے تھے کہ ان کے آنے سے پارٹی مضبوط ہو رہی ہے ۔اب جب جا رہے ہیں تو انہوں نے پھر فرمایا کہ ان کے جانے سے پارٹی مضبوط ہو رہی ہے۔محترم لکھاری بھی تب اپنے ہر دوسرے کالم میں بڑے فخر سے یہ کہتے رہے کہ ابھی اور بہت سے لیڈر ان کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن اب وہ فرماتے ہیں کہ ’’مشرف کے ساتھی اور شیخ رشید؟۔تحریک کے نوجوانوں نے اگر انہیں مسترد کیا تو خوب کیا ۔زندہ لوگ یہی کرتے ہیں ‘‘۔مسترد تو خیر کسی نے نہیں کیا البتہ وہ خود ہی ہواؤں کا رخ دیکھ کر اُڑ گئے ۔رہی مشرف کے ساتھیوں کی بات ، تو تحریکِ انصاف میں غالب اکثریت تو اب بھی انہی کی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ اعجاز الحق ، منظور وٹو اور مصطفےٰ کھر کو ٹکا سا جواب دے دیا گیا ۔اس کی تصدیق یا تردید تو وہی اصحاب کر سکتے ہیں البتہ تحریکِ انصاف کی تاریخ اس کی نفی کرتی ہے ۔کیونکہ اس کا تو نعرہ ہی یہی ہے کہ’’ کسی آنے والے کو ہم کیسے منع کر سکتے ہیں ؟۔‘‘موصوف کہتے ہیں کہ اگر اس ملک کی تباہی مقدر نہیں اور یقین ہے کہ ہر گز نہیں تو عمران خاں 170 سیٹیں جیت جائے گا ۔کیونکہ کبھی اس کے پاس ایک سیٹ بھی نہیں تھی تو وہ اگر صفر سے 70 تک جا پہنچا تو 170 تک کیوں نہیں ؟۔معلوم تاریخ میں تو خاں صاحب صرف ایک ہی سیٹ جیت سکے ہیں البتہ محترم لکھاری کے خوابوں خیالوں اور کالموں میں خاں صاحب کبھی تیس ، چالیس کبھی ستّر اور کبھی 170 سیٹیں جیتتے رہتے ہیں ۔ویسے آج تک تو ان کا کوئی دعویٰ یا تجزیہ درست ثابت نہیں ہوا ۔ ان کے تجزیوں، دعووں اور ’’کالمی درویشوں ‘‘ کی پیشین گوئیوں کے مطابق تو پیپلز پارٹی کا د و ، تین سال پہلے ہی صفایا ہو جانا چاہیے تھا لیکن ایسا ہوا نہیں ۔دیکھتے ہیں کہ اب ان کے دعوے کا کیا حشر ہوتا ہے۔
موصوف نے کافی عرصہ بعدگجر خاں کے جلسے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سٹیڈیم میں 27000 کرسیاں رکھی تھیں لیکن غلط جگہ سٹیج بنانے کی وجہ سے ٹی وی چینلوں پر چند سو خالی کرسیاں دکھائی جاتی رہیں حالانکہ ہزارو ں لوگ سٹیڈیم سے باہر کھڑے تھے ۔سوال مگر یہ ہے کہ جب سٹیڈیم میں کرسیاں موجود تھیں تو لوگ سٹیڈیم سے باہر کیوں کھڑے ہوئے ؟۔ ۔ویسے جلسہ ختم ہونے کے بعد خاں صاحب سمیت بہت سے لوگ گجر خاں کی بزرگ ہستی کے ہاں اکٹھے ہوئے جہاں موضوع زیرِ بحث ہی جلسے کی ناکامی تھا ۔امن مارچ کے بارے میں موصوف فرماتے ہیں ’’خاں صاحب نے دوسری پارٹیوں کے لئے بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے اور ڈرون حملوں کے خلاف اتنی بڑی تحریک اٹھا دی ہے کہ اب تک نہ اٹھی تھی ‘‘۔بجا ، لیکن خاں صاحب تو جنوبی وزیرستان پہنچے ہی نہیں اور نہ ہی ان کا ایسا کوئی پروگرام تھا۔ ایک عام فہم شخص بھی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ہزاروں افراد اور سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل امن مارچ ٹوٹی پھوٹی سنگل روڈ پر ڈیرہ اسماعیل خاں سے کوٹ کئی تک 115 کلومیٹر کا فاصلہ رینگتے ہوئے کتنے گھنٹوں میں طے کر سکتا ہے ؟۔خاں صاحب تو امن مارچ لے کر ڈیرہ اسماعیل خاں ہی سے دس بجے نکلے تھے حالانکہ پروگرام سات بجے نکلنے کا تھا ۔وہ تین بجے ٹانک پہنچے جہاں سے کوٹ کئی تک جانا ، وہاں جلسہ کرنا اور پھر شام ڈھلنے سے پہلے ستر کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ٹانک واپس پہنچنا ویسے ہی ناممکن تھا۔اس لیے قوم یہ کیوں نہ سمجھے کہ یہ اسے بیوقوف بنانے کی ایک ناکام کوشش تھی ۔رہی ٹانک میں جلسہ کرنے کی بات توایسے متعددجلسے جماعت اسلامی ، اے این پی ، دفاعِ پاکستان کونسل اور جمیعت علمائے اسلام ٹانک ، باجوڑ ، دیر ،سوات اور خیبر ایجنسی میں کر چکی ہیں پھر خاں صاحب نے دوسری پارٹیوں کے لیے کون سا بڑا چیلنج پیدا کر دیا؟۔
موصوف فرماتے ہیں کہ نگران حکومتیں قائم ہوتے ہی صورتِ حال تیزی سے بدلے گی اور تحریکِ انصاف کے امیدواروں کے اعلان کے بعد ایک نیا طوفان اٹھے گا۔ان کا یہ فرمان بجا ، طوفان تو واقعی اٹھے گا لیکن تحریکِ انصاف کے اندر کیونکہ ابھی تو بہت سے پنچھی پرواز کے لیے پر تول رہے ہیں اور محترم لکھاری بھی خوب جانتے ہیں کہ کون کس پارٹی کے ساتھ رابطے میں ہے۔کیونکہ وہ نہ تو اتنے بے نیاز ہیں اور نہ ہی اتنے بے خبرجیسا کہ ظاہر کر رہے ہیں۔وہ فرماتے ہیں کہ ان کا تو خاں صاحب سے رابطہ ہی نہیں ہوتا اور ’’کل شام تلاش کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ بیرونِ ملک ہے ‘‘۔اللہ رے ایسی بے نیازی کہ ایک ابھرتے ہوئے اخبار کے قابلِ ذکر عہدے پرفائز شخص کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ خاں صاحب ملک میں ہیں یا بیرونِ ملک جبکہ الیکٹرانک میڈیا پر بار بار ان کے بیرونی دورے کی خبریں بھی نشر ہوتی رہیں۔ہو سکتا ہے کہ موصوف ان دنوں ’’مراقبے‘‘ میں ہوں۔

یہ بھی پڑھیں  رائے ونڈ:عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد عطائی دوبارہ میدان میں اتر آئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker