انور عباس انورتازہ ترینکالم

توہین آئین سے توہین قائد اعظم

anwar abasجب سے میں نے پاکستان کے ٹی وی چینلز پر زیارت میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی رہائشگاہ پر دہشت گردوں کے حملے اور وومن میڈیکل یونیورسٹی کی بس اور بولان میڈیکل کمپلیکس پر دہشت گردوں کے پے درپے بم دھماکوں کی خبریں سماعت فرمائی ہیں۔ اسوقت سے میں پوری رات سو نہیں سکا۔دہشت گردی کی اس اندوہناک واقعہ میں کل تیئس ہلاکتیں ہوئیں۔جن کی تعداد ان سطور کی اشاعت تک بڑھ بھی سکتی ہے۔ کویئٹہ کے ڈپٹی کمشنر عبدالمنصور کاکڑ،چار ایف سی اہلکار اور چار نرسیں بھی ہلاک ہوئیں،اور چودہ طالبات شہید ہوئیں۔ اس پر یہ خبر بھی مجھ پر خود کش حملے سے کم نہیں تھی کہ اتنے بڑے واقعہ کے باوجود ہمارے وزیر داخلہ چودہری نثار علی خان کو اتنی فرصت نہیں ملی کہ وہ اپنی تمام مصروفیات ترک کر کے بلوچستان تشریف لے جاتے۔
نواز شریف کی جانب سے خبر آئی ہے کہ انہوں نے چودہری نثار علی خاں سے ٹیلی فون کر کے واقعہ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مجھے حیرانی ہے کہ نواز شریف نے چودہری نثار علی خان سے معلومات لینے کی بجائے خود ڈاکٹر مالک سے رابطہ کرتے اور ان سے اظہار افسوس کرکے انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے۔افسوس کہ نواز شریف نے سرکاری مشینری کا سہارا لیا۔
ادھر وزیر اطلاعات سینٹڑپرویز رشید کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف نے بلوچستان کے وزیر اعلی ڈاکٹر عبدلمالک کو یقین دلایا ہے کہ دہشت گردوں کے گرفتاری کے لیے وفاقی حکومت ہر طرح کی مدد اور تعاون کرے گا۔ قائد اعظم کی زیارت میں واقع رہائش گاہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے کیا چاہتے ہیں؟ ان کے مقاصد کیا ہیں؟ انکی ڈور کون ہلا رہا ہےَ اور کہاں سے ہلائی جا رہی ہیںَ یہ سب کچھ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔دہشت گردوں نے پہلے قائد کے گھر پر حملہ کیا، پھر اسے نذر آتش کیا جس سے لکڑی کا سارا سامان ،اور اس قومی ورثہ میں موجود قائد اعظم کے استعمال کی تمام اشیا بھی جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ دہشت گردوں نے وہاں سے قومی پرچم اتارنے کا شرم ناک فعل کا ارتکاب کیا۔۔۔
قائد اعظم کی زیارت رہائشگاہ کو جلانے والے اور پاکستان کا قومی پرچم اتار کر اپنا جھنڈا لہرانے والے کہیں باہر سے نہیں آئے ۔اسی دھرتی کے رہنے والے ہیں۔بلوچ اور مسلمان بھی کہلواتے ہیں۔اور بلوچستان کی بلوچ بیٹیوں کو شہید بھی کرتے ہیں۔اور اس کارنامے کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔ اس دہشت گردی میں شریک بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان کے شہید نواب اکبر بگتی کی آل اولاد ہے۔یا طالبان ۔ایک بات طے ہے کہ انہیں مدد اور تعاون فراہم کرنے والی ہماری سلامتی کی دشمن تمام ایجنسیاں ملوث ہیں۔موساد،را، خاد سب بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے ،انہیں آزادی کے سنہرے خواب دکھانے والے یہی ہیں۔
اور انہیں وزیر اعظم پاکستان بھی جانتا ہے ۔ڈاکٹر عبدالمالک بھی ان سے نا آشنا نہیں ہے۔میر بیار مری،براہمداغ بگتی ہوں یا طالبان یہ سب ملکی قومی سلامتی اور قائد محترم سے زیادہ عزیز نہیں ہیں۔بیشک دہشت گردوں کا تعلق ہماری اپنی سرزمین سے ہی ہے۔لیکن انہیں جدید اسلحہ ،گولہ بارود اور مالی طور مستحکم کرنے والے یقیننا باہر کے ہمارے دشمن ہیں۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ باہر سے آنے والے اسلحہ گولہ بارود کو ہمارے ادارے کیوں نہیں روک پا رہے۔اسکی وجہ کرپشن قرار دی جاسکتی ہے۔کیونکہ ہمارے بارڈر سے غیر ملکی کپڑا،کاسمیٹکس ،شراب ،قیمتی گاڑیاں اور الیکٹرونکس کی اشیا دھڑلے سے سمگل ہو کر ملک کے کونے کونے میں پہنچ سکتی ہیں تو اسلحہ کیونکر نہیں پہنچ سکتا۔ہمارے اداروں کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ وہ اپنی سرحدوں سے سمگلنگ روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ہماری پولیس کے جوان تو چند ٹکوں کی خاطر سب کچھ داؤ پر لگانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر مالک کو بلوچستان کی وزارت اعلی طشتری میں رکھ کر یوں پیش نہیں کی گئی ہے ۔نواز لیگ کی قیادت بخوبی جانتی تھی کہ بلوچستان میں حکومت پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا وہ بستر ہے جس سے پورا وجود زخمی ہوگا۔اس لیے ایک تیر سے دو شکار کیے گے۔اگر ڈاکٹر مالک کی حکومت بلوچستان کی شورش پر قابو پا لے تو بھی ’’ہماری بلے بلے ‘‘ اور ’’واہ واہ ‘‘ بھی ہماری کہ ہم نے اقتدار انہیں دیکر قربانی دی اور ہماری سوچ صحیح ثابت ہوئی ہے۔اور اگر ڈا کٹر مالک بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔تو کہیں گے کہ بلوچستان کی بلوچ قیادت ناکام ہو گئی ہے۔نواز شریف جانتے تھے کہ سپریم کورٹ لاپتہ افراد کے معاملے پر بڑی متحرک ہے۔اور لاپتہ افراد کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت بھی ہے۔نواز شریف یہ بھی جاتے ہیں کہ بلوچستان میں افراد کیسے لاپتہ ہوتے ہیں اور کون کرتا ہے۔اس لیے انہوں نے بلوچستان کی حکومت لیکر سپریم کورٹ سے جان بچا لی ہے۔اور ملبہ بے چارے ڈاکٹر عبدالمالک کے ناتواں کندھوں پر ڈال دیا ہے۔کچھ لوگ تو قائد اعظم کی رہائشگاہ اور کویئٹہ کے تازہ ترین واقعات کی کڑیاں ڈاکٹر مالک کو ناکام دیکھنے والوں سے ملاتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی سمیت بلوچستان کے تمام سیاست دانوں کی جانب سے زیارت ریزیڈینسی کو نذر آتش کرنے اور دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی جا رہی ہے ۔مگرشہید بلوچستان نواب اکبر بگتی کے صاحبزادوں نوابزادہ طلال بگتی ،جمیل بگتی۔سردار عطا ء اللہ مینگل اور انکے صاحبزادے اختر مینگل مسلسل خاموش ہیں۔ انکی خاموشی موجودہ حالات میں بڑی معنی خیز ہے۔اس واردات مین جو کوئی بھی ملوث ہے وہ پاکستان کا خیر خواہ نہیں ہے۔ہمیں ان پر کڑی نگرانی کرنی ہوگی۔ڈاکٹر مالک کو ناکام دیکھنے کے خوائشمندوں کو ان کے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دینا چاہئے۔اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باہمی مل جل کر دہشت گردوں کے خلاف جہاد کرنا ہوگا۔اگر ہم واقعی پاکستان اور قائد اعظم سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button