تازہ ترینکالمملک عامر نواز

تو ہین رسالت کو مسلمان اگنور نہیں کرسکتے

محترم قارعین ! حلقہNA-60 سے ن لیگ کے ایم این اے اور سینئر تجزیہ نگا ر چوہدری ایاز امیر نے 16 ستمبر 2012 ء کو جیو نیو ز کے پروگر ام "لیکن ” میں تو ہین رسالت(ﷺ) کے حوالے سے ہو نے والے احتجاج کے با رے ثنا بچہ کے سوال کے جواب میں کہا کہ اس فلم والے معاملے کو اگنور کر دینا چاہیے ۔ یہ ایک گھٹیا فلم ہے اور اس معاملے کو اگنور کر دینا ہی بہتر ہے ۔ جبکہ شائد ایم این اے چوہدری ایاز امیر کو ابھی تک اس بات کا اندازہ نہیں ہوا کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے منہ سے صرف بیان ہی آیا تھا کہ اس قانون کے اثرات ہمارے سامنے ہیں اور اس سے بڑی ناانصافیاں ہو ئی ہیں ۔ایک اور جگہ پر جب وہ آسیہ بی بی جس نے گستاخی کی تھی کو ملنے گئے تو تب انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کر تے ہو ئے کہا تھا کہ ان کو جو سزا سنا دی گئی ہے یہ انسانیت کے خلاف ہے ۔ اور اس کے علاوہ اس نے تو اس قانون پر نظر ثانی کا کہا ۔ جس پر مسلم کی غیرت نے جوش مارا ۔ اور اس کو قتل کر دیا گیا ۔
کیا مسلما نوں کے رہنما ء ،رہبر اور محسن انسانیت پر کو ئی ناپاک ،ذلیل اور آوارہ یہودی اتنا بڑاکام کر دے اور مسلمان اس پر خاموشی سادھ لیں ؟؟؟یہ کبھی ممکن نہیں ۔ میں عوامی حلقوں کی طرف سے اور اپنی طرف سے بھی ایم این اے چوہدری ایاز امیر کو مخاطب کر کے کہوں گا کہ محترم اس بے غیرتی کی زندگی جینے سے موت بہتر ہے ۔کہ ہمارے نبی ﷺ کی ذات مبا رکہ پر کو ئی گستاخ غلط بولے اور ہم چپ کا روزہ رکھ لیں ۔کمال کر دیا آپ نے بھی ،کم از کم یہ بات کر نے سے پہلے مسلمانوں کے جذبات کا خیال کر لینا چاہیے تھا ۔ کیو نکہ مسلمان جیسا بھی کیوں نہ ہو وہ اپنے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی پر چپ نہیں رہ سکتا وہ جس حد تک اس کی پہنچ ہو احتجاج ضرور کر تا ہے ۔آپ کو سلمان تاثیر کے واقع سے سبق لینا چاہیے تھا کہ سلمان تاثیر نے قانون پر نظر ثانی کا سوچا تو اللہ نے اس کو بھی ایک مسلم کے ہاتھوں اپنے انجام تک پہنچا دیا تو اگر وہ کمینہ یہودی جس نے اتنی ہمت کی کہ نبی پاک ﷺ پر فلم بنائی وہ ہم مسلمانوں کے سامنے آجا ئے تو اس کی بوٹی بوٹی کر دیں ۔ ہمارے پیا رے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان کو پہچاننا ہم سب مسلمانوں پر لازم ہے ۔ اس لئے جو بھی مسلمان بولے تو اپنی زبان کو تول کر بولے ۔ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لا علمی میں بات درست نہ کر سکیں ۔ اور گناہ کے مر تکب نہ ٹھہریں۔
ایک پڑھا لکھا ہو نا ۔ اچھا سیاست دان ہو نا ۔یا بہت بولار ہو نا۔یہ الگ بات ہے لیکن اسلام کے معاملات پر بات کر نے سے پہلے اس بات پر پورا عبور ہو نا لازمی ہے ۔ اگر جہاں تک اس پروگرام کا تعلق ہے تو "لیکن "والی میڈم ثنا ء بچہ کو بھی خیال کر نا چاہیے تھا کہ وہ اس معاملے پر بات کر نے کے لئے صرف دین کا علم رکھنے والے حضرات سے ہی را ئے لیتیں تو بہتر تھا ۔ کیو نکہ ان کو نبی پاک ﷺ کی شان کا بھی علم ہو تا ۔ گو کہ اس نے مولانا کوکب نورانی کو بھی اپنے پروگرام میں شامل کیا تھا لیکن ان روشن خیال لوگوں سے اگر وہ رائے نہ لیتیں تو ان کے لئے بھی بہتر تھا ۔ اور آقا کی شان کو جاننے والے ہی ایک اچھی رائے قائم کر سکتے تھے ۔ اس کے علاوہ میں ثنا ء بچہ کو بھی اپنی عوام کی طرف سے مخاطب کر کے کہوں گا کہ تم نے اگر پیا رے بنی ﷺ کے موضع پر بات کر نا ہو تو خدارا اپنے سر کو کم از کم ڈھانپ لیا کرو ۔ کیا تم نے مر نا نہیں ہے ۔ تمہیں نہیں معلوم کہ تم کس عظیم ہستی کے بارے بول رہی ہو یا سن رہی ہو۔ اس لئے اپنے آپ پر بھی کچھ تودیکھو کہ کیا تم نے اس حلیہ میں بنی کر یم ﷺ کے مو ضع پر پروگرام کر لیا اور آپ کے ضمیر نے آپ کو ملا مت نہیں کیا ۔افسوس صد افسوس ۔
عوامی حلقوں کا اس بات پر بھی سخت احتجاج سامنے آیا ہے کہ ایم این اے چوہدری ایاز امیر کو اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کر نا چاہیے تھا ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ چوہدری ایاز امیر کو چاہیے کہ وہ اپنے اس بیان پر عوام سے بھی اور اپنے اللہ کے حضور بھی معا فی مانگیں ۔ اللہ ہم سب کو اپنے احکامات اور اللہ کے رسول ﷺ کے طریقوں پر عمل کر نے کی توفیق عطا فرما ئے ۔اٰمین ۔

یہ بھی پڑھیں  الیکشن کمیشن 20 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے گا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker