تازہ ترینکالممحمد فرحان عباسی

طوائف کا جسم اور صحافی کا قلم

معاشرے کو جس ناسور سے بچانا چاہیے تھا اسی ناسور نے معاشرے کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ،جس کام کو فرض سمجھ کر کرنا چاہیے تھا اس سے غفلت اس قدر برتی گئی کہ ہر انگلی اٹھانے والا برا کہتا ہے ،
ہم نے آج تک اپنے اندر جھانک کر دیکھنے یا اس بارے میں سوچنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ہم کس ڈگر پر چل رہے ہیں ،ہم نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے آیا وہ ہمارا اپنا راستہ ہے یا کوئی ہمارے کندوں پر بندوق رکھ کر گولی چلا رہا ہے ، کہیں ہمیں کو ئی اور اپنے مظموم مقاصد کے لئے تو نہیں استعمال کر رہا ،اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے وہ ہمیں قربانی کا بکرا بنا رہا ہے کیا کبھی ہم نے ان باتوں پر غور کیا؟
کیا ہم نے اپنی صفوں میں موجود غداروں میرصادق اور میر جعفر کی اولادوں کو تلاش کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے ؟آج میر جعفر اور میرصادق کا وارث ہماری صفوں میں ناسور بن کر پھیل چکے ہیں
ہم جن کو اپنا تصور کر بیٹھے تھے جن کو ہم نے اپنے سروں کا تاج بنا دیا تھا ان کے اصل چہرے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ،سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں کو دیکھنے کے بعد یہ لگتا ہے کہ کوئی بھی اپنے ملک سے نا ہی اپنے فرض سے مخلص ہے ،ہر ایک دوسرے کا آلہ کار بنا ہوا ہے اور کسی اور کے مقاصد کے لئے کام کر رہا ہے ،لگتا ایسے ہے کہ ہر ایک نے ملک کو بیچنے کے لئے پیسے لئے ہوئے ہیں ،اور مزید پیسوں کے حصول کے لئے ملک کی بچی کھچی ساکھ کو اور املاک کو آگ لگانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ،یہ لوگ پیسے کے حصول کے لئے پاکستان کی عوام کو دشمن کے لئے نوالہء تر بنانے کو بھی تیار ہو جائیں گے
اس سے بڑھ کر ان سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے کہ جو جھوٹ کو بھی سچ بنانے اور منوانے میں اس قدر ماہر ہیں کہ ان کی بات کو سننے کے لئے لوگ راتوں کو بھی جاگتے ہیں اور من وعن ان کی باتوؓ کا یقین کر لیتے ہیں
آج سوشل میڈیا دن رات اس بات پر زور دے رہا ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں آستین کے سانپ بسیرا کئے ہوئے ہیں ،ملک دشمن ان پر قابض ہیں اور عوام کے لہو کا سودا کیا جا رہا ہے آئے دن نت نئے الزامات سے نوازا جاتا ہے ،اور ایک نہیں بے شمار صحافی ان الزامات کی زد میں آتے ہیں ایسے صحافی جواپنے آپ کو دنیا کے سامنے صحافت کے ڈان کہلواتے ہیں وہ اس صف میں شامل ہیں ،
ان پر بہت سارے الزامات ہیں اور یہ لوگ ان الزامات سے بخوبی آگاہ بھی ہوں گے کیونکہ جو لوگ اٹھتے بیٹھتے میڈیا میں ہیں جن کا سونا جاگنا میڈیا ہے جن کا کھانا پینا میڈیا ہے ،اور جن کا جینا تومرنا میڈیا سے وابسطہ ہے وہ بھلا کیسے اس بات سے ناواقف ہوں گے کہ ان پر الزامات لگ رہے ہیں
یہ کوئی نئی بات نہیں کہ ان لوگوں پر الزامات لگ گئے ،کیونکہ ہمارے ملک کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ یہاں اگر امیر گناہ کرے تو اس کا گناہ اس کی دولت اور شہرت کی وجہ سے نظر نہیں آتا اور اس کے برعکس اگر کوئی غریب ،یا جس کا دنیا میں نام نا ہو وہ گنا ہ کرے تو اس کے جھنڈے لگا دئیے جاتے ہیں ،اسے سزا بھی دی جاتی ہے ،یہاں میں حدیث کی ایک کتاب ترمذی شریف کی ایک حدیث کا حوالہ دوں گا کہ ،جس کی ایک جزو کا مفہوم یہ ہے کہ آخری زمانے کی ایک نشانی یہ ہو گی کہ تم میں سے اگر کوئی امیر ،عزت دار ،حرام کی دولت کمانے اور کھانے والا دوسروں کو کھلانے والا اور اس سے دنیا کے سامنے نام بنانے وال کوئی گناہ کرے گا تو اسے چھوڑ دیا جائے گا ،اور اگر کوئی غریب گناہ کرے گا تو اسے سزا دی جائے گی ،
یہاں بھی کچھ اسی طرح کے مسئلہ ہے ،ان لوگوں پر لگنے والے الزامات بھی ان کی ظاہری شان شوکت کی وجہ سے سامنے نہیں آ رہے ان کو چلانے والے لوگ اس قدر طاقت ور ہیں کہ میڈیا ان کے گھر کی کھیتی کی مانند ہے وہ جو چاہیں کر لیں کروالیں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ،یہ لوگ دن کو رات اور ارت کو دن کہیں تو
میڈیا میں بیٹھے ان کے آلہ کار ان کی اس بات کو ہرصورت مانیں گے اور عوام کے سامنے اس بات کو پیش کریں گے ،
یہ لوگ ملک سے غداری کے مرتکب ہیں یا نہیں ہم اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتے نا ہی ہمیں اس بات کا اختیار ہے کہ ہم کسی کے وفادار یا غدار ہونے کا فیصلہ کریں ،بات ہے ان لوگوں کے اپنے ضمیر کی اگر یہ محض الزامات ہیں تو یہ لوگ ان میڈیا پر ہیں اور وہیں پر بیٹھ کر وہ ان الزامات کی تردید کیوں نہیں کرتے ۔
وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو اپنے دامن سے صاف کیوں نہیں کر رہے ،اگر واقعی وہ پاک صاف ہیں تو دنیا کی عدالتیں کس لئے بنی ہیں وہ ان لوگوں کو عدالت کے کٹہرے میں لائیں کہ جنہوں نے ان پر الزامات لگائے ہیں ،
اور اگر یہ الزامات سچ ہیں تو ان نام نہاد صحافیوں کو وہ قول یاد رکھنا چاہیے کہ
جب کوئی طوائف فروخت ہوتی ہے تو صرٖ ف اس کا جسم فروخت ہوتا ہے
اور جب ایک صحافی کا قلم فروخت ہوتا ہے تو پوری قوم بکتی ہے ،
اگر ایسے صحافی ہمارے درمیان چھپے ہیں تو وہ خود یا ہماری عدالتیں ان کے بارے میں فیصلہ صارد کریں کہ ملک کے غدار کی سزا کیاہے
محمد فرحان عباسی

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ:ڈپٹی ڈائریکٹر اِنٹی کرپشن کا ڈیوٹی مجسٹریٹ کے ہمراہ چھاپہ، رشوت لیتے ہوئےپٹواری گرفتار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker