احمد رضا میاںتازہ ترینکالم

ٹریڈنگ

ahmad razaٓمیں اُسے ایک لمبی ، چوڑی اور قیمتی گاڑی سے اُترتے ہوئے دیکھ کر حیرت کی وادیوں میں گم ہو کر رہ گیا تھا۔ روپے پیسے کی ریل پیل اور اثر و رسوخ اُس کے دائیں بائیں جھلک رہا تھا۔ قیمتی لباس میں ملبوس اُس پروقار شخصیت کے ساتھ میرا کافی پرانا تعلق تھا۔ میں اُسے بچپن سے ہی جانتاتھا۔ وہ بھی میری طرح ایک عام س�آدمی تھا۔ ہم دونوں نے انہیں گلیوں کی خاک چھانتے ہوئے بچپن سے لڑکپن کی منزلیں طے کی تھی۔سکول جانے کی بات ہو ،کھیل کود کا ذکر ہو یا پھر شراتوں کا تذکرہ سب باتوں میں ہمارا نام ایک ساتھ ہی جڑا تھا۔ پھر زندگی کے نشیب و فراز نے ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ مجھے ایک پرائیوٹ فرم میں نوکری مل گئی اور میں اپنی زندگی کا پہیہ دھکیلنے میں مصروف ہو گیا۔دن ، مہینے اور سال ایسے گذرے کہ وقت کا پتا ہی نہ چلا۔
وقت کے بدلنے کے ساتھ ساتھ لوگ بھی بدل جاتے ہیں۔ کسی کے معاشی حالات اچھے ہوجاتے ہیں تو کسی کے پہلے سے بھی برے۔ کسی کے رویے میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ کسی کی سوچ بدل جاتی ہے۔کسی کی ہیت پہلے جیسی نہیں رہتی۔ کوئی اپنے یاروں دوستوں کو پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے تو کسی کو بھولے ہوئے دوست بھی یاد آ جاتے ہیں۔ محلوں میں رہنے والے سڑکوں پر آ جاتے ہیں اور جھگیوں میں بسنے والے عالی شان گھروں کے مالک بن جاتے ہیں۔کسی کو منزل تک پہنچنے کے لیے جوتییوں کے تلوے گھسوانا پڑتے ہیں تو کوئی ہواؤں میں اُڑتا ہوا کامیابی کے تخت پر براجمان ہو جاتا ہے۔کوئی دولت کے پیچھے بھاگتا ہوا اس فانی زندگی سے رخصت ہو جاتا ہے تو کسی کا پیچھا دولت نہیں چھوڑتی۔الغرض ۔۔۔ زندگی کا چکر کاٹتا ہو ا یہ پہیہ ہر کسی کو اپنے چکر میں چکرائے رکھتا ہے۔
میرا دوست بھی اُنہیں لوگوں میں شامل تھا جنہیں کامیابی خود آ کر ملتی ہے۔ وہ بھی ایسے لوگوں میں شامل تھا جو منزل کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہیں جبکہ منزل دس قدم اُن کے قریب آ جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو کامیابی اور خوشحالی پانے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔ بس اُس راز کو پانے کو ضرورت ہوتی ہے جس کے اندر یہ سب کچھ چھپا ہوتا ہے۔ میں اُس کی موجودہ حالت دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔مجھے اپنے دوست کی یکسر بدلی ہوئی زندگی پر رشک آ رہا تھا۔میں سوچ رہا تھا کہ اس قدر بدلے ہوئے حالات میں وہ مجھے کبھی پہچان نہیں پائے گا ۔ لیکن اُس نے میرے پاس آ کر مجھے میرے نام سے پکار کر حیران کر دیا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرایا اور بڑے تپاک سے گلے لگا لیا۔اپنے پرانے دوست سے مل کر مجھے بہت خوشی ہو رہی تھی۔اُس کے چہرے سے خلوص اور باتوں سے مٹھاس جھلک رہی تھی۔وہ واقعی بدل چکا تھا۔
بچپن کی بہت ساری باتوں نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا تھا۔یادوں کا ایک گہرا سمندر ہمیں اپنے اندر سمو چکا تھا۔بچپن میں کی ہوئی ایک ایک شرارت کو یاد کر کے ہم اپنے ماضی کی بھول بھلیوں میں گم ہو چکے تھے۔ ایک ساتھ گذراہوا ایک ایک پل خود کو ہمارے ذہنوں کے چھپے ہوئے حصوں سے باہر نکالنے پر مجبور کر رہا تھا۔ سردیوں کی ٹھٹرتی شامیں اور گرمیوں کی تپتی ہوئی دوپہریں ایک فلم کی طرح ہماری سوچوں کی سکرین پر منعکس ہو رہی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا کہ ہم حال سے نکل کر ماضی میں قدم رکھ چکے ہیں ۔ ہوم ورک کے نہ کرنے پر ماسٹر صاحب سے ڈنڈے کھانا۔ چھٹی ہونے سے پہلے سکول سے بھاگ جانا۔ گنے کے کھیت سے چوری گنے ٹوڑنا۔ کرائے پر سائیکل حاصل کر کے تپتی دھوپ میں سنسان گلیوں کے چکر لگانا۔بارش کے موسم میں نہر میں نہانے جانا اور واپسی پر گھر والوں سے مار کھانا ۔گھر والوں سے کسی کتاب یا کاپی خریدنے کے بہانے کرکٹ کے لیے گیند اور ٹیپ خریدنا۔الیکشن کے دنوں میں کسی بھی امیدوار کے حق میں نعرے لگا نا۔ بجلی بند ہونے پر کسی کی ڈور بیل کے سوئچ پر ٹیپ چپکا دینا ۔ رات کے وقت گھروں کے باہر لگے ہوئے بلبوں کو پتھر مار کر توڑ دینا وغیرہ وغیرہ۔
ہمیں اپنے گذرے ہوئے لمحات کو یاد کرتے ہوئے کافی وقت گذر چکا تھا۔وقت کے گذرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ میں اپنے دوست کے بدلے ہوئے حالات پر اپنی حیرت کو چھپانے کے باوجود بھی نہ چھپا سکا۔اور اُس سے اُس کی خوشحالی کا راز پوچھ ہی لیا۔میرے دوست نے بڑے فخر سے مجھے بتایا کہ اُس کی تمام تر خوشحالیوں اور تبدیلیوں کا راز ٹریڈنگ ہے۔ اس بات پر تو میرا بھی یقین ہے کہ انسان کے حالات کاروبار سے ہی بدلتے ہیں۔ چھوٹی موٹی نوکریاں تو وقت گذاری کی حد تک ہی انسان کا ساتھ دیتی ہیں۔خیر مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ میرے دوست نے ایک اچھا راستہ چنا ہے۔ جس کی منزل کامیابی ہے۔اس کامیاب راستے کا مجھے بھی تو علم ہونا چاہیے۔ یہی سوچ کر میں نے پوچھا کہ جناب کس قسم کی ٹریڈنگ کرتے ہیں۔۔۔؟ میری بات سن کر وہ زیرلب مسکرایا اوراپنی اکڑی ہوئی گردن کو مزید اکڑا کر بولا \”ہارس ٹریڈنگ\”۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker