تازہ ترینکالممحمد مظہر رشید

ٹریفک قوانین کہاں؟

مہذب معاشرہ وہ کہلاتا ہے جہاں رہنے والے ایک ودسرے کی رائے کو برداشت کرتے ہوئے نجی اور قومی املاک کی حفاظت کریں خاص طور پر عوامی نوعیت کے مقامات جو کہ ہر طبقے کے افرادکے لیے مشترکہ اہمیت رکھتے ہوں عوامی و نجی شعبہ میں ٹرانسپورٹ کا محکمہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے اس شعبہ میں پچھلے چند سالوں میں بڑی ترقی ہوئی ہے لیکن اس شعبے میں بھی دیگر شعبوں کی طرح مناسب منصوبہ بندی نہ کرنے کی وجہ سے نان کوالیفائیڈ ٹرانسپورٹرزکی بھر مار ہوہوگئی ہے نان کوالیفائیڈ ڈرائیورزاور دیگر سٹاف نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے اچھی مہنگی ٹرانسپورٹ ہو یا سادہ بس ،ویگن عوام کی اکثریت کوسوار ہونے سے لے کرسفر کے اختتام تک مختلف قسم کی ذہنی کوفت کا سامنا کرناپڑتا ہے کنڈیکٹر کے رویئے سے لے کرڈرائیور کی تیز رفتاری تک مسافروں کومختلف قسم کے تحفظات ہوتے ہیں بس ویگن میں پہلے صرف ٹیپ ریکارڈر ہی لگائے جاتے تھے مسافروں کو انتہائی اونچی آواز میں لچر گانے سننے پر مجبور کیا جاتاتھا اب جب سے بسوں میں سی ڈی ٹی وی پلیرلگانے کا رجحان عام ہوا ہے اس وقت سے مسافروں کو انتہائی واہیات رقص اور لغو قسم کے ڈرامے اور گانے بھی سننے اور دیکھنے پڑتے ہیں بعض دفعہ تو ایسے گانوں کی سی ڈیزلگا دی جاتی ہیں جنھیں سن کر اور دیکھ کرآنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں بس یا ویگن میں چھوٹے بچوں سے لے کر بزرگ تک خواتین اور مر دمسافر شامل سفر ہوتے ہیں اگر کوئی ان میں سے اس جانب ٹرانسپورٹ انتظامیہ کی توجہ دلاتا ہے تو اکثران میں سے شکایت کنندہ کو یہ جواب دیتے ہیں کہ آپ کا سٹینڈر نہیں ہے بغیر ایئر کنڈیشنرمیں بیٹھ جائیں ،کیسی عجیب بات ہے کہ وہ ملک جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا جہاں مسلمانوں کو اپنی زندگیاں اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق بسر کرنا تھیں وہاں واہیات لچر خرافات کو اعلی سٹینڈر کہا جا تا ہے مسلما ن ممالک تو ایک طرف ایسا سٹینڈر تو غیر مسلم ترقی یافتہ ممالک میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتا وہاں بھی ٹریفک قوانین اور ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کروایا جاتا ہے مختلف حکومتی ادوار میںیہ سلسلہ کچھ عرصے کے لیے بند ہوا لیکن بعد میں انتظامیہ کی لاپرواہی سے یہ کام پوری طاقت سے جاری ہوا موٹر وے پولیس کے آغاز میں ٹرانسپورٹ حضرات نے کچھ احتیاط برتی جس سے عوام نے سکھ کا سانس لیا لیکن اب اور لوڈنگ کے ساتھ ساتھ یہ گانا بجانا بھی مسافروں کو سننا پڑتا ہے اب تو یہ سلسلہ اس حد تک آگے بھر چکا ہے کہ موٹر سائیکل رکشہ والے بھی اونچی آواز میں ٹیپ لگانا اپنا حق سمجھتے ہیں ٹریفک انتظامیہ سے گزارش ہے کہ وہ بزرگ شہریوں اور نوجوانوں کو کاغذات کی چیکنگ کے بہانے روک کر پریشان کرنے کے علاوہ اُس جانب بھی توجہ دیں جہاں قانون کی دھجیاں بکھیر دی جاتی ہیں اگرٹریفک انتظامیہ اور لوڈنگ کے ساتھ ساتھ ٹی وی سی ڈیز بسوں ویگنوں سے اتروا نہیں سکتی تو کم ازکم اچھے تفریحی واصلاحی پرگرامز چلانے پر ہی ٹرانسپورٹرزکو پابند کر دے اور مسافر حضرات کے توجہ دلانے پر ایسے ٹرانسپورٹرزکے خلاف سخت ایکشن لے جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کریں*

یہ بھی پڑھیں  ۲۸ ، اگست کیبنیٹ میٹنگ ! قوم کی مظلوم بیٹی عافیہ کی درخواست!

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. Asalam-o-Alikum… MashALLA. Good article with healthy and informative advice. Allah kare ki ye log sudhar jain otherwise siwae hamari berbadi ki aur kuch nai bache ga hamar y lie  aur un seb ki ham zemadar hun ge. Regards

  2. بہت شکریہ،شہباز الرحمن صاحب۔ آپ لوگ حوصلہ افزائی کرتے ہو تو ہمت اور بندھ جاتی ہے میری کوشش ہوتی ہے سانچ میں وہ لکھوں جو میرے وطن کے رہنے والے روز برداشت تو کرتے ہیں اظہار دبے دبے لہجے میں کرتے ہیں

  3. Dear Mazhar Rashid , No doubt you have graet knowlege about the pakistan law . U please pointout about the overloading, overcharging by transporters with the collaboration of traffic police and civil administration, Why they not implements for redressal of the grievances of pessangers,

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker