تازہ ترینکالم

فروغ علم کے لیے مخیر حضرات آگے بڑھیں

logo nouman1وہ لوگ یقیناانسانی معاشرے کے ماتھے کا جھو مر اور انسانیت کا وقار ہو تے ہیں جو خدمت خلق کے ساتھ ساتھ خالق کی بندگی کا فریضہ بھی احسن انداز سے سر انجام دے رہے ہوتے ہیں آج کے اس ما دیت زدہ دور میں انسانی اقدار کے احیاء کے لیے جدو جہد کرنے والے خراج تحسین کے مستحق ہو تے ہیں یہ وہ دور ہے کہ جس دور میں رب کی بندگی اور خدمت انسانیت کی بات کرنا گو یا خطرات کو دعوت دینے کے مترادف سمجھاجا تاہے ۔دُکھیاروں کی بھلائی ہو یابے سہاروں کی راہنمائی یہ لوگ ہمیشہ فروغ دین اور خدمت انسانیت ہی میں کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں ذاتی نفع و نقصان سے بالا تر ہو کر ہر وقت انسانیت کے مفاد کے لیے سو چنا یہ کسی کسی کا خاصہ ہو تا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ صُبح سے لے کر رات گئے تک دور دراز سے آئے ہوئے دُکھوں کے مارے اور ڈھونڈتے سہارے بے کس و بے چَس لو گوں کو سہارا مہیا کرنا اور ان کے اندر فروغ دین کا جذبہ پیدا کرنا یہ محض رب تعالیٰ کے فضل کے بغیر نا ممکن ہے اور جن پر رب کریم کا خاص فضل ہو جائے وہ پھر زندگی کے کسی میدان میں بھی شکست نہیں کھاتے اور کام یابی و کامرانی ان کی دہلیز پر ہا تھ با ندھے کنیزوں کی طرح کھڑی ہو تی ہے ،رب کریم کا فضل اور ہے اور ,,فضلِ کریم ،، اور ہے وہ لوگ یقیناًخوش قسمت ہوتے ہیں جو آندھی و طوفان ،گرمی و سردی ،دھوپ و چھا ؤں ،شام و سحر اور شب روز کی پر واہ کیے بغیر اپنے سر پر ایک ہی دھن سوار کیے رکھتے ہیں کہ دکھی انسانیت کی خدمت کیسے کی جا سکتی ہے اور بے سہارا انسانیت کا سہا را کیسے بنا جا سکتا ہے ؟پانچ دریا ؤ ں کی سر زمیں پنجاب ہو یا رحمن با با کی دھرتی خیبر پختونخواہ ،شاہ عبد الطیف بھٹائی کا مسکن سندھ ہو یا محبتوں کی آما جگاہ بلوچستان ،مقبوضہ وادی ہو یا آزادخطہ، ان لوگوں نے ہر جگہ خدمت انسانیت کے جھنڈے گا ڑھے اوراپنا آپ منوایا ،یقینایہ بہت بڑا کام ہے ، عزم و ہمت کا یہ کا ررواں نہ تو ابھی رکا ہے اور نہ ہی تھما ہے ،اپنے دل میں عشق رسول ﷺ کی لگن اور اہلبیت کرامؓ کی محبت کی جوت جگائے اور اولیاء اللہ کی عقیدت کی چمک اپنی پیشانیوں پر سجائے خدمت انسانیت کا یہ عظیم کاررواں اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔
ایسے ہی لوگ سسکتے اور دم توڑتے معاشرے کے لیے غنیمت ہو تے ہیں ،اگر ہما رے مو جو دہ حکمرانوں اور سیا ستدانوں کی گر دنوں سے موٹے موٹے سریے نکل جائیں اور اپنے آپ کو عا جزی کا پیکر بنا لیں تو سارے مسئلے حل ہو سکتے ہیں مگر یہاں تو ہر سیاستدان اپنی اپنی جگہ فر عون اور قارون بنا بیٹھا ہے حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مو جودہ معاشرے میں روا داری ،اخوت ،بھا ئی چارے ،حسن سلوک اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ کی خیرات تقسیم کی جائے اواُمید ویلفےئر ٹرسٹ کے کارکنان اسی فکر کو لے کر گلی گلی ، کوچہ کوچہ ،بستی بستی ، نگر نگر ، ڈگر ڈگر ، گام گام ، بام بام پہنچا رہے ہیں کہ شا ید امت مسلمہ کی کھوئی ہو ئی قسمت دو بارہ بحال ہو سکے اور یہ سسکتا ہوا معاشرہ پھر سے زندگی کی نئی شاہراہ پر گامزن ہو سکے اور اپنے حصے کا کردار وہ خوبصورتی سے ادا کر رہے ہیں اور روایتی این جی اوزسے ہٹ کر اپنے ایک مخصوص انداز میں کام کر رہے ہیں
آج سے 10سال پہلے لاہور میں خدمت خلق کی عظیم سو سائٹی ’’اُمید ویلفےئر ٹرسٹ ‘‘ کی بنیاد رکھی تھی جس کا مقصد بے یارو مدد گار انسانیت کی بے لوث خدمت کرنا تھی الحمد للہ دردِ دل رکھنے والے احباب قلم اور مخیر احباب کے خاص تعاون سے آج اُمید ویلفےئر ٹرسٹ لاہور ، لیہ ، کوٹ ادو ، ملتان ، اور راجن پور میں مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہا ہے جن میں سرِ فہر ست دروسِ قرآن مہم ، کوڑے اور رو ڑیوں سے کاغذ چُنتے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے لیے ابتدائی کلاسز کا اہتمام ، جن میں اُن بچوں کو کتا بیں ، بستے ، یو نیفارم اور دوپہر کا کھا نا بھی مفت دیا جاتا ہے یہ منصوبہ ضلع لیہ ، کوٹ ادو اور راجن پور میں اپنے ابتدائی مراحل میں کام کر رہا ہے ،دوسرے نمبر پر ہم ایک شعوری ڈاکو مینٹری کے ذریعے مختلف سکولز میں جا کر سکولز کے تمام بچوں کو کلاس وائز اکٹھا کر کے اُن کو ’’شعوری ڈاکو مینٹری ‘‘ دِکھاتے ہیں جس کے ذریعے اُ ن میں علم کے حصول کا مذید شوق پیدا ہو تا ہے تیسرے نمبر پر یتیم اور بے سہارا بچیوں کے لیے ’’اجتماعی شادیوں ‘‘ کا بھی اہتمام کیا جا تا ہے اور اب تک 50اجتماعی شادیاں کی جا چکی ہیں اور اگست میں مزیدضلع لیہ میں 10اجتماعی شادیاں کرنی ہیں لا ہور ، ضلع لیہ ، کوٹ ادو ، راجن پور میں 200 یتیم اور بے سہارا بچے ایسے ہیں جن کی ما ہا نہ فیس40000 روپے اُن کے سکولز میں جمع کرائی جا تی ہے تاکہ اُ ن کے حصولِ تعلیم میں کوئی خلل واقع نہ ہو ، اب گزشتہ سال سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ’’اُ مید ویلفےئر ٹرسٹ ‘‘ کی طرف سے مختلف اشیاء ضروریہ کے 20ٹرک جن میں دالیں ، چاول ، گھی ، چینی ، مرچ مصالے ، 20 ہزار پانی کی بوتلیں ،زنانہ و مردانہ کپڑے وغیرہ شامل ہیں تقسیم کیے گئے اور تاحال یہ سلسلہ جاری و ساری ہے سیلاب میں لاکھوں لوگ متاثر ہوئے جن میں بچے ، بوڑھے ، جوان مردو عورتیں شامل ہیں حتیٰ کہ لاکھوں جانور بھی سیلاب کی نذر ہو گئے
لیہ شہر میں طالبات کے لیے جامعہ نور البنات تعلیم القرآن بھی کام کر رہی ہے جہا ں پراُن کو مفت تعلیم ،کتابیں بھی دی جاتی ہیں ٹرسٹ نے عظیم الشاں ’’فری میڈیکل کمپلیکس ‘‘ قائم کرنے کے لیے 4کنال زمین بھی حاصل کر لی ہے جس کے لیے 30لاکھ کی ادائیگی کرناابھی باقی ہے مخیر حضرات آگے بڑھیں اور نیکی کے اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور سیمنٹ ،اینٹ ،بجری ،سریابھی مہیا کریں یا نقد رقوم کی صورت میں دستِ تعاون آگے بڑھا ئیے اور ڈھیروں نیکیاں کمائیے ! مخیر احباب درج بالا اشیاء کے حصول میں تعاون فر ما کر عند اللہ ماجور ہوں امید ہے دردِ دل رکھنے والے اصحابِ ثروت مایوس نہیں کریں گے اور بڑھ چڑھ کر خد مت انسانیت کے اس عظیم کام میں ٹرسٹ کے دست و بازو بنیں گے
ٹرسٹ اپنی مدد آپ کے تحت خدمت انسانیت کا یہ عظیم فریضہ انجام دے رہا ہے اگر مخیر احباب تعاون کر نا چاہیں تو بینک اکاؤنٹ حاضر ہے آپ نقدی یا مطلوبہ سا مان کی صورت میں تعاون فر ما سکتے ہیں اآگے بڑھیے اور خدمت انسانیت کے اس عظیم فریضہ کو پایہ تکمیل تک پہنچا نے کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کیجئے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان آپ کے نیک ارادوں میں ڈگمگاہٹ پیدا کر دے ،درج ذیل رابطہ نمبرپر رابطہ کر سکتے ہیں
چےئر مین (اُمید ویلفےئر ٹرسٹ ) 03314403420

یہ بھی پڑھیں  پتوکی:عدلیہ کی آزادی میں وکلاء کا کردار ناقابل فراموش ہے، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قصور

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker