تازہ ترینکالم

طلبہ کی تربیت وقت کی ضرورت

atiqتاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں جتنے بھی انقلابات وقوع پذیر ہوئے ہیں ان کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں نوجوانوں کا اہم کردار رہاہے ۔ہمارے نبی اکرم ﷺنے بھی جب اسلام کی دعوت دینا شروع کی تو اس کے جواب میں آپﷺ کی آواز پر نوجوانوں نے لبیک کہا اور انہی صحابہؓ کی محنت وجد وجہد ہی کی بدولت قلیل مدت میں ناصرف مدینہ طیبہ میں اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیابلکہ اسلام کا عالمی و آفاقی دعوت پر مبنی پیغام چہاردانگ عالم میں پہنچا۔اسلامی تاریخ میں نوجوانوں کے کردار کی اہمیت کا اندازہ اس امر واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے اپنی حیات مبارکہ کے آخری دنوں میں اسلام کے پیغام کو وسیع پیمانے پر پہنچانے کے لیے جو لشکر ترتیب دیا بڑے بڑے کبارصحابہؓ کی موجود گی کے باوجوداس کی قیادت کی سعادت اس وقت کے نوجوان صحابی حضرت اسامہ بن زید ؓ کو دی۔
قیام پاکستان کے سلسلہ میں بھی جو جدوجہد کی گئی اس میں بھی نوجوانوں کا کردار کسی ذی فہم انسان سے پوشیدہ نہیں ہے۔اب جبکہ ہمارا پیارا وطن بے پناہ مسائل کے گرداب میں پھنساہوا ہے تو آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو ان کے کردار کی اہمیت و افادیت کے ساتھ ساتھ ان کی ذمہ داریوں کا بھی احساس دلایا جائے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے نوجوانوں اور بالخصوص طالب علموں کی مکمل تربیت کا اہتمام و انتظام بھی کیا جائے کیونکہ یہی لوگ ارض پاک کا روشن مستقبل ہیں۔
نوجوانوں اور طالب علموں کی تربیت کے لیے ویسے تو بہت سی تنظیمیں اور ادارے کام کر رہے ہیں مگر نوجوانوں کو تعلیمی وتربیتی اعتبار سے مشاورت و راہنمائی فراہم کرنے کا جو تجربہ رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے رجسٹرار انجینئررفعت اللہ خان صاحب کو ہے وہ شاید ہی کسی اور کو حاصل ہواس کا سبب یہ ہے کہ انجینئر صاحب سامعین کے معیار و استعداد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے زیر انتظام منعقد کی گئی اسی قسم کی ایک تربیتی نشست میں موصوف نے خصوصی شرکت کی۔اس تربیتی نشست میں پانچویں جماعت سے تیرہویں جماعت تک کے طلبہ شریک تھے۔اس نشست میں کیے گے آپ کے تربیتی بیان کو عوام و خواص کے استفادہ و راہمنائی کی غرض سے ضبط تحریر کررہاہوں ۔آپ نے طلبہ کی اس نشست میں کامیاب زندگی گزارنے کے اصول بیان کیے ۔۔۔!
*زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پانچ باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے:
مہارت تامہ:انسان جس بھی فن میں کام کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس فن میں مکمل مہارت رکھتا ہواور اس کے ساتھ ساتھ اس فن سے متعلق مکمل تعلیم بھی رکھتاہو۔تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اچھے طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ریاضی اور انگریزی پر مکمل دسترس اور عبور رکھتا ہوکیونکہ موجودہ دور مقابلہ کا دور ہے ایسے میں ریاضی اور انگریزی پر عبور حاصل نہیں ہوگا تو ترقی کی منازل طے کرنے میں دشواریوں کا ناصرف سامنا کرنا پڑے گا بلکہ ترقی کی منازل کو طے کرنا ناممکن بھی ہوجائے گا۔
مثبت رویہ:دوسرا امر جس کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے وہ مثبت رویہ ہے یعنی آپ جب بھی کسی انسان سے گفتگوکریں تو نرم و شائستہ انداز میں بات کریں کیوں کہ نرم خوئی سنگ دلوں کو بھی مسخر کر لیتی ہے۔
تعلق مع اللہ:یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ انسان دنیامیں جب بھی کوئی انسان دوسرے انسان کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے تو اس کو مضبوط رکھنے کے لیے اس کی خواہشات کا لحاظ رکھتا ہے اور پھر اس کے ساتھ اپنے تعلق کو قائم رکھنے کے لیے گاہے بگاہے اس سے ملاقات کرتا رہتا ہے ۔اگر ایسے میں اس فرد پر کسی قسم کے مشکل حالات آجاتے ہیں تو وہ تعلق دار کو بلاتا ہے اس کے جواب میں وہ تعلق دار مدد کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھتا ۔ اسی طرح جب ایک مسلمان فرد اللہ پاک کی رضا وخوشنودی حاصل کرنے کے لیے اللہ پاک کے احکام کے سامنے سربسجود ہوجاتا ہے ۔اللہ تعالی کی منشا کے مطابق پانچ وقت کی نماز بھی ادا کرتا ہے تو ایسے میں کیسے مان لیا جائے کہ وہ اللہ رب العزت جو انسان سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے جب اس کا بندہ کسی مشکل کا شکار ہو تووہ اس کی مدد نہ کرے۔تو لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کا اپنے خالق کے ساتھ جو تعلق ہے اس میں کہیں کمزوری ہے جس کو دور کیا جاناچاہیے۔انسان جتنا زیادہ اپنے تعلق کو اللہ کے ساتھ صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ تعلق کو مستحکم کرے گا اتنا ہی زیادہ وہ اللہ پاک کی مدد و نصرت کے حصول کا مستحق ٹھہرے گا۔
محنت:چوتھی بات جس پر عمل کر کے زندگی میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے وہ محنت ہے۔انسان جب محنت کرتا ہے تو وہ دنیاکی بڑی سی بڑی آرزو و تمنا کوپوراکرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔اسلام بھی ہمیں محنت کی دعوت و ترغیب دیتا ہے۔اس محنت کے سلسلہ میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے فرمایا تھا کہ’’ انسان جو کام محنت اور لگن سے کرے تو وہ کا م کبھی رائیگان نہیں جاتا‘‘۔
احساس ذمہ داری:جو انسان یہ چاہتا ہو کہ میں دنیا میں ایک اچھا اور کامیاب فرد بن جاؤں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی زندگی میں احساس ذمہ داری جزو لازم ہونا چاہیے ۔جب احساس ذمہ داری کسی بھی انسان کے اندر بیدار ہوجائے تو اس کو کامیابی کی منازل طے کرنے سے کوئی قوت نہیں روک سکتی۔ کیونکہ وہ فرد جس میں احساس موجود ہے وہ ہر کام ذمہ داری اور دل جمعی سے سرانجام دیتا ہے ۔احساس کی بیداری کے ساتھ جو کام کیا جائے وہ کسی سے صورت ناکام نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے طلبہ کو آ خرمیں چند نصیحتیں بھی کیں کہ آپ طلبہ اپنے وقت کو بہتر طریقہ پر صرف کرنے کے لیے روزنامچہ ترتیب دیں اس میں اپنی روزانہ کی مصروفیات کو بالترتیب درج کریں اور اس کے مطابق اپنے امور سرانجام دیں۔اور انہوں نے کہا کہ طلبہ چونکہ ملت اسلامیہ کا روشن مستقبل ہوتے ہیں اس لیے آپ پر لازم ہے کہ آپ قرآن و حدیث کو عمل کی نیت سے فہم و ادراک کے ساتھ تلاوت کریں۔عصر حاضر کے جید علماء کی کتب کو بھی اپنی علم و طلب کی تشنگی کو مکمل کرنے کی خاطر کا بھی ضرور مطالعہ کریں جن میں مولانا مودودیؒ کی کتب دینیات ،خطبات اور مولانا اصلاحیؒ کی کتاب آداب زندگی کا مطالعہ بے حد مفید ہوگا۔
انہوں نے طلبہ پر مطالعہ کی افادیت و ضرورت پر دیااور اسی بناپر انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام اس خوبصورت قول پر کیا کہ’’جوانی میں اچھی کتاب کا مطالعہ کرنا ایسا ہے کہ جیسے بیڈ روم سے چودہویں کے چاند کا نظارا کرنا،ادھیڑعمر میں اچھی کتاب کا مطالعہ کرنا ایسا ہے کہ جیسے کہ گھر کے صحن سے چودہویں کے چاند کا نظارہ کرنااور بوڑھاپے میں اچھی کتاب کا مطالعہ کرنا ایسا ہے کہ جیسے ساحل سمندر سے چودہویں کے چاند کا نظارہ کرنا‘‘۔note

یہ بھی پڑھیں  بہاولنگر:جشن عید میلا د النبی ﷺ کے جلوس میں ہزاروں عاشقان رسول کی شرکت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker