تازہ ترینڈاکٹر ایج ایم بابرکالم

تم مجھ سے انتقام کی خاطر مجھے چنو

آج جب ایمان قیصرانی کا یہ شعر نظروں سے گزرا تو مجھے عید الفطر سے چند دن پہلے کا ایک منظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا پہلے آپ شعر ملاحظہ فرمائیں
تم مجھ سے انتقام کی خاطر مجھے چنو
میں چاہتی ہوں تم سے میری دشمنی رہے
اب آتے ہیں اس منظر کی جانب کہ جب شیخوپورہ مین بازار میں نام نہاد لاک ڈاؤن چل رہا تھا اس کے باوجود بازار رش سے پر دکھائی دے رہا تھا مرد و زن کی کثیر تعداد بازار میں عید کی خریداری کے لئے بغیر ماسک اور سماجی فاصلوں کی پابندی کئے بازار میں گھوم رہے تھے دوکاندار حضرات خواتین کو گھر میں پالی ہوئی مرغیوں کی طرح اپنی دوکانوں میں داخل کر کے اپنے ایک کارندے کے ذریعے شٹر کو باہر سے تالا لگوا کر اندر اپنی خرید و فروخت میں مگن تھے اس میں یہ قطعی طور پر یہ نہیں کہنا چاہیئے کہ انتظامیہ اس معاملے سے بے خبر تھی بالکل بھی نہیں انتظامیہ کو ساری پل پل کی خبر تھی بلکہ اسسٹنٹ کمشنر شیخوپورہ محسن اقبال کی مین بازار میں موجودگی میں یہ سب کچھ ہوتا رہا کھلی ہوئی دوکان اور اے سی شیخوپورہ کے درمیان تیس سے چالیس میٹر کا فرق بمشکل ہی ہوگا اب آپ لوگ کیا کہتے ہیں کہ اے سی شیخوپورہ کیا بے خبر تھے؟جب بازار میں موجود ہوتے ہوئے بازار کا یہ عالم ہو تو غیرموجودگی میں کیا حالت ہوگی؟اگر انتظامیہ لاک ڈاؤن کروانے میں مخلص ہوتی تو دوکاندار یعنی تاجر حضرات گھروں میں ہوتے ناکہ اپنی دوکانوں کے تھڑوں پر چار بندے دوکان کے اندر اور ایک کارندہ تھڑے پر۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ملی بھگت میں ٹرائیکا ہی شامل تھا تاجران،پولیس اور اسسٹنٹ کمشنر شیخوپورہ تب ہی جاکر تاجروں نے عید کما کر اپنی،پولیس کی اور انتظامیہ کی عید کروائی یعنی خوب خوب بلکہ بہت خوب عید بنائی لوگوں کو گھروں میں روکنا ممکن تھا اگر تاجر گھروں میں ہوتے انتظامیہ کے فراہم کردہ مخبر دوکاندروں کو صرف عوام کو دیکھانے کے لئے با آواز بلند کہتے کہ او ڈالہ آگیا جے چھیتی چھیتی کرلو یہ محض ڈرامہ بازی تھی عوام الناس کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے لئے ناصرف شیخوپورہ بلکہ پنجاب بھر میں یہ ڈرامہ بازی اپنے عروج پر رہی اس کی سب سے پہلی وجہ فردوس عاشق اعوان کی اے سی سیالکوٹ سونیا صدف کی سرزنش تھی جس کی وجہ سے پنجاب کی بیوروکریسی نے حکومتی پالیسیوں کو ناکام کرنے کا تہیہ کر لیا تاکہ ثابت کر سکیں کہ افسر شاہی کے سامنے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا اس ٹسل کی ایک مثال میں اپنے قارئین کے سامنے پیش کرتا ہوں جب وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے واض طورپر ایس او پیز مقرر کر دیئے تھے کہ تمام پبلک پارکس بند رہیں گے پھر شیخوپورہ میں ایسا کیوں نہ ہوا؟کیوں شہر کے وسط میں واقع کمپنی باغ کو کھلا رہنے دیا گیا کیوں پرائیوٹ جھولے والوں کو ٹھیکہ دے کر کس قانون کے تحت مال کمانے کی پرمشن دی؟ پھر کمپنی باغ ہی کے دونوں اطراف پرچی سسٹم والے پارکنگ سٹینڈ کس ایس اوپیز کو فالو کرتے ہوئے قائم کروائے مسلسل تین دن تک خوب مال کمایا کمپنی باغ سے،جوائے لینڈ سے اور دیگر پارکس سے پھر جب چند باضمیر صحافیوں نے ایس او پیز کی اڑتی ہوئی دھجیاں بے نقاب کیں تو پھر پولیس لے کر چاروں اطراف سے عوام پر چڑھ دوڑے ڈنڈے برسائے میں یہاں یہ پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ ڈنڈے عوام کو کس قانون کے تحت مارے گئے قصوروار عوام نہیں وہ لوگ تھے جنہوں نے ٹھیکے سے پیسے کمائے جنہوں نے پارکس کھول کر ایس او پیز کی دھجیاں اڑائیں جنہوں نے مقرر کردہ قانون کی کھلی خلاف ورزی کی ڈنڈے تو ان لوگوں کو پڑنے چاہیئں تھے ناکہ عوام کو۔قانون پر عملداری کروانے والے خود ہی تو قانون شکن ہیں اب چاہے ان میں اے سی ہو،ڈی سی ہو، میونسپل کارپوریشن ہو یا پھر سیاسی گماشتے ڈنڈے ان کو پڑنے چاہیئں تھے عوام کو نہیں یہاں بھی اگر پارکس کو مقفل کر دیا جاتا تو عوام کیوں جھولے جھولنے آتی؟ ثابت یہ ہوا کہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو یہ افسر شاہی صرف سونیا صدف کی وجہ سے ذلیل کروانے پر تلے ہوئے ہیں تاکہ دنیا یہ کہے کہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ارے بابا حکومتی حکم پر جس نے عمل کروانا ہوتا ہے وہ یہی افسر شاہی ہی تو ہے اور اگر افسر شاہی یہ چاہتی ہو کہ حکومت کو ناکام یا رسوا کرنا ہے تو وہ احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر مال بناؤ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے خوب موج اڑاتے ہیں جب یہ بے نقاب ہو جاتے ہیں تو پھر ڈنڈے عوام کو مروا کر خوب داد سمیٹنے میں سرخرو ہوتے ہیں حکومتی ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو چاہیئے کہ ان کا اصل چہرہ پہچانتے ہوئے کارروائی عمل میں لائیں ورنہ۔۔!شیخ طیب ایک نوجوان صحافی نے دل بڑا کر کے ان سے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیوں کے بارے میں مؤقف لینا چاہا تو اسے جھاڑ دیا پولیس والوں سے کہا کہ اسے پیچھے ہٹاو اور ساتھ ہی کہا کہ مجھے کسی کا ڈر تھا نہ ہے اور نہ ہوگا تم اپنے کام سے کام رکھو ہمیں اپنا کام کرنے دو قارئین کرام یہ رویہ تھا صحافیوں کے ساتھ اے سی شیخوپورہ محسن اقبال کا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ صحافتی لبادے میں ملبوس چند کالی بھیڑیں اس کے کام میں اس کی حصہ دار ہیں لہذا میں جو بھی کروں گا وہ میرے ہر کام کو سب اچھا کہہ کر مجھے کلین چٹ دے دیں گے ۔ مقام افسوس ہے کہ میری ہی برادری کے کچھ لوگ ایسے افسروں کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے اپنے ہی صحافی بھائی کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ان کو چاہیئے کہ سچ لکھنے والے کا ساتھ دیں اور ہر نوجوان صحافی کا ہمت و حوصلہ بنیں ناکہ اس بات پر نظر رکھیں کہ افسر شاہی کی چاپلوسی کر کے ان لوگوں سے اپنے کام نکلوائیں گے بھاڑ میں جائے صحافت اگلے سال گاڑی کا ماڈل بدلیں گے کیوں کسی سچے صحافی کی طرفداری کرکے اپنی آسائشیں ضائع کریں۔ مگر میرا تو اپنے پیشے اور قلم سے یہ وعدہ ہے کہ جب تک جیوں گا سچ لکھوں گا اور سچ کی طرفداری کروں گا اور افسر شاہی کو یہ کھلا چیلنج دیتا ہوں بقول ایمان قیصرانی
تم مجھ سے انتقام کی خاطر مجھے چنو
میں چاہتی ہوں تم سے میری دشمنی رہے
اس لئے نہ تو آج تک کسی کا حاشیہ بردار یا نعلین بردار بن سکا اور نہ ہی کسی کی جھوٹی قصیدہ خوانی کر سکا پی ٹی آئی حکومت کو افسر شاہی کا کچھ کرنا پڑے گا ورنہ یہ لوگ آپ کا کچھ کر گزریں گے

یہ بھی پڑھیں  نواں انڈر 19کرکٹ ورلڈ کپ کل سے آسٹریلیا میں شروع ہوگا

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker