ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

’ ’تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے‘‘

tabassumایک نئی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کے جسم میں پہلی مرتبہ پیئے جانے والے سگریٹ کے چند اولین کش ہی لمحوں میں ایسے جینیاتی نقصانات کی وجہ بن سکتے ہیں، جن کا تعلق سرطان سے ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق یہی جینیاتی نقصانات زندگی میں پہلی مرتبہ کی جانے والی تمباکو نوشی کے دوران شروع کے چند کشوں کے بعد بھی دیکھنے میں آ سکتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کے انسانی جسم پر اثرات اتنے تیز رفتار ہوتے ہیں کہ انہیں دوران خون میں انجیکشن کے ذریعے ایک دم داخل کیے گئے کسی بھی مضر صحت مادے کی منتقلی کے ساتھ تشبیہ دی جا سکتی ہے۔دنیا بھر میں ہر روز قریب تین ہزار انسان پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہلاک ہو جاتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد اموات کی براہ راست وجہ تمباکو نوشی ہوتی ہے۔محققین کے مطابق سگریٹ کا دھواں بڑھتی ہوئی عْمر اور غیر معمولی شور سے بھی کہیں زیادہ انسانوں کی قوت سماعت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ماہرین نے پہلے سے ہی اس بارے میں انتباہ کر رکھا تھا کہ تمباکو نوشوں کے بہرہ پن میں مبتلا ہونے کے خطرات کافی زیادہ ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو کا دھواں دوران خون میں انتشار پھیلاتے ہوئے کانوں کے اندر خون کی باریک اور چھوٹی چھوٹی شریانوں میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس سے کانوں میں آکسیجن ٹھیک طرح سے نہیں پہنچ پاتی۔ہر 100 اموات میں سے ایک کی وجہ ’’سموکنگ‘‘ بنتی ہے۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والے ایسے افراد تک بھی تمباکو کا دھواں موت کا سبب بن کر پہنچتا ہے، جو سگریٹ پینے والوں کے نزدیک رہتے ہیں اور جنہیں اسموکر یاغیر فعال تمباکو نوش بھی کہا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے پیش کردہ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال چھ لاکھ غیر فعال تمباکو نوشوں کی اموات واقع ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے تمباکو نوشی کے عالمی اثرات پر کروائی جانے والی پہلی تحقیق کے نتائج سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ تمباکو کے دھوئیں سے سب سے زیادہ متاثر بچے ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہر سال دنیابھر میں غیر فعال تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے سبب ایک لاکھ 65 ہزار بچے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔غیر فعال تمباکو نوشی کے سبب دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے بچوں کی کل تعداد کے دو تہائی حصے کا تعلق افریقہ اور ایشیا سے ہے۔دنیا بھر میں سالانہ51لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہلاک ہوتے ہیں جب کہ603000افراد سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ کا شکار ہوتے ہیں۔چین اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ سگریٹ بنانے اور استعمال کرنے والا ملک ہے اور سب سے زیادہ تمباکو نوشی سے اموات بھی چین میں ہو رہی ہیں۔چین میں تمباکو نوشی سے ہلاکتوں کی تعداد2030تک سالانہ تین گنا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ چین میں تین سو ملین افراد سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں۔کیا سگریٹ نوشی صحت کے لئے فائدہ مند بھی ہو سکتی ہے؟ اور کیا کوئی ملک ایسا بھی ہے جہاں لوگوں کو تمباکو نوشی کی ترغیب دی جاتی ہے؟ جی ہاں، بنگلہ دیش میں جگہ جگہ ایسے اشتہارات دکھائی دیتے ہیں، جوخاص طور پر خواتین کو سگریٹ نوشی کی دعوت دیتے ہیں۔ ’تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے ‘ ویسے تو شاید دنیا بھر میں سب سے زیادہ یہی اشتہار دیکھنے اور سننے میںآتا ہے۔ سینما ہو، ٹی وی یا پھر سگریٹ کے پیکٹوں پر وزارت صحت کے حکم پر لکھی گئی عبارت، ہر جگہ سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔تاہم بنگلہ دیش میں سگریٹ کے بہت سے اشتہارات گمراہ کرنے والے نظر آتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں جگہ جگہ ایسے اشتہارات نظر آتے ہیں، جن میں تمباکو نوشی کرنے والوں سے یہ کہا جا رہا ہوتا ہے کہ وہ سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ اسمارٹ، طاقتور اور محبت کرنے والے ہوتے ہیں اور ’ سگریٹ بچے کی پیدائش کے عمل کو سہل تر بنا دیتا ہے یا حاملہ خواتین کے لئے سگریٹ نوشی نہایت فائدہ مند ہے کیونکہ جب ایک عورت سگریٹ پیتی ہے تو اْس کے شکم میں موجود بچے کا سائز زیادہ نہیں بڑھتا اور اس طرح بچے کی ولادت کا عمل کم تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کا دوسرے معاشروں میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ یہی رجحان بہت سے دیگر ترقی پذیر معاشروں میں بھی پایا جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق بنگلہ دیش میں بالغ خواتین کا 28 فیصد حصہ تمباکو کا استعمال کر رہا ہے جبکہ تمباکو نوشی کرنے والے مردوں اور خواتین دونوں کی شرح 43 فیصد ہے۔انڈیا میں بہت بڑی تعداد میں مرد شہری تمباکو online casino scams نوشی کرتے ہیں، وہیں خواتین میں بھی سگریٹ نوشی کا رجحان حیران کن حد تک زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کے معاملے میں امریکہ اور چین کے بعد آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک انڈیا اب تیسرے نمبر پر آتا ہے ۔بھوٹان دْنیا کا پہلا ملک ہے، جہاں تمباکو کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی لگائی گئی۔ اس حوالے سے قانون سازی 2004 میں کی گئی تھی۔یہ الگ بات ہے کہ بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے حکام کو اس قانون کے نفاذ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔رواں برس کے آغاز سے بھوٹان حکام نے اس قانون کے نفاذ کے لیے زیادہ سخت رویہ اپنایا، جس کے تحت سگریٹ نوشی کرنے والوں اور تمباکو کی مصنوعات کی فروخت میں ملوث افراد کو بھاری جرمانے بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروسز نے نئے سال کے موقع پر سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مند افراد کو اس توقع کے ساتھ کہ اس سے لوگوں کو یہ عاد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!