تازہ ترینکالممحمد فرقان

یو ٹرن U Turn

Muhammad Furqanانسان شروع شروع میں غاروں میں رہتا تھا، درختوں کے پتوں سے بنا لباس پہنتا تھااور گھاس پھوس کھا کر گزارہ کرتا تھا۔مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا انسان کو شعور آنے لگا اور اِس نے غاروں سے نکل کر گھر بنانے کا سوچا تو یوں بستیاں آباد ہو گئیں۔انسان اِس کائنات کی اشرف مخلوق ہے شائد اسی لیے ہی انسان نے آج تک جتنی ترقی کی ہے کائنات میں اور کسی مخلوق نے اتنی ترقی نہیں کی،انسان کیسے غاروں سے نکل کر بستیوں اور بنگلوں میں پہنچ گیا۔پتوں کی جگہ رنگ برنگے کپڑے اور لذیز کھانا کھانے کا مستحق ہوا،یہ سب کچھ انسان کی محنت ہی کی بدولت ہے۔
اگر پہیہ کی ایجاد نہ ہوتی تو شائد ہمیں آج بھی پیدل چل کر سفر کرنا پڑتا،اب تو انسان ہوا میں اُڑ کر پرندوں سے مقابلہ کرنے لگا ہے یہ سب کچھ انسان کے دماغ میں آنے والی تبدیلی اور شعور کی وجہ سے ہے۔اگر اُس وقت کا انسان غار سے باہر ہی نا نکلتا تو آج ہم بھی غاروں میں رہ رہے ہوتے۔انسان نے نئے اور جدید طریقے اپنائے اور کامیابی کی منزلوں تک پہنچ گیا،کمپیوٹر کی ایجاد کر کے بنی نوع انسان نے پوری دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ انسان کی بنائی ہوئی یہ مشین انسان کے اپنے دماغ سے بھی تیز کام کرتی ہے اور آج کل زندگی کے ہر شعبے میں کار آمد ثابت ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستانی کروز میزائل تجربہ پرامریکہ پریشان

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ترقی کی منزلیں طے کرنے کے بعد اب یو ٹرن لے کر واپس غاروں کی طرف جا رہے ہیں۔کیونکہ اس ترقی یافتہ دور میں ہم اپنے مہذبانہ طور طریقوں کو بھول رہے ہیں ۔ہماری چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہمیں ترقی سے دور لے جا رہی ہیں بظاہر تو یہ غلطیاں ہمارے لیے چھوٹی میں مگر دیکھنے والے کو اِن کے اثرات بہت بڑے نظر آتے ہیں۔مثال کے طور پر ہمیں محفل میں اُٹھنے بیٹھنے کا علم نہیں،بات کرنے کا ڈھنگ نہیں،کسی دعوت میں کھانا کیسے کھاتے ہیں لوگ تو پلیٹوں میں پہاڑیاں بنا لیتے ہیں،پان کھا کر جگہ جگیہ پچکاریاں کرتے ہیں،چلتی گاری سے سڑک پر کچرا پھینکا عادت ہے ہماری،فٹ پاتھ پر پیدل چلنے کے بجائے سائیکل اور موٹر سائیکل چلانا،کسی چیز کی صفائی کرنے کے لیے کپڑا گندہ ہی مانگنا وغیرہ یہ تو صرف چند مثالیں آپ کے سامنے پیش کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  لاج اورعلاج

انسان کے طور طریقوں سے دیکھنے والے کو علم ہو جاتا ہے کہ یہ شخص کیسے معاشرے میں رہتا ہے اور اس کا معاشرہ کیسا ہے،یعنی ایک شخص کا رویہ اُ س کے پورے معاشرے کا عکس دیکھنے والے کو ظاہر کر دیتا ہے۔ہم پاکستانی لوگ بے شمار ایسے عجیب و غریب کام کر دیتے ہیں جن سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں،جیسے تیس سیکنڈ صبر نہ کرتے ہوئے سگنل توڑنا دینا یعنی بے وقوفی کی انتہا پار کر جاتے ہیں او ر پھر جب جلد بازی میں حارثہ پیش آجاتا ہے تو پھر کہتے ہیں قسمت میں یہی تھا یعنی ہم اپنے ہر اُس کا م کا براانجام دیکھ کر بات اپنی قسمت پر ڈال دیتے ہیں اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ غلطی ہماری تھی،ہم لوگ دوسروں کی غلطیوں کے وکیل اور اپنی غلطیوں کے بہترین جج ہیں۔
انسان کے مہذب ہونے کا علم اُس کے طور طریقوں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ رویہ سے ہو جاتا ہے کہ یہ انسان کس طرح کے معاشرے سے تعلق رکھتا ہے۔بحثیت پاکستانی عوام ہمیں چاہیے کہ اسلام کے بتاہے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کریں کیونکہ ماشااللہ ہم مسلمان ہیں اور اللہ اور اُس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں ۔اانسان کی کامیابی کا دارومدنظم و ضبط کے اصولوں پر عمل کرنے میں ہے بانی پاکستان قائد اعظم کا قول ہے، ایمان ،اتحاد اور تنظیم ، ان تینوں ستونوں پرعمل کیے بغیر ہمارے لیے کامیابی حاصل کرنا نا ممکن ہے

یہ بھی پڑھیں  خیبرپختونخوا:بلدیاتی انتخابات،پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کا اتحاد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker