تازہ ترینکالمنصرت سرفراز

اُبل پڑے ہیں عذاب سارے

سن 2008 ؁ء میں وہ ایک اُبھرتی ہوئی ماڈل اور اداکارہ تھی دیکھتے ہی دیکھتے دولت شہرت اور عزت اُس کے قدموں کی باندی بن گئی وہ ایک شہر چھوڑ کر دوسرے شہر آبسی ماں باپ کے سائے سے نکلی تو وقت کی تپتی دھوپ نے احساس دلایا کہ وہ شجرِ سایہ دار سے دور ہوچکی ہے اور دھوپ کی حدت اور گرمی تلے وہ تنہا ہے تنہائی جب حد سے بڑھی تو سائے کی تلاش شروع ہوئی اور سکون اطمینان اور شجرِ سایہ دار کی تلاش اس بنتِ حواکو ابنِ آدم کے پاس لے گئی کچھ عرصہ تو اِس نے ساتھ دیا پھر طرح طرح کے حلیے بہانوں سے اصولوں، جوازوں اور عذروں کے سلسلے تراشے جانے لگے توصف اوّل میں شامل اس اداکارہ و ماڈل نے جو معاشی طو رپر کسی کی محتاج اور دستِ نگر نہ تھی اپنا راستہ تبدیل کرلیا مگر ابن آدم کی اذلی کرخت طبیعت اسے قبول نہ کرسکی اور اِس کا دل انتقام کی آگ میں جلنے لگا اس آگ کی لو اس قدر بڑھی کہ اِس نے بنتِ حوا کی زندگی عت حیثیت اور خوبصورتی سب کچھ داؤ پر لگا دیا دن دیہاڑے کرائے کے قاتلوں کے ذریعے اُس کے خوبصورت حسین اور معصوم چہرے پر گندھک کا تیزاب پھینکوا دیا تیزاب نے نہ صرف اُس کا معصوم اور حسین چہرہ مسخ کردیا بلکہ اُس کی دائیں آنکھ کی بینائی بھی جاتی رہی وہ حسین چہرہ جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لوگ بے تاب رہتے تھے اب اُس میں خود آئینہ دیکھنے کی تاب نہ تھی وہ شدید ترین صدمے کی حالت میں چلی گئی اور خودکشی کرنا چہتی تھی اُس کی تیزاب سے جھلسائے جانے سے پہلے اور بعد کی شبیہہ کسی بھی حساس دل انسان کے لئے آنکھیں پُرنم کرنے کا باعث تھیں۔
ایک اور دوشیزہ کی کہانی اتوار 25مارچ 2012 ؁ء کے صفِ اوّل کے اخباروں میں شائع ہوئی کسی بھی حساس دل رکھنے والے کے لئے انتہائی پُرسوز ہے شائع ہونے والی خبر یہ تھی ’’مصطفی کھر کے بیٹے کے ہاتھوں تیزاب سے جھلسنے والی فاخرہ نے خود کشی کرلی‘‘ بلال کھر سابق رکنِ پنجاب اسمبلی تھے اور ایک معروف سیاست دان کے فرزند ہیں اس ابنِ آدم نے بھی بنتِ حوا پر ایسا ظلم ڈھایا کہ سخت سے سخت دل بھی دہل اُٹھے اس جی دار نے فرعونیت کی انتہا کردی 12سال تک اپنے جھلسے ہوئے چہرے اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ اذیت تکلیف اور خود فراموشی کی حالت میں گزارتے ہوئے ایسی زندگی پر موت کو ترجیح دی بنتِ حو ایک بار پھر ہار گئی بلال کھر کی اہلیہ فاخرہ کے مطابق بلال پہلے سے شادی شدہ اور تین بیویوں کے شوہر تھے اور اِسے لاعلم رکھ کر انہوں نے فاخرہ سے شادی کرلی اور اسے دوسرے شہر سیٹل کرادیا جب فاخرہ کو بلال کی پہلی شادیوں کے بارے میں معلوم ہوا تو ان دونوں کے درمیان اختلافات جنم لینے لگے یہ اختلافات اس قدر شدت اختیار کرگئے کہ بالآخر فاخرہ اپنے والدین کے گھر شفٹ ہوگئی اور اِسی دوران ابنِ آدم کا بنتِ حوا پر جاری رہنے والے ظلم کی داستانوں میں ایک اور داستان کا اضافہ ہوا 14مئی 2000 ؁ء کو دن دیہاڑے صنفِ نازک ایک بار پھر ظلم کا شکار ہوگئی بلال کھر نے فاخرہ کے گھر میں داخل ہوکر اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا بلال کی اِس درندگی نے فاخرہ کی پوری زندگی تباہ کردی اور ایک خوبصورت لڑکی کے چہرے کو انتہائی بدصورت جھلسے ہوئے چہرے میں تبدیل کردیا اس واقع کے بعد تہمینہ درانی جو مصطفی کھر کی اہلیہ تھیں انہوں نے فاخرہ کو علاج کے لئے اٹلی روانہ کردیا جہاں 12طویل سال اُس نے اذیت تکلیف اور برداشت کے سارے راستے طے کئے بنتِ حوا ہار گئی 24مارچ 2012 ؁ء کو اُس نے ابنِ آدم کے اِس فیصلے کو تسلیم کرلیا کہ وہ مردوں کے اِس معاشرے میں مزید زندہ نہیں رہ سکتی اور وہ جان ہار گئی اُس نے خود کشی کرلی 12سال تک تنہا زندگی گزارنے کے بعد اورجھلسے ہوئے چہرے کے ساتھ رہتے رہتے فاخرہ کی ہمت جواب دے گئی اور اُس نے موت کو گلے لگا لیا بلال کھر اپنی تمام تر مظالم کے باوجود اب بھی اپنی زندگی کی تمام آسائشوں آسودگیوں اور عیاشیوں کے ساتھ اپنے خاندان والوں کے ہمراہ خوش و خرم زندگی گزار رہا ہے بس ایک بنتِ حوا دَم توڑگئی۔
یہ دونوں المناک ترین واقعات بالکل سچ ہیں اور ابنِ آدم کے بنتِ حوا پر ڈھائے جانے والے مظالم کی صرف ایک جھلک ہیں ان میں سے بیان کردہ اوّل الذکر المناک کہانی بظاہر پاکستانی اور ایشائی معاشرے سے تعلق رکھتی ہوئی دیکھائی دیتی ہے لیکن یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اوّل الذکر المناک داستان کا تعلق برطانیہ کی خوبصورت ماڈل کیٹی پاسپئر سے ہے ابنِ آدم کے ہاتھوں تیزاب سے جھلسائے جانے کے بعد کیٹی بھی مایوسی پریشانی اور شدید صدمے کی حالت میں تباہ حال یہ لڑکی اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتی تھی کیٹی پاسپئر کی یہ المناک کہانی یہ ظاہر کرتی ہے کہ صنفِ نازک صرف مشرق میں ہی نہیں بلکہ مغرب میں بھی ابنِ آدم کے ظالمانہ رویئے کا شکار ہوتی ہیں عصمت دری کے واقعات صرف مشرق سے منسوب نہیں ہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی بنتِ حوا کی پامالی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جنسی تشدد مشر سے لے کر مغرب تک صنفِ کرخت کی حاکمانہ طبیعت کی سرشت میں شامل ہے۔
14مئی 2000 ؁ء میں تیزاب سے جھلسائے جانے والی فاخرہ 24مارچ 2012 ؁ء کو 12سال ایک ہولناک اذیت ناک اور کربناک زندگی سے لڑنے کے بعد ہار مان گئی جرم بھی اُسی کے ساتھ ہوا اور قید تنہائی اور اذیت بھی فاخرہ نے ہی بھگتی اُس کی داستان تاقیامت مردوں کے اِس جابرانہ رویئے کا نوحہ روتی رہے گی۔ کیٹی پاسپئر کا تعلق مغرب سے تھا وہ ایک اداکارہ تھی مگر تھی توصنفِ نازک تیزاب سے جھلسائے جانے کے بعد وہ بھی اِسی اذیت اور تکلیف سے گزری جس سے فاخرہ گزری مشرق و مغرب دونوں انتہاؤں پر بنتِ حوا اور صنفِ نازک کی پامالی کا یہ نوحہ یکساں ہے۔
تم ابنِ آدم
میں بنتِ حوا
یہ بنتِ حوا تو کچھ نہیں ہے بناء تمہارے
نہ ابنِ آدم یہ بنتِ حوا
ابنی کے دم سے جہان سارے
جو یہ نہ ہوں تو کچھ نہیں ہے
زمین کی رونق دھنک یہ سارے
جو لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے شاب سارے
جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے
بکھر گئے ہیں گلاب سارے
اُبل پڑے ہیں عذاب سارے
ملالِ احول دوستاں بھی
خمار آغوشِ مہوشاں بھی
عنبارِ خاطر کے باب سارے
بہترے ہمارے سوال سارے
بہار آئی تو کھل پڑے ہیں
نئے سرے سے حساب سارے
اُبل پڑے ہیں عذاب سارے

یہ بھی پڑھیں  داؤدخیل: نادرا آفس کے ملازمین اور انچارج نے عوام سے ہتک آمیز رویہ

یہ بھی پڑھیے :

3 Comments

  1. Why this “male-dominated society, male-dominated society, male-dominated society” again and again and again???? in which society do we live? i have seen women as doctors, engeeners, chartered accountants, pilots, team leaders, managers, organisers etc etc. who stopped women from being professionals??? it is their own fault. most of the women in our society prefer getting married and giving birth to childeren instead of studying. Women in our society want to be at the mercy of men. So please dont call it “male-dominated society” again and again.

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker