شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / یونین کونسل 138ڈولہ پختہ کی سیاسی ڈائری

یونین کونسل 138ڈولہ پختہ کی سیاسی ڈائری

unnamed (1)دیپالپور برصغیر پاک و ہند کا قدیم ترین شہر ہے جو اپنے اندر طویل ترین تاریخی،ثقافتی اورمذہبی حیثیت تو رکھتا ہی ہے لیکن اس عظیم شہر کی سیاسی اہمیت سے بھی انکار کسی طور نہیں کیاجاسکتا دیپالپور کی مٹی زراعت کے حوالے سے زرخیز ہونے کیساتھ سیاست کے میدان میں بھی خودکفیل رہی ہے جہاں سے پیدا ہونیوالے بڑے بڑے سیاستدان ارض وطن کے بڑے بڑے سیاسی عہدوں پر براجمان رہے اور ملک و ملت کیلئے اپنی خدمات پیش کرتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی انتخابات کا اعلان ہوتا ہے تو پنجاب میں سب سے زیادہ جوش و خروش اس علاقے میں ہی نظر آتا ہے 31اکتوبر کو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہورہے ہیں اس حوالے سے آج ہم تحصیل دیپالپور کی یونین کونسل نمبر138ڈولہ پختہ کی سیاسی صورتحال کا ایک جائزہ آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔
یونین کونسل نمبر 138ڈولہ پختہ میں جو علاقے شامل کئے گئے ہیں ان میں ڈولہ پختہ کے علاوہ بہاولداس ،باہری پور،ٹبہ ہری چند،16/D،گلشن فرید،سلیم پورہ ،کوٹ دلاور خاں ،فضل الٰہی کالونی قابل ذکر ہیں۔اس یونین کونسل کے تقریباََ دس ہزار ووٹ ہیں جن میں سے کاسٹنگ کی شرح تقریباََ پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے اس یونین کونسل میں چیئرمین کی نشست کیلئے تین پینل حصہ لے رہے ہیں جن میں حکومتی جماعت یعنی پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے چیئرمین کیلئے میاں عبدالمالک ڈولہ صاحب کو ٹکٹ دیا گیا ہے جبکہ ان کیساتھ وائس چیئرمین کیلئے جناب قیصر شہزاد موہل صاحب میدان میں موجود ہیں،دوسرا پینل پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے امیدوار برائے چیئرمین ڈاکٹر میاں محمد امجد وحیدڈولہ صاحب اور ان کیساتھ بطور وائس چیئرمین میاں آصف رسول موہل کی صورت میں سامنے آیا ہے ،اس کے علاوہ اس یونین کونسل میں آزاد حیثیت سے میاں محمد صادق جوئیہ بھی بطورامیدوار برائے چیئرمین الیکشن لڑرہے ہیں جن کا بطور وائس چیئرمین ساتھ دینے کیلئے جناب حسن اختر جتالہ صاحب موجود ہیں۔
یہاں پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے امیندوار برائے چیئرمین ڈاکٹر میاں امجد وحید ڈولہ اگرچہ پہلی بار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں مگر علاقے میں ان کی شخصیت اور ان کے سیاسی و مذہبی بیک گراؤنڈ کے بارے میں عوام کی رائے کو دیکھتے ہوئے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ دیپالپور کی موجودہ سیاسی فضا میں ایک انتہائی خوشگوار اضافہ ہیں۔
ڈولہ پختہ کے علاقے میں سیاسی صورتحال کچھ یوں ہے کہ یہاں پرڈولہ پختہ گاؤں اور ٹھٹہ کے کل ووٹ ہیں جو کاسٹ ہوتے ہیں ان کی تعداد ایک ہزار سے پندرہ سو کے درمیان ہے یہاں پر اہم ترین بات یہ ہے کہ یہاں پراکثریت میں ڈولہ برادری مقیم ہے یہ ساری ڈولہ برادری میاں محمد نبی بخش ڈولہ کی اولاد سے ہے جن کے چار بیٹے تھے میاں محمد یار ڈولہ،میاں امیر بخش ڈولہ،میاں روم دین ڈولہ اور میاں قمردین ڈولہ تھے یہ چار بیٹے اب ڈولہ پختہ کے مضبوط چودہ خاندانوں میں تبدیل ہوچکے ہیں جن میں سے گیارہ بیٹے میاں ربنواز ڈولہ ،ڈاکٹر عبدالجلیل ڈولہ،میاں عبدالروؤف ڈولہ،میاں محمداشرف ڈولہ ،میاں عبدالہادی ڈولہ،میاں اظہر ڈولہ،میاں شاہد وحید ڈولہ،میاں عابد وحید ڈولہ،حاجی اعجاز حسین ڈولہ،میاں علی زمان ڈولہ،میاں رضوان حئی ڈولہ اور میاں عبدالوہاب ڈولہ نے ڈاکٹر امجد وحید ڈولہ کوالیکشن میں کھڑا کیا اور ان کی بھرپور کیمپین کررہے ہیں اس کے علاوہ یہاں کے دیگر عوام بھی میاں امجد وحید ڈولہ کے خیالات اور ان کے کردار کے باعث ان سے محبت کرتے ہیں ڈاکٹر امجد وحیدڈولہ صاحب اپنے پیچھے انتہائی مضبوط سیاسی و مذہبی بیک گراؤنڈ رکھتے ہیں وہ ڈولہ پختہ کی ہردلعزیز معززشخصیت اور معروف ماہرِ قانون میاں محمد اشرف ڈولہ کے فرزند ہیں اس کے علاوہ ان کے چچا میاں عبدالقیوم ڈولہ مرحوم نہ صرف املی موتی یونین کونسل کے چیئرمین رہے بلکہ مذہبی حوالے سے بھی وہ پورے ملک میں عزت و احترام کی نظرسے دیکھے جاتے تھے ان سب حوالوں سے ڈاکٹر امجد وحید ڈولہ کی ڈولہ پختہ میں جیت یقینی نظر آتی ہے ۔ چیئرمین کیلئے دوسرے امیدوار میاں عبدالمالک ڈولہ کا تعلق بھی ڈولہ برادری سے ہے جیسا کہ ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ گیارہ بھائی میاں محمد امجد ڈولہ کی حمائت کررہے ہیں جبکہ باقی تین بھائی میاں ثنااللہ ڈولہ،میاں عبدالمالک ڈولہ اور میاں محمد شفیع ڈولہ صاحب پاکستان مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدان میں کودنے والے جناب میاں عبدالمالک ڈولہ صاحب کی حمائت کررہے ہیں اس گروپ کی جانب سے منعقد کی گئی ریلیوں اور کارنر میٹنگز میں عوام کی شرکت اورجوش و خروش نہ ہونے کے برابر ہے جو کہ ڈولہ پختہ میں میاں امجد ڈولہ کی برتری کو واضح کرنے کیلئے کافی ہے۔ڈولہ پختہ سے ملحقہ آبادی جسے ٹھٹہ کہتے ہیں کے 90%ووٹ میاں امجد وحید ڈولہ کو جائیں گے جس کی بڑی وجہ اس علاقے میں ڈولہ برادری کا اثرورسوخ خصوصاََمیاں عابد وحید ڈولہ کی شبانہ روز محنت ہے جنہوں نے یہاں کے عوام کیلئے بے انتہا کام کیاہے یہاں کے پڑھے لکھے لوگوں کیلئے ملازمتیں ان کو قرض حسنہ کی فراہمی،بچیوں کی شادیوں کیلئے جہیز کی فراہمی میں مدد اور ان کو ناجائز اور جھوٹے پرچوں سے نجات دلاکر ان کی عزت نفس کی بحالی ان کا ایسا کارنامہ ہے جس کے سبب یہاں کے باشعور باشندے میاں عادل وحید ڈولہ کو اپنا مسیحا سمجھتے ہیں اس لئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ڈولہ پختہ میں میاں امجد ڈولہ کا 70/30کا مقابلہ ہے تو ٹھٹہ میں 90/10 کا مقابلہ ہوگا۔جبکہ چیئرمین کیلئے تیسرے امیدوار میاں صادق جوئیہ جو کہ بالٹی کے انتخابی نشان کیساتھ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں کی ڈولہ پختہ اور ٹھٹہ میں پزیرائی نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس کے بعد بہاولداس میں بھی ڈولہ پختہ کی طرح مقابلہ شیر اور بلے کے مابین ہی ہے جبکہ بالٹی کو یہاں پر بھی کوئی خاص مقبولیت حاصل نہیں ہے ۔بہاولداس کودو وارڈوں وارڈ نمبر5اور وارڈ نمبر6 میں تقسیم کیا گیا ہے اس علاقے میں تقریباََ 1300ووٹ کاسٹ ہوں گے ۔ اس حلقہ میں پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے مابین کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملے گا جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار برائے وائس چیئرمین میاں آصف رسول موہل اور پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے نامزد وائس چیئرمین میاں قیصر شہزاد موہل دونوں کا تعلق اس ایریا سے ہے اور دونوں یہاں کے رہائشی ہونے کے باعث اپنا حلقہ اثر اور اثرورسوخ رکھتے ہیں یہاں وارڈ نمبر 6میں جہاں پی ٹی آئی کا اپنا امیدوارملک محمداحمد کھوکھربھی جنرل کونسلر کی سیٹ کیلئے الیکشن میں حصہ لے رہاہے ان کے مقابلے میں ن لیگ کا امیدوار باغ علی جوئیہ ہیں اس مقابلے میں اہم بات یہ ہے کہ ان دونوں کے مابین اگرچہ سخت مقابلہ متوقع ہے مگر یہاں پر چیئرمین کیلئے میان امجد وحید ڈولہ کو واضح برتری حاصل ہے جس کی وجہ یہ ہے باغ علی جوئیہ کو وہاں پر کونسلر کا ووٹ تو ملے گا مگر چیئرمین کیلئے یہ ووٹ شیر کی بجائے تیسرے اور آزاد پینل سے چیئرمین کیلئے مقابلے میں موجود صادق جوئیہ کو ملنے کے چانسز زیادہ ہیں ووٹوں کی اس تقسیم کا فائدہ میاں امجد وحید صاحب کو جائے گاجہاں پر مقیم چنڈور فیملی،ڈولہ فیملی اورکھوکھرفیملیاں پہلے ہی علی الاعلان پی ٹی آئی کیساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے وارڈ نمبر 6میں آبادی غلام پورہ پی ٹی آئی کے امیدوار برائے وائس چیئرمین میاں آصف رسول موہل کی زمین میں ہے اس لئے اس آبادی کے 150ووٹوں کا پی ٹی آئی کو جانا لازمی امر دکھائی دیتا ہے ۔وارڈ نمبر 5میں موہل برادری خاصی تعداد میں موجود ہے جن کا ووٹ ن لیگ کے وائس چیئرمین کے امیدوار قیصرشہزاد موہل اور میاں آصف رسول موہل کی وجہ سے موہل برادری کے مابین تقسیم ہوگا مگر موہل برادری کے علاوہ دیگر اقوام کا رخ میاں امجد وحید ڈولہ کی طرف ہونے اور یہاں کے بااثر زمیندار جناب مظفر قادر موہل،راؤ ذولفقار، راؤ صدیق اور راؤشمشیر علی خاں کی جانب سے میاں امجد ڈولہ کی بھرپور سپورٹ اورسب سے بڑھ کر یہ کہ اس وارڈ میں سب سے زیادہ یعنی 250ووٹ رکھنے والی راجپوت برادری کے 70سے80فیصد ووٹ ممکنہ طور پر میاں امجد وحید ڈولہ کوہی جاتے نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی نے یہاں اپنا امیدورا راؤبرادری کے امیدوار کی وجہ سے کھڑا نہیں کیا کیوں کہ اس طرح راجپوت برادری کے پی ٹی آئی کیساتھ اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا تھا س وارڈ سے آزاد حیثیت سے بکری کے انتخابی نشان پرالیکشن میں حصہ لینے والے راؤ محمد یٰسین اورمیاں امجد وحید ڈولہ کی جانب سے ایک دوسرے کی حمائت کے بعد میاں امجد ڈولہ کیساتھ ساتھ خود راؤ یٰسین کی پوزیشن بھی مضبوط ہوئی ہے وارڈ نمبر 5میں کھرل برادری کے جنرل کونسلر کیلئے امیدوارسرُور احمد کھرل صاحب ن لیگ سے تعلق رکھتے ہیں کھرل برادری کا زیادہ تر رجحان شیر کا حامی ہے اس کے علاوہ راؤ برادری اور سندھی برادری کی اکثریت بھی شیر کو ووٹ دے گی اور یہاں کی ایک اہم اور معزز شخصیت مقصود ریحان بھی ن لیگ کو سپورٹ کررہے ہیں جبکہ عبدالرزاق ریحان کا جھکاؤ پی ٹی آئی کی جانب ہے۔یہاں پر گزشتہ روز ایک بڑی اچیومنٹ کھرل برادری کی دو اہم ترین شخصیات رائے محمد افضل کھرل ،رائے محمد یوسف کھرل اور فوجی محمد جاویدنے بھی میاں امجد وحید ڈولہ کی حمائت کا اعلان کردیا جس کے بعد میاں امجد وحید ڈولہ کی پوزیشن وارڈ نمبر 5میں بھی وننگ پوزیشن پر آگئی ہے ٹبہ ہری چند،سلیم پورہ ،گلشن فرید،16/D،دلاور کوٹ میں میاں امجد وحید ڈولہ کو واضح برتری حاصل ہے جہاں کے کاسٹ ہونے والے تقریباََ 650ووٹ کابڑا حصہ پی ٹی آئی کو ہی جاتا نظر آتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ چیئرمین کے امیدوارکیلئے الیکشن لڑنے والے تیسرے پینل کے وائس چیرمین حسن اختر جتالہ کا تعلق ٹبہ سے ہی ہے تاہم ان کی زیادہ تر برادری خیرپور میں مقیم ہونے کی وجہ سے ان کو زیادہ فائدہ نہیں ہوسکتا لیکن ان کی بہرحال یہاں موجودگی ایک اہم چیز ہے جس کی وجہ سے وہ یہاں سے کافی ووٹ حاصل کرسکتے ہیں مگر یہاں پر میاں امجد ڈولہ کو جو اہم ایڈوانٹیج حاصل ہے وہ یہ کہ یہاں کے رانا محمد نواز جو کہ خود پی ٹی آئی کی جانب سے چیئرمین کیلئے انتخابی دوڑ میں شامل تھے اب وہ میاں امجد ڈولہ کے حق میں دستبردار ہوکر ان کے قافلے میں شامل ہوچکے ہیں اور ان کا سارا ووٹ بنک میاں امجد ڈولہ کو ہی جائے گا جس کا اندازہ گزشتہ دنوں اس وقت بھی ہوا جب ہری چند میں اتنا بڑا جلسہ ہوا کہ عوام کو یہ برملا کہتے سنا گیا کہ اس سے قبل اس جگہ انہوں نے ایسا جلسہ نہیں دیکھا دلاور کوٹ میں بھی ن لیگ سے عوام کی ناراضی کا فائدہ میاں امجد ڈولہ کو جاتاواضح نظر آتا ہے جہاں ایک عوام ایک طرف توسیوریج سسٹم کے ہاتھوں ذلیل ہورہے ہیں تو دوسری طرف یہاں پر بجلی کا کوئی کھمبا ہی موجود نہیں جس کی وجہ سے عوام بہت پریشان ہیں اور ایک گھر دوسرے سے تاریں لے کر گزارا کررہاہے چھتوں کے اوپر لٹکتی تاریں کئی جانیں بھی لے چکی ہیں یہی صورتحال فضل الٰہی کالونی میں ہے جہاں کے عوام میں شیر کی پزیرائی نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ میاں امجد ڈولہ کی قیادت پر اعتمادکا اظہار کررہے ہیں۔باہری پور میں کاسٹنگ ووٹ تقریباََ 750ہے اور یہاں پر شیر اور بلے کے مقابلے میں بالٹی کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے والے آزاد امیدوار برائے چیئرمین صادق جوئیہ کودو روز پہلے تک واضح برتری حاصل تھی اگرچہ یہاں پر پہلے بھی میاں مقبول جوئیہ،میاں حق نواز جوئیہ اور میاں ربنواز جوئیہ سمیت یہاں کی کیہ اہم سیاسی شخصیات میاں امجد وحید ڈولہ کی بھرپور سپورٹر تھیں مگر گزشتہ روز یہاں کی سیاست کے ایک اہم ستون میاں امجد رفیق جوئیہ کی جانب سے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت میاں امجد وحید ڈولہ کے قافلے میں شرکت سے باہری پور میں بھی پی ٹی آئی کے امیدوار کا پلڑا بھاری ہوگیا ہے ۔یوں ڈولہ پختہ،ٹھٹہ،قلعہ ہری چند ،بہاولداس ،دلاور کوٹ و دیگر ملحقہ آبادیوں کے بعد باہری پور میں بھی میاں امجد وحید ڈولہ کی فتح کو روکنا تقریباََ ناممکن ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  انسانی حقوق اورامریکی امداد

note