تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

یونین کونسل شہریوں کے بنیادی حقوق کی اِکائی مگر۔

zafarآج میں جس اہم مگرمیڈیااورمتعلقہ حکام کی نظروں سے قدرے پوشیدہ ایشوکوموضوع کالم بنارہاہوں وہ ہے یونین کونسل کاوجوداوراس کے عملہ کے فرائض ،یونین کونسل کی طرف سے عوام کودی جانے والی سہولت اور ان کودرپیش مسائل ومشکلات کے اسباب ۔ یہ کہنا شائدغلط نہیں ہوگاکہ مردوزن افرادی قوت کومنظم اندازمیں سامنے لانے اور سرکاری اعدادوشمارکے مطابق معاشرے کی تشکیل کابنیادی یونٹ یونین کونسل ہی ہوتا ہے اور چاہے کوئی غریب شہری ہویاکتناہی امیر کیوں نہ ہویہ ہر شہری کوبلاتفریق اور برابری کی بنیاد پر اس کے بنیادی حقوق اور سہولیات فراہم کرتی ہے۔ بچوں کی پیدائش کااندراج،پیدائشی سرٹیفیکیٹ کااجراء،نکاح کااندراج اورمیرج سرٹیفیکیٹ کی فراہمی،طبعی یا حادثاتی اموات کی صورت میں سرکاری طورپر اندراج اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کااجراء،شادی شدہ جوڑے کی علٰحیدگی کی صورت میں طلاق کا اندراجِ اورفریقین کو طلاق نامے کی فراہمی وہ بنیادی نکات اور اہم دستاویزات ہیں جویونین کونسل ہی جاری کرتی ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسراادارہ اس کا مجاز ہے نہ اختیار رکھتا ہے۔ اس کاانچارج آفیسرسیکرٹری کہلاتاہے جواپنے فرائض منصبی کی آدائیگی اورسرکاری ریکارڈ درستگی کے حوالے سے حساس نوعیت کی بھاری ذمہ داریاں نبھاتاہے جس کی ڈیوٹی نہ صرف اپنے متعلقہ فرائض کی انجام دہی تک محدود ہوتی ہے بلکہ اس کے کونسل کے حدودمیں انتخابی حلقہ بندیوں کی تشکیل کاعمل ہویا سرکاری مردم شماری کا،ووٹرلسٹیں مرتب کرنے کامرحلہ ہویادیگر ہنگامی پراجیکٹس اور قدرتی آفات جیسے معاملات میں مکمل اعدادوشمار پیش کرنے کاعمل ہر جگہ اورہر معاملے میں سیکرٹری یونین کونسل کی بلا معاوضہ خدمات لی جاتی ہیں اور مزید براں یہ کہ پولیومہم کے دوران پولیو ٹیمز کی مانیٹرنگ سمیت اب تومقامی انتظامیہ سیکرٹری یونین کونسل سے اس کے کونسل کے حدود میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے کی تفصیلات بھی طلب کرتی ہے جب کہ اس کے علاوہ کسی بھی سرکاری ادارے کو علاقے میں کام کرنے سے متعلق جیساکہ سٹریٹ لائٹس کی تنصیب یاگلی کوچوں کی پختگی وغیرہ میں آبادی اور اس کی ضروریات کامکمل ڈیٹا بھی سیکرٹری ہی فراہم کرتاہے۔ سو اگرچہ یونین کونسل کے سیکرٹری سے کام توسولہ اور سترہ گریڈکے آفیسر کالیاجاتاہے تاہم سروس سٹرکچر کے لحاظ سے وہ محض چھ اور سات سکیل کا سرکاری ملازم ہوتاہے جواسی سکیل میں بھرتی ہوکراسی میں ریٹائر ہوتاہے۔ بتایا جاتاہے کہ پہلے سیکرٹری کاسکیل چھ تھالیکن سابق صوبائی حکومت میں اَل سیکرٹریزایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی جانب سے 12 سکیل کے مطالبے پر اس دور کے صوبائی وزیربلدیات بشیراحمدبلورنے سیکرٹری کاسکیل چھ سے بڑھاکرسات کردیاتھا۔افرادی قوت کے اُتار چڑھاؤ کے تناظر میں معاشرے کے بناؤ میں مصروف عمل بنیادی اکائی کہلانے والی یونین کونسل اوراس کاعملہ ہرلحاظ سے حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے احساس محرومی اور عدم توجہی کاشکارنظرآتے ہیں۔ویسے تویونین کونسلز کی بدحالی اور سیکرٹریزکے ساتھ روارکھنے والے سلوک کی صورتحال ملک بھرمیں ایک جیسی ہوگی لیکن اگر میں ذکرکروں خیبرپختونخوامیں یونین کونسلزکی بدحالی ،یہاں تعینات عملہ کے مسائل اور عوام کودرپیش مشکلات کاتوغیرمصدقہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت خیبرپختونخوامیں 9سوکے لگ بھگ کونسلزہیں جن میں تعینات سیکرٹریز کی تعداد یقینی طورکم ہوگی کیونکہ دیکھنے میں آیاہے کہ بیشترعلاقوں میں ایک سیکرٹری بیک وقت ایک سے زائد کونسلزکی ذمہ داری نبھارہاہوتاہے۔ بیشتر دیہاتی علاقوں میں یونین کونسلز کے اپنے دفاتر نہیں ہوتے اور عملہ لیٹرین اور پانی جیسی سہولیات سے محروم کرایہ کی مختصر عمارت میں فرائض انجام دیتا ہے۔حالانکہ ذرائع کاکہنایہ ہے کہ ہرکونسل کے ساتھ دس سے بارہ لاکھ روپے تک فنڈز موجود ہیں اور مگر سرکاری ریکارڈکے مطابق وہ تعمیراتی کام کے لئے مختص نہیں جب کہ غیرتعمیراتی سرگرمیوں میں بھی خرچ نہیں ہوتے کیونکہ اس کوخرچ کرنے کانظام بڑا پیچیدہ ہے اور یہ اختیار کونسل کے سیکرٹری کوحاصل بھی نہیں ہوتا۔سواگر ان فنڈز کو کونسلزکے دفاتر کے لئے استعمال میں لایاجائے تو دفاتر کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔بیشترکونسلزکے دفاتر میں کلاس فورملازمین بھی تعینات نہیں ہوتے سو وہاں کلاس فور کی ڈیوٹی بھی سیکرٹری خودآداکرتاہے جب کہ جن دفاتر میں کلاس فورملازمین دستیاب ہیں ان کے اپنے ڈھیرسارے مسائل ہیں جن میں بیشتر ملازمین مستقل نہیں ہوتے بلکہ بدترین مہنگائی کے اس دورمیں محض ایک ہزارسے لے کر تین ہزار روپے ماہوارتنخواہ پر کنٹریکٹ ملازم ہوتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ارڈی ڈی کی بحالی کے بعد سینئرسیکرٹریوں کوترقی دی جانی چاہیے تھی لیکن سابق سیکرٹری بلدیات نے ایسانہیں کیا۔برتھ سرٹیفیکیٹ سے لے کرنکاح نامے اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کی فراہمی تک یونین کونسل کاسارانظام کمپیوٹرائزڈکردیاگیاہے لیکن المیہ یہ ہے کہ کونسلزکو کمپیوٹر اپریٹرز نہیں دیئے گئے اور کمپیوٹر کاساراکام سیکرٹری ہی کوکرناپڑتا ہے لیکن سیکرٹریزکوباقاعدہ ٹریننگ بھی نہیں دی گئی ہیں نہ ہی ہر کونسل کوکمپیوٹردیاگیاہے بلکہ تین کونسلوں کے کمپیوٹر کاکام ایک ہی کونسل میں انجام پاتاہے۔کمپیوٹرپر کام کرنے والاسیکرٹری غیرتربیت یافتہ ہونے اور اوپر سے تین کونسلوں کے کام کا بوجھ ،سیکرٹری کاپولیومہم اور دیگر سرکاری سرگرمیو

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : ضلع بھرمیں پتنگ بازوں اورپتنگ فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker