امتیاز علی شاکرتازہ ترین

علمائے دین حق۔۔درباری ملاں

علمائے دین اسلام اوردرباری ملاؤں میں بہت فرق ہوتاہے اتنافرق کہ جس کی مثال زمین وآسمان کے فرق سے بھی نہیں دی جاسکتی،علمائے دین حق ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں جبکہ درباری ملاں دنیاوی شہرت،عہدے یامال ودولت کے سامنے سب کچھ بھول جاتے ہیں۔پیرکے روز روزنامہ جنگ میں محترم حامدمیرکا(علمائے دین اورحکمرانوں کے دربار)ایک شاندارکالم پڑھنے کااتفاق ہوا جس میں انہوں انتہائی باریک بینی کے ساتھ تاریخ کے سنہری ارواق سے انتہائی مضبوط دلائل کی روشنی میں یہ بات ثابت کردی کہ علماء دین حق نے کبھی کسی بھی حال میں اہل اقتداریعنی باطل حاکمین یاامراء جنہیں غیراللہ کہاجائے توزیادہ مناسب ہوگاکی کوئی ایسی بات تسلیم کی نہ اُن کی کسی ایسی خواہش کے سامنے سرتسلیم خم کیاجواللہ تعالیٰ اوررسول اللہ ﷺ کے احکامات کے مخالف تھیں نہ ہی ایسے حاکمین کے دربارمیں باادب حاضریاں دیں جس سے حاکمین اپنے غلط ملط عقائد پرعلماء کی حمایت حاصل ہونے کا تاثربناسکتے۔حامدمیرنے اپنے کالم میں لکھاکہ امام حضرت ابو حنیفہ ؒ کوحاکم وقت ابو جعفر عبداللہ بن محمد المنصور نے جیل میں قید کردیاجہاں اُن پرتشددبھی کیاجاتا امام حضرت ابو حنیفہؒ نے قیدوبند اورتشددکے باوجود یہاں تک کہ قیدمیں وفات پاگئے پر باطل حکمران کی ایسی کسی خواہش کی حمایت نہیں کی جواللہ تعالیٰ کے احکامات کے مخالف تھیں اسی طرح امام حضرت مالک بن انسؒ،امام حضرت احمد بن حنبلؒ،امام حضرت شافعیؒ،امام حضرت موسیٰ کاظمؒ،امام حضرت مالکؒ، عبدالرحیم محدث دہلوی ؒسے مجدد الف ثانی ؒتک حوالے دیتے ہوئے بڑی خوبصورتی کے ساتھ یہ ثابت کردیاکہ علماء کرام حکمرانوں کی نہیں اللہ تعالیٰ اوررسول اللہ ﷺ کی خوشنودی کوترجیح دیتے ہیں چاہیے انہیں کوڑے کھانے پڑیں جیل جاناپڑے چاہیے شہدکردئیے جائیں۔یوں توحامدمیرصاحب کے کالم میں کوئی کمی نظرنہیں آئی پرکیاہی اچھاہوتاجوبات انبیاء کرام سے شروع ہوتی ہاتھی والوں کا ذکرکیاجاتا30ہزارسے زائدبچے قتل کرنے والے فرعون کاقصہ بربادی سنایاہوتاحضرت یوسف علیہ سلام کے بھائیوں کے ظلم ستم پھرمصرکے بت پرستوں کی سازشوں اورحضرت یوسف علیہ سلام کی قیدوبند کاتذکرہ کیاجاتااللہ کے آخری نبی حضرت محمد سرکاردوعالم رحمت العامین ﷺکی بات کی ہوتی نبی کریم کے غلام حضرت بلال حبشیؓپرہونے والے ظلم وجبرکاتذکرہ چھیڑاہوتااورسب سے بڑھ کر نواسہ رسول اللہﷺ حضرت مولا علی المرتضی ؓ علیہ سلام کے شہزادوں کی مقام کربلاپرشہادت یاد آجاتی جس کی کائنات میں دوسری مثال ہوئی نہ ہوگی کے حوالے بھی پیش کر دیتے توتحریرکوچارنہیں اربوں کھربوں چاندلگ جاتے اس بات سے انکارکسی صورت ممکن نہیں کہ علماء دین حق کسی غیراللہ کے دربارمیں حاضریاں نہیں دیاکرتے اوریہ اس کائنات کی عظیم حقیقت ہے کہ اہل علم ودانش دنیاکے کسی جابرحاکم کے غلط ملط عقائدکوہمیشہ ردکرتے اورظلم وستم سہتے آئے ہیں پرجناب عالی صحافت بھی توکلمہ حق اداکرنے کانام ہے صحافت بھی توپیغمبری صفت ہے جس طرح علماء کرام پرلازم ہے کہ وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں قوم کی رہنمائی کریں خوداللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول میں سختیاں برداشت کریں اورقوم کی تربیت بھی انہیں بنیادوں پرکریں اسی طرح اہل صحافت کابھی اہل اقتدارکے درباروں میں حاضری دینااوراپنی صحافت کو اپنے دین،ملک وقوم کے مفادات کی بجائے کسی سیاستدان تاجر یاحاکم کے ایجنڈے کوفروغ دینے کیلئے استعمال کرنابھی توبالکل اسی طرح غلط اورجرم ہے جس طرح کسی عالم کااللہ تعالیٰ کی بجائے کسی دنیاوی حاکم کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔مولاناطارق جمیل قابل احترام بزرگ عالم ہیں جب وہ سود،زنا،غیبت،جھوٹ،بے ایمانی،چوری چکاری کیخلاف بات کرتے ہیں جب وہ خواتین کے حق وراثت کی ادائیگی کی تلقین کرتے ہیں تودلی خوشی ہوتی ہے،مولانانے وزیراعظم کے ٹیلی تھون پروگرام میں جھوٹ سے نجات کی دُعاکی خاص طورپرمیڈیاکے حوالے سے یامزیدجتنی بھی دُعائیں کی راقم سب پرآمین کہتاہے پرکیاہی اچھاہوتاکہ مولاناحاکم وقت کی مداح سرائی یا خوشآمدنہ کرتے توقوم ان کے لفظ لفظ کے ساتھ کھڑی ہوجاتی مولانانے اس حاکم کی خوشآمد کی جس کے قول و فعل کاتضاد طویل سے طویل ترہوتاجاتاہے مولاناصاحب سے گزارش ہے وہ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ قول و فعل کے تضاد کوجھوٹ تصورکیاجاناچاہیے کہ نہیں؟ مولانانے اینکرزکوجھوٹاچینلزکوجھوٹاکہہ کرجھوٹ سے نجات کی دُعاکی جس پرآمین پریہ بھی یاد رہے کہ سب اینکریاسب صحافی جھوٹے نہیں ہاں یہ حقیقت ہے کہ سچ بولنے والوں کی تعدادبہت قلیل ہے۔مولانانے بغیرکوئی دلیل پیش کیے معذرت کرکے احسن مثال قائم کی ہے جس پر اُن کیلئے خراج تحسین بنتاہے،مولانانے فرمایاکہ”وزنراعظم کواُجڑاچمن ملا“مان لیاکہ وزیراعظم عمران خان کواُجڑاچمن ملا جسے وہ صدق دل سے آبادکرنے کی کوشش کررہے توپھرمولاناہماری ایک بارپھررہنمائی فرمائیں کہ یہ چمن کس نے یاکن کن نے اجاڑا؟ماضی کے حکمرانوں نے اجاڑاتوپھرمولاناایک بارپھرہماری رہنمائی فرمائیں کہ مولاناتوماضی کے حکمرانوں سے اسی طرح ملاکرتے تھے اسی طرح دُعاکیاکرتے تھے جس طرح حاکم وقت سے ملتے ہیں دُعائیں کرتے ہیں محترم مولاناصاحب ہماری رہنمائی فرمائیں کہ اگلی حکومت پھرسے چمن اجاڑنے والوں کی بن جائے توکیامولانا ایک بارپھرچمن اجاڑنے والوں سے ماضی کی طرح ملاکریں گے؟اسی طرح اُن کے حق میں بھی دُعاکیاکریں گے اوریہ بھی کہ درباری ملاں اورعلمائے دین حق میں کیافرق ہوتاہے؟حامدمیرصاحب کی خدمت میں عرض کرناچاہتاہوں کہ بے شک علمائے دین کواہل دنیا یعنی دین اسلام کی تعلیمات سے غافل حکمرانوں کے دربارسے کوئی غرض نہیں ہوتی اورجن کادل ایسے حکمرانوں کے دربارسے باہرنہیں لگتاوہ علمائے دین نہیں درباری ملاں ہوتے ہیں جوہردورمیں پائے جاتے ہیں جس طرح کہ امام حضرت ابوحنیفہ ؒ کے شاگردنے فوری چیف جسٹس کا عہدہ قبول کرلیا یعنی امام حضرت ابوحنیفہ ؒ عالم دین حق اوراُن کاشاگردابویوسف درباری ملاں تھا آخرمیں محترم حامدمیرصاحب اورمیڈیاسے تعلق رکھنے والے تمام معززصحافیوں سے سوال کہ کیاآج میڈیاحاکم وقت کیخلاف کلمہ حق اداکرنے والے علمائے دین کے حق میں بات کرتاہے یاکم ازکم اُن کی بات کولوگوں کے سامنے اسی اندازمیں رکھتاہے جس طرح وہ کرتے ہیں؟بڑے افسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ ہمارامیڈیابھی علمائے دین حق کونہیں درباری ملاؤں کوہی پسندکرتاہے۔راقم کی کوئی بات محترم مولاناطارق جمیل صاحب،اُن کے چاہنے والوں یامحترم حامدمیرصاحب سمیت کسی بھی صحافی دوست کوناگوارگزرے توایڈوانس معذرت

یہ بھی پڑھیں  کوروناسے بچاؤکیلئے عوام حکومت کاساتھ دیں

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker