امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

علماء کی اپیل اور مہنگائی کا نیاطوفان

imtiazگزشتہ روز اخبارات میں علماء اکرام کی طرف سے ایک بہت فکر مندانہ بیان شائع ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ اللہ ،رسول کے نام پرجنگ بند کریں علماء کی حکومت اور طالبان سے اپیل۔ملک کے نامور علماء کے اجلاس میں وفاق المدارس کے رئیس مولانا سلیم اللہ خاں،مفتی رفیع عثمانی،مفتی تقی عثمانی ،مولاناعبدالرزاق ،مولاناشیر علی ،مفتی مختار الدین ،مولانا محمدحنیف جالندھری،مفتی منصور اور مولاناحسن شریک ہوئے ،اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں ملک کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے پے درپے دہشتگردی کے واقعات پر گہری تشویش اور بے گناہوں کے قتل عام پر افسوس اور متاثرین کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا،علماء اکرام نے حکومت اور طالبان سے اپیل کی کہ اللہ ،رسول کے نام پر فوری طور پر جنگ بند کردیں اور جب تک مذاکرات کسی نتیجے پرنہ پہنچ جائیں اس وقت تک ہرقسم کی مسلح کارروائیوں سے مکمل گریز کیا جائے۔قارئین راقم علماء اسلام کا دل وجان سے احترام کرتا ہے لیکن ذہن میں اُٹھنے والے بہت سے سوالات میں سے ایک سوال علماء اکرام کی خدمت میں پیش کرنیکی جسارت کئے بغیر رہا نہیں جارہا ۔(س) آج مارنے والا بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگاتا ہے اور مرنے والا بھی آخری وقت میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتا ہوا دنیا سے رخصت ہوتا ہے توعلماء یہ بتائیں کہ انہوں نے مسلم معاشرے کی کس قسم کی تعلیم و تربیت کی ہے ؟کچھ سوالات اپنے قارئین کی خدمت میں(س)کیا علماء اپنا فرض پوری طرح ادا کررہے ہیں ؟اگر علماء نے اپنافرض پوری طرح ادا کیا ہوتا تو آج اللہ اکبر کا نعرہ لگانے والا بے گناہ معصوم لوگوں کو جو اُسی اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں جس کا نعرہ وہ بھی لگاتا ہے قتل کرسکتا تھا؟کیا علماء کا حکومت اور طالبان سے اللہ،رسول کے نام جنگ بندی کی اپیل کرنا درست ہے ؟چاہئے تو یہ تھا کہ علما ء حق کو حق کہتے اور ناحق کو ناحق ،جواللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولؐ کے احکامات کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اُس کا ساتھ دیتے اور دوسرے گروپ کو صاف صاف وارننگ دیتے کہ اگر وہ اپنی دہشتگردانہ کارروائیوں سے باز نہ آیا تو اللہ ،رسول کے نام پر اُس کے خلاف جنگ کی جائے گی اور جب تک زندہ رہیں گے اللہ ،رسول کے حکم کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف لڑیں گے ۔جو لوگ اللہ ،رسول کے احکامات کو نہیں مانتے وہ اللہ ،رسول کے نام پرکی گئی اپیل کوکیا سمجھیں گے؟بڑی معروف نعت رسولؐ کا شعر ہے کہ ’’تیرا کھاؤاں تے تیرے گیت گاواں یا رسول اللہ‘‘جو اللہ سے مانگتے ہیں وہ اللہ اور اُس کے رسولؐ کے گیت گاتے ہیں اور جو غٰیروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ غیروں کے گیت گاتے ہیں ۔ اس لحاظ سے اگر حکومت اور دہشتگردوں سے امریکہ کے نام پر اپیل کی جاتی تو شاید بہتر نتائج برآمدہوتے۔سودی نظام کے تحت مسلم ریاست کو چلانے کی کوشش کرنے والوں اور اُن کے ساتھ ذاتیات کی جنگ لڑنے والوں ،اللہ تعالیٰ جو رازق حق ہے کوچھوڑامریکہ اور آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلانے والوں سے اللہ ،رسول کے نام پر جنگ بندی کی اپیل کیا اثر کرتی ہے یہ تو وقت ہی بتاے گا لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اُن پر کوئی اثر ہوگا۔آئی ایم ایف کا ہر حکم ماننے والے اگراللہ تعالیٰ کے احکامات پر بھی تھوڑا سا غور و فکر کرلیں تو حالات بہتری کی طرف جانے کی اُمید کی جاسکتی ہے ۔جس دن علماء نے حکومت اور طالبان سے اللہ ،رسول کے نام پر جنگ بندی کی اپیل کی اُسی دن آئی ایم ایف کی خوشنودی حاصل کرنے اور پوری طرح غلامی ثابت کرنے کیلئے حکومت نے عوام پر مہنگائی کانیا ایٹم بم گرا دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے حکم پر بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم ،بجلی 40سے100فیصد مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ۔پاکستان میں باہر سے دہشتگردی پھیلائی جارہی ہے :وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف۔دیکھنے اور پڑھنے میں دونوں خبریں الگ الگ ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں نوازشریف نے بھی اسی دہشتگردی کا ذکر کیا ہے جو آئی ایم ایف کے حکم پر آئے روز بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھا کر عوام پر مسلط کی جاری ہے ۔ 200یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو بجلی کے ریٹ بڑھنے سے فرق نہیں پڑے گاکیونکہ تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق نیا ٹیکا 200یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو لگے گالیکن حقیقت یہ ہے کہ 50سے 60یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین بھی شدید ترین مہنگائی کی لپیٹ میں آچکے ہیں ۔کسی محلے کی دکان پر لگے بجلی کمرشل میٹر پر 50سے60یونٹ چلنا انتہائی معمولی سی بات ہے ۔محلے کے غریب دکان دار پر مختلف قسم کے ٹیکس عائد کرکے حکومت اُس کی آمدنی سے کہیں زیادہ وصولی کررہی ہے۔غریب لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کے آخر آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے نئے اور پرانے قرضوں سے اُنھیں کیا فوائدہوئے ؟ حکمران امیرسے امیر تر اور غریب عوام غریب تر ہوچکے ہیں ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف سے لیا جانے والا قرض اور دنیا بھرسے عوام کے نام پر لی جانے والی امداد جسے خیرات کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگاکس کے کام آئے ؟غریب عوام کے یا حکمران طبقے کے؟بڑے بزرگوں کا کہنا ہے کہ چونھے والے پنڈ پرالیوں نظر آجاندے نے۔اگر حکومتی طبقے کے گھروں کے باہر پرالی کے ڈھیروں پر نظر کی جائے تو صاف پتا چلتا ہے کہ تمام قرض اور امداد غریب عوام کی بجائے امیر سے امیر تر حکمران طبقے کے حصے میں آئی اور غریب عوام کے حصے میں آیا آئی ایم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button