تازہ ترینکالممیرافسر امان

امتِ مسلمہ کے خلاف صلیبی صف بندی!

پوری دنیا میں جہاں جہاں مسلم اقلیت ہے وہاں عمومی طور پر اور مغربی ملکوں میں، یورپ اور امریکہ میں خصوصی طور پر امتِ مسلمہ کے خلاف صلیبی صف بندی ہو رہی ہے ۔اسی سلسلے میںبرمامیں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے تاریخی طور پر ثابت ہے کہ شروع اسلام سے ڈھائی سال بعدسے مسلمان برما میں آباد ہونا شروع ہو گئے تھے میانمر﴿برما﴾ کے صوبے ارکان میں ان کی اکثریت ہے ۔وہاں کئی مسلمان حکمرانوں نے حکومت بھی کی ہے مگر برطانیہ سے آزادی کے بعد برمی حکومت ان کو اپنا شہری تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کو زبردستی کشتیوں میں سوار کر کے ملک بدر کیا گیا ہے کچھ کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا اور کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا ہے ان کے گھر مساجد دینی مدرسے اور املاک جلا دی گئی ہے برما کی حکومت بھگشیوں سے مل کر مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہے ۔ ان کی عورتوں سے اجتماعی آبرو ریزی کی گئی ہے ان کے بچوں کوزندہ جلا دیا گیا ہے۔ چالیس سے پچاس ہزار مسلمانوں کو دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی کرتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ اور مسلم دنیا خوابِ خرگوش میں مبتلا ہے
افغان جنگ ختم ہونے پرسالوں کی پلا ننگ کے بعد اس دور کی سب سے پہلی صلیبی صف بندی جارج بش نے نائین الیون کا جعلی واقعہ گھڑ کر وار آن ٹیرر کے نام سے مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ ی۔وہ اُسامہ اور طالبان جو افغانستان کی جنگ کے دوران امریکا کے سر کے تاج تھے ان کو مصنو عی نشانہ بنا کر ان کو امریکا کے دشمن نمبر ون قرار دے کراس وقت سے لیکر آج تک مسلمانوں کے خون سے حولی کھیلی جارہی ہے۔
حال ہی میں انکشاف ہوا ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی رپورٹ میں اس پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ۴۰۰۲ ئ سے امریکہ کے جائنٹ فورسزا سٹاف کالج برائے آفیسرز میں ایک انتہائی مکروہ عمل جاری ہے ۔اسلام کے خلاف بڑے منظم طریقے سے امریکی فوج کے نصاب میں نفرت انگیز مواد پڑھایا جا رہا ہے اس نفرت انگیزنصابی کورس کو اب تک۰۰۸افسران رضاکارانہ طور مکمل کر چکے ہیں ۔اس نصاب میں اسلام کے خلاف جو نفرت انگیزی پھیلائی جا رہی ہے اس کورس کو سیکھنے کے لیے رضاکارانہ طور پر افسران اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں ۔اس نصاب کو چار حصوں میں بانٹا گیا ہے۔
اول۔اسلامی بھائی چارے کی تباہی۔یعنی مسلمانوں کے اندر جوبھائی چار ے کی فضائ موجود ہے اس کو ختم کرنے کے طریقے سیکھنا ۔
دوم۔اسلام کوعیسائیت کا حقیقی دشمن بنا کر پیش کرنا۔ یعنی اسلام عیسائیت پر غلبہ پانا چاہتا اس لیے اس کا دشمن نمبر ون ہے
سوم۔ اسلام کے مثبت تاثر کو زائل کرنا اور اسے بنیاد پرست اور جہادی بمعنی فسادی مذہب ظاہر کرنا۔یعنی اسلام کے جتنے بھی انسانیت کی بھلائی کے لیے پروگرام ہیں ان کو منفی طورپر پیش کرنا اسلام کو بنیاد پرست اور فسادی بنا کر پیش کرنا۔
چہارم۔عوام کے ذہنوںکو اس طرح ڈھالنا کہ مکہ مدینہ پر حملے کو کھلے دل سے قبول کر لیں۔یعنی جو صلیبیوں کے دل کے اندر جو عزائم ہیں﴿نعوذ با اللہ﴾ مکہ مدینہ پر ایٹم بم گرانے کے۔ جب وہ ان پر عمل کریں تو پہلے سے فضائ تیار کرنا۔
اس وقت یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ کورس کے دوران اس کا عملی مظاہرہ کیسے کرتے ہیں لیکن یہ روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ صدر اوباما نے اپنی صدراتی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ حج کے دوران مکہ مدینہ پر ایٹم بم گرا دینا چاہیے امریکا اپنے صدر کی شیطانی سوچ کے عین مطابق اسی کورس کے حصہ چہارم میں عوام کو تیار کر رہے ہیں تاکہ امریکی عوام سے کسی بڑی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ویسے توامریکہ میں تھنک ٹنک بہت پہلے سے مہم چلا رہے ہیں کہ مسلمانوں کو کیسے ختم کیا جائے واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا حامل ملک پاکستان کے ٹوٹنے کے نقشے بھی جاری کئے جا چکے ہیں مگر یہ مکروہ منصوبہ پینٹاگون میں تیار کیا گیا اور اس پر ۸ سال سے باقاعدگی سے عمل بھی ہو رہا ہے۔ دوسری طرف شیطانی ڈس انفارمیشن کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے چیف آف جنرل سٹاف نے حیرت کا اظہار کیااس کو صرف معطل کیا یعنی ابھی بھی ختم نہیں ہوا ۔یہ تو اس وقت پتہ چلا جب اس قبیج فعل کی شکایت ایک طالبعلم آفیسرنے کی تو جنرل ڈیمسی چیف آف جنرل سٹاف نے اس کی تحقیقات کا حکم دیا کہ یہ مواد نصاب میں کیسے شامل ہوا جبکہ ۸ سال سے چل رہا ہے اور ایک ہفتے کا یہ کورس سال میں پانچ بار پڑھایا جاتا تھا اور ۰۰۸ آفیسز اس نصاب کو مکمل بھی کر چکے ہیں تو کیا دنیا کی سراغ رسانی کرنے والے اوردنیا میںکہیں بھی زمین پر رینگنے والے کیڑوں
مکوڑوںکو سٹلائٹ نظام کے ذریعے دیکھنے والے امریکی حکمران خاص کر فوجی لیڈر شپ اس اسکیم سے بے خبر رہی؟ قطعاً نہیں ؟ا سلام دشمنی ان کی رگوں میں شامل ہے ۔امریکی
پاکستانی فوج پر بنیاد پرستی اور شدت پسندی کا الزام لگاتے رہتے ہیں کبھی طالبان کا حامی قرار دیا جاتا ہے اب وہ اپنی فوج پر کیا الزام لگائیں گے……. ؟
کچھ دن پہلے واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے پاکستانی اخبارات میں خبر آئی تھی کہ ہمارے سپہ سالار نے امریکا کے صدر کو ایک۴۱ صفحات کا میمو دیا تھا کہ امریکا ہمارے ملک میں منظم افراتفری پھیلا رہا ہے اور افراتفری برقرار رکھنے کا سبب بھی بن رہا ہے بھارت افغانستان کو پاکستان میں گڑبڑ کے لیے استعمال کرتا ہے ۔امریکا پاکستان کو ایٹمی پروگرام سے محروم کرنا چاہتا ہے اس پر امریکا کے صدر اوباما نے فرمایا آپ کی اطلاعات درست نہیں امریکا مضبوط اور مستحکم پاکستان دیکھنا چاہتا ہے جو سفید جھوٹ ہے …پاکستان میں امریکی ایجنٹوں کی کاروائیوں سے نظر آرہا ہے کہ پورا ملک جل رہا ہے ۔ پورے ملک میں گوریلا اور خود کش حملے ہو رہے ہیں ہمارے جنرل ہیڈ کواٹر سے لیکر ہمارے بزرگوں کے مزاروں پر حملے ہو رہے ہیں۔کراچی جو ملک کا 60 فی صد سے زیادہ ریوینیو دیتا ہے امریکی آلہ کاروں کی وجہ سے ڈسٹرب ہے ۔سرمایہ دار سرمایہ باہر ملکوں میں لے گئے ہیں اور باقی لے جا رہے ہیں۔ خود فوج کے سپہ سالار نے کراچی جا کر سرمایہ داروں کو تحفظ کا یقین دلایا تھا۔ سپریم کورٹ نے ازخدنوٹس بھی لیا مگر بات وہیں کی وہیں ہے اس لیے ہم امریکا کے صدر کی بات کا یقین کیسے کریں۔ سپہ سالار کی طرف سے یہ پاکستانی قوم کی ترجما نی ہے جو امریکا کے سامنے پیش کی گئی اس سے ساری قوم کا حوصلہ بڑھا ہے۔
بلیک واٹر کے متعلق امریکہ کا وزیر دفاع ربرٹ گیٹس اپنے ملک میں بیان دے چکاا ہے کہ بلیک واٹر نے امریکہ کا ساتھ عراق اور افغانستان میں اچھی طرح سے دیا اور اب وہ
پاکستان میں بھی امریکہ کی مدد کر رہی ہے ۔بلیک واٹر کمپنی بنانے والے مالک یعنی بانی ﴿ایرک پرنس﴾ کا انٹرویو اخبارات میں چھپ چکا ہے کہ بلیک واٹر پاکستان میں کام کر رہی ہے اور اُس نے یہاں تک کہا کہ وہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے۔ ہمارے ملک کے وزیر داخلہ رحمان ملک صاحب ﴿بلکہ کسی دشمن ملک ﴾کئی بار اخبارات میں جھوٹے بیانات دے چکے ہیں کہ بلیک واٹر پاکستان میںکام نہیںکر رہی ہے﴿ چاہے نام بدل کر کام کر رہی ہو﴾۔جبکہ پاکستان میں کئی دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں اور ملک کی سیاسی پارٹیوں کے سربراہوںکے بیانات آ چکے ہیں یہ کام بلیک واٹر کا ہے۔
امریکی صحافی اور مصنف باب وڑورڈ کی کتاب ﴿بش ایٹ وار﴾کے انکشافات امتِ مسلمہ کے کان کھولنے کے لیے کافی ہیں۔صلیبیوں کی اسلام کے خلاف پلاننگ کے اقتباسبات ملاحظہ فرمائیں’’افغانستان پر امریکی حملے سے پہلے اسلام آباد میں سی آئی اے کے ایجنٹوں نے یہ خفیہ رپورٹ واشنگٹن روانہ کی تھی کہ طالبان کی صفوں میں ایسے افغان راہنما موجود ہیں جو ملا عمر کی سخت گیری اور اُسامہ بن لادن سے اس کی دوستی کو پسند نہیں کرتے۔سی آئی اے کے ایک افسر شیلٹن نے رپورٹ دی کہ ترکمانستان،ازبکستان اور تاجکستان ہمارے تلاش اور بچائوآپریشن کے سلسلے میں اب تک تعاون پر آمادہ نہیں جبکہ پاکستان پہلے ہی منظوری دے چکا ہے۔نائب صدر ڈک چینی نے بتایا کہ امیر کویت سے بات کر لی ہے وہ جنگی اڈے دینے پر راضی ہو گیا ہے۔وزیر دفاع رمز فیلڈ نے صدر بش کو با خبر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے نہ صرف ہمیں اڈے دیے ہیں بلکہ تمام سہولتیں بھی فراہم کی ہیں۔ عمان نے بھی اڈے دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے ہم جلد افغانستان میں ہوائی جہازوں کے ذریعے دستی اشتہار گرا کر افغانوں کو مطلع کریںگے کہ یہ جنگ اسلام کے خلاف نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ امریکا انہیں اُسامہ اور ملا عمر سے نجات دلائیگا۔امریکی صدر نے افغانستان پر حملے کی تیاریوں کا جائزہ لینے والے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان حکومت آئی ایس آئی سے طالبان کے حامی افسروں کے نکالنے کی مہم شروع کرنے والی ہے یہ وہی وقت تھا جب پاکستان میں مشرف نے جنرل محمود اور کئی دوسرے اہل کاروں کو برطرف کیا تھا ‘‘ چند دن پہلے پارلیمنٹ کے اندر وزیر خار جہ حنا ربانی کھر کا بیان کے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے امریکیوں کو اپنے دور حکومت میں 208161 ویزے جاری کئے تھے یہ لوگ پاکستان میں کیا کرنے آئے تھے اورکیاکر رہے ہیں اور اتنے زیادہ تعداد میں پاکستان کیوں آئے عوام معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ریمنڈ ڈیوس جیسے مشن پر تو نہیں لگے ہوئے؟
پاکستانی اخبارات میں خبر آئی تھی کہ ڈرون حملوں کے اہداف کی نشان دہی سی آئی اے کیا کرے گی ۔قوم کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ سی آئی اے تو امریکی خفیہ ایجنسی ہے وہ ہمارے ملک میں کیا کر رہی ہے اور وہ کیوں اہداف کی نشان دہی کرے گی اوراُس کی ہمارے ملک میں موجودگی کس معاہدے کے تحت ہے اور کیوں ہے؟ کیا پاکستان کی آئی ایس آئی امریکا میں ایسی کاروائی کر سکتی ہے؟ کیا یہ بین الا اقوامی قوانین کے مطابق ہے؟ پوری قوم مطالبہ کر رہی ہے کہ امریکا کا پاکستان میں دخل ختم کیا جائے ملک کی پارلیمنٹ نے قرارداد پاس کی اس قرارداد کے بعد اے پی سی ہوئی اس نے بھی اس ہی بات کو دہرایا ۔دفاع پاکستان کونسل سارے ملک میں ریلیاں نکال رہی ہے لاہور سے اسلام آباد تک کامیاب ریلی نکالی اس کے بعد کوئٹہ سے چمن تک ریلی نکالی گئی کراچی میں بولٹن مارکیٹ سے کیماڑی تک ریلی نکالی گئی۔ اس کے بعد باب خیبر سے جمرود تک ہزاروں افراد نے پیدل مارچ کیا ریلی کا شاندار استقبال کیا گیا نواز شریف صاحب،مولانا فضل الرحٰمان اور عمران خان بھی یہی فرمارہے ہیںوہ امریکی اتحاد، نیٹو سپلائی اورڈرون حملوں کے خلاف ہیں ۔سوائے اتحادی حکومت کے ساری قوم احتجا ج کر رہی ہے تو بجائے اس کے کہ حکومت یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لے جاتی یا بین الاقوامی عدالت انصاف میں جاتی وہ خود اپنے لوگوں کو مارنے کا میکنزم
امریکہ سے بند کمرے میں طے کر رہی ہے۔ کیا ہم مکمل طور پر امریکا کے غلام بنا دیے گئے ہیں؟
ڈرون حملے ہمارے ملک میںبیرونی مداخلت ہے، ملکی خودمختاری کے خلاف ہے اور بین ا لااقوامی قانون کے خلاف ہے۔ اس سے ملک میںخودکش بمبار تیار ہو رہے ہمارے لاتعداد شہری ہلاک ہو چکے اور مزید ہلاک ہو رہے ہیں۔ ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے کئی بے گناہ خاندانوں کو ختم کر دیا گیا ہو وہ خودکش بمبار نہیں بنیں گے تو کیا بنیںگے؟ لہٰذا حکومت کو ڈرون حملوںکا معاملہ بین الاقوامی انصاف کی عدالت اور اقوام متحدہ میں فوراّ پیش کرنا چاہیے۔
رائے عامہ کے مطابق مغربی ملکوں میں مسلمانوں اور اسلامی تہذیب کے بارے میں خوف، عناد، تعصب،منفی طرزفکر اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہے جو ایک مہم کے طور پر پیدا کئے جا رہے ہیںاور یہ اسی امریکی چار نکاتی ایجنڈے کے تحت ہیں جو اپنے فوجیوں کوکورسوں کے ذریعے سکھائے جا رہے ہیں بلاشبہ اس وقت پوری دنیا میں عمومی طور پر،مغربی ملکوں اور امریکہ میں خصوصی طور پر اسلام عناد کی لہر شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔
قارئین صلیبی جنگ تو اول روز سے صلیبیوں نے ختم ہی نہیں کی جب بھی ان کوموقع ملتا ہے وہ اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں ڈونلڈ رمز فیلڈ امریکی سکریٹری آف ڈیفنس نے اعلان کیا تھا مسلمانوں کو دوبارہ خلافت کا نظام قائم نہیں کرنے دیں گے۔اسی طرح۱۱/۹ کے موقع پر بش نے بھی کہا تھا کہ ہم نے صلیبی جنگ چھیڑ دی ہے۔ ان کی شیطانی چالوں کا اس بات سے اندازہ کیجیے کہ معروف عرب چینل الجزیرہ کی تحقیق کے مطابق امریکہ میں ایف بی آئی کے افرادمنافق بن کر اسلام لاتے ہیں ایجنٹ بن کر مساجد میں آتے ہیں اور سادہ لوح مسلمان نوجوانوں کو مساجد میں جہاد پر اُکساتے ہیں ان کے ذہن میں چھپے جہادی خیالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اور دھوکا دے کر بدلہ لینے اور تخریبی کاروائیوں میں ملوث کرتے ہیں اس قسم کی مثال کریگ مونٹیل ایک بدمعاش امر یکی شہری سفید فام کی ہے ۔اس کو ایف بی آئی نے پونے دو لاکھ ڈالر دے کر اس بات پر تیار کیا۔اس نے اپنا فرضی نام فرخ عزیز ظاہر کر کے ایک صومالی نوجوان محمد عثمان محمود کو کرسمس پر دھماکہ کرنے پر تیار کیا۔کرسمس ٹری بم سازش تخریب کاری پر اکسایا بم میں مصنوعی دھماکہ خیز مواد رکھا۔اس کے بعد عین موقع پر بم بلاسٹ کرتے ہوئے ایف آئی بی نے اس مسلمان نوجوان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور پرنٹ اور الیکٹرو نک میڈیا پر اس کی خوب تشہیر کی۔ ساری دنیا میں اس کرسمس ٹری بم سازش کا پرو پیگنڈہ کیا گیا اور مسلمانوں کا دنیا بھر میں دہشت گرد ہونے کا واویلا مچایا۔ مکُر و مکرَاللہ کے مصداق صلیبی مکر کرنے والوں سے اللہ کی تدبیر جیت گئی اور کریگ مونٹیل کے اندر کا انسان جاگ اٹھا اور اس نے اس بات کا اعتراف کیا اور پرنٹ اورالیکٹرونک میڈیا کے سامنے ساری سازش کو بے نقاب کر دیا۔ پہلے تو ایف بی آئی کے اعلیٰ افسران نے اس واقعے سے انکار کیا پھر جب کیریگ مونٹیل نے ایف بی آئی کا نشان پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے سامنے پیش کیا تو ایف بی آئی نے کہا کہ مجرموں کی تلاش میں ایسے کام کرنے پڑتے ہیں۔کریگ مونٹیل نے ایف بی آئی پر مقدمے کا اعلان کر دیاتھا۔ایف بی آئی کی مزید سازشوں کا شکار نوجوان نجیب اللہ زازی افغان، احمداللہ سعید ،عاص سمیر لبنان،فیصل
شہزاد پاکستان او ر حسام حسین رومادی اردن کا باشندہ ہے۔امریکی مسلمانوں نے بجا طور پر کہا، اس سے گمان ہوتاہے کے اسی طرح عرب نو جوانوں کو بھی اُکسا کر ۱۱/۹ کا واقعہ کروایا گیا ہوگا اور امت مسلمہ کے کے خلاف نام نہاد دشت گردی کا الزام لگا کر صلیبی جنگ چھیڑ دی گئی۔
مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور ان کی مقدس شخصیات کی توہین کرنے کے واقعات معمول کا حصہ بن گئے ہیں ۔بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی حالیہ شائع شدہ رپورٹ میں بھانڈا پھوڑ دیا ہے اس رپورٹ میں دنیا میں اسلام کے خلاف منفی پروپگنڈے اورمسلمانوں کے خلاف امتیازات اور تعصّبات کا جائزہ لیا گیا ہے اور یورپی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں۔مسلمان کے تہذیبی علامات مثلاًنماز اور نقاب پر پابندی سے عزت نفس متاثر ہوئی ہے۔ مسلم خواتین روزگار کے مواقع سے محروم ہو رہی ہیں مسلم خواتین کو ملازمتیں نہیں مل رہیں لڑکیوں کو کلاس میں بیٹھنے نہیں دیا جاتا کیونکہ وہ اسکارف استعمال کرتی ہیں وہ اپنے عیسائی مذہب کی نندوں کو تو سفید اسکارف اور لباس میں پسند کرتے ہیں مگر ان کو مسلمان عورتوں کااسکارف پہننا پسند نہیں ہے۔جبکہ رپورٹ کے مطابق مذہبی و تہذیبی علامتوں اور پیراہن کا استعمال کرنا اظہار آزادی کے حق کا بھی جز ہے یہ مذہب یا عقیدہ کی آزادی کے حق کا بھی جز ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے یورپ میں دائیں بازو کی سیاسی پارٹیاں سیاسی مقاصد کے لیے مسلمانوں کی مخالفت کرتیں ہیں۔سوئٹزر لینڈکی پارٹی سوئس پیپلز پارٹی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلا رہی ہے ان کے پروگرام کے مطابق’’ مسلمان ان کے ملک میں ۴ لاکھ ہیں اپنے خاندان کو بلانے،اونچی شرح پیدائش، اور جبری شادیوں کی وجہ سے ان کا اضافہ ہو رہا ہے صرف کچھ مسلمان ریڈیکل نظریات کی حامی ہیں باقی ایسے ملکوں سے سوئٹزر لینڈ میں آ رہے ہیں جہاں جمہوریت نہیں ہے وہ ایسے نظریات اپنے ساتھ لاتے ہیں جو ہمارے نظام عدل سے مطابقت نہیں رکھتے‘‘۔اسی طرح فرانس میں نیشنل فرنٹ کے لیڈر یورپین لوگوں کو یہ کہہ کر ڈراتے ہیں کہ’’ یورپ کچھ عرصہ بعد یورپ نہیں رہے گا یہ اسلامی جمہوریہ میں تبدیل ہو جائے گا ہم ایک تاریخی موڑ پر آکھڑے ہیں اور اگر ہم نے اس موقع پر اپنی تہذیب کی حفاظت نہیں کی تو یہ منصہ شہود سے غائب ہو جائے گی۔جی ہاں ،میںاپنے وطن کے لیے عہد بستہ ہوں۔ میں اپنے ملک کی تاریخی شناخت کی حفاظت کرنا
چاہتا ہوں ‘‘یہ نفر ت انگیز تقاریر فرانس میں مسلمانوں کے خلاف ہو رہیں ہیں۔ہالینڈ کے لیڈر گیرت وائلڈرس فرماتے ہیں ’’اسلام سب سے بڑا خطرہ ہے جو ہمارے ملک اور پوری آ زاد مغربی دنیا کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے مسلم ملکوںسے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہو رہی ہے اور ہمارے ہاں بڑی تعداد میں نفرت کے محل کھٹرے ﴿مسجد﴾ہو رہے ہیںجرائم میںتارکین وطن کی بڑی تعداد ملوث ہے اب بہت ہو چکا‘‘۔اسپین کی ایک سیاسی پارٹی کے پروگرام میں کہا گیا ہے﴿ اسپین جس پر مسلمانوںنے آٹھ سو سال حکومت کی﴾’’ کٹولونیہ﴿اسپین کا ایک صوبہ﴾میں مسلم تارکین وطن کی آمد سے ہمارے یورپی شناخت کے ورثہ کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے یعنی انفرادی و اجتماعی آزادی، جمہوریت ،گریکو و لاطین کلچر، عیسائیت اور ہماری زبانیںیا معروف رسوم و روایات کے رواج کے لیے اسلام ایک خطرہ ہے‘‘۔ اٹلی کی پیپلز آف فریڈ م پارٹی کے رہنما مورزیو فرماتے ہیں’’ میوان میں اورکلوزیم کے سامنے نقلی عبادت﴿نماز﴾ کا مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں یہ اٹلی کے لوگوں کو ڈرانے اور دھمکانے کا عمل ہے جو لوگ اس عبادت﴿نماز﴾میں شرکت کرتے ہیں پولیس کو چاہیے کہ ان کی شناخت کرے اور ممکن ہو تو انہیں ملک بدر کر دے لوگوں﴿مسلمانوں﴾کو عبادت کو بطور سیاسی ہتھیاراستعمال نہیں کرنا چاہیے‘‘جبکہ مذہی آزادی کی دنیا اجازت دیتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے گزشتہ ایک دہائی سے متعدد ملکوں بشمول اسپین،فرانس،بیلیجم،ہالینڈاور سوئٹزرلینڈ میںمسلم طالبات کو مذہبی لباس پہن کر اسکول آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔کئی یورپی ملکوں میں نئی مساجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جب کہ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کا احترام اور ان کی عبادت گاہوںکی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے ۔سوٹزر لینڈ میں ۰۱۰۲ئ سے مسلمانوں کو ان کی عبادت گاہوں کے حوالے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ مسجد کا مینار تعمیر نہیں کر سکتے ۔اسپین کے صوبے کٹولینہ میں مسجد کی جگہ کم ہوجانے کی وجہ سے مسلمان نماز باہر سڑک پرادا کرتے ہیں کیونکہ وہاں مسجد کی توسیع کی اجازت نہیں۔یورپ کے کے متعدد ملکوں میں یہ رائے تیزی سے بن رہی ہے کہ’’ مسلمان اپنی شناخت کو نمایاں کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو انہیں اسلام اور مسلمانوں سے کوئی مسئلہ نہیں‘‘عجیب مطالبہ ہے یعنی مسلمان اپنا مذہب ،اپنی عبادت یعنی نماز اور اسلامی شعار چھوڑ دیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ یورپ کے ۰۵ ملکوں کی آبادی میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب ۵ فی صد ہے اور دنیا کی آبادی کا ۲ فی صد ہے۔ اس تناسب پر مسلمان عیسائیوں کے ملکوں میںان کے خلاف کون سا انقلاب پرپا کر سکیں گے بلکہ ان کی اپنے غلط نظام کی وجہ سے لوگ دھڑادھڑ مسلمان ہو رہے ہیں جو ان کی اصلی پریشانی کا سبب ہے۔ اسی طرح مسلمان بیلیجم میں۶ فی صد،فرانس میں ۵.۷ فی صد،ہالینڈ میں ۵.۵ فی صد،سوئٹزر لینڈ میں۵.۷ فی صد،اسپین میں ۳.۲ فی صد،جرمنی میں ۵ فی صد،اور برطانیہ میں ۴.۶ فی صد ہیںلیکن ابھی تک تمام مسلمانوں کو شہریت نہیں مل پائی ہے۔ دشمنی کی انتہا کرتے ہوئے برطانیہ کے ایک ادارے runnymede trust نے ۷۹۹۱ئ میں’’ اسلام سب کے لیے چیلنج‘‘ کے عنوان سے اعلان جاری کیا تھا بعد میں ۴۰۰۲ئ میں ایک فالو اپ رپورٹ بعنوان ’’اسلموفوبیا،ایشوز،چیلنجز اور ایکشن‘‘شائع کیا تھا اسمیں آٹھ نکات ہیں﴿ ا﴾اسلام کو وہ ایک موحد،جامد اور تبدیلی مخالف مذہب تصور کرتے ہیں﴿ ۲﴾اسلام کو ایک علیحدہ اور منفرد مذہب سمجھتے ہیں جس میں مشترک تہذیبی قدریں نہیں پا ئی جاتیں، جس میں دوسروں
کے اثرات قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے﴿۳﴾اسلا م کو مغرب کے مقابلے میں کم تصور کرتے ہیں اسے غیر عقلی، جاہلانہ اور شہوت زدہ گردانتے ہیں﴿۴﴾اسلام ،تہذیبوں کے تصادم کے نظریہ پر عمل ہے جو تشدد،جارحیت،اور دہشت گردی کو شہ دیتا ہے﴿۵﴾اسلام کو ایک سیاسی نظریہ تصور کرتے ہیں جو سیاسی یا فوجی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے﴿ ۶﴾ اسلام پر مغرب کی تنقید کو بغیر کسی حجت کے مسترد کر دیا جاتا ہے﴿ ۷﴾اسلام کے خلاف معاندانہ رویہ کو مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور انہیں معاشرے سے الگ تھلگ رکھنے کے کیے بطور جواز استعمال کیا جاتا ہے﴿ ۸﴾مسلمانوں کے خلاف مخاصمت کو قدرتی یا معمول کا رد عمل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے مزید مشورے ہیں کہ مسلمان ہر اس قدم کی مذمت کرے جس سے مشرق وسطی میں یہودیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں جبکہ اس ٹرسٹ نے ۳۹۹۱ئ میں اسی طرح کی ایک رپورٹ یہودیوں کے بارے میں مرتب کی تھی لیکن اس رپورٹ میں یہودیوں کو کوئی مشورہ نہیں دیا گیا تھا مثلاکہ یہودی فلسطین کے مسلمانوں کے ملک پر ناجائز قبضہ چھوڑ دے۔یہودی فلسطین کے مسلمانوں کو ان کے وطن سے بے دخل کر کے قبضہ کر لیں، نہتے فلسطینی مسلمانوں پر ٹینک، جیٹ طیاروں میزائلوں سے حملہ آور ہو اسے کوئی مشورہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
ویسے او آئی سی نے اس رپورٹ کو سختی سے رد کیا ہے اور کہا ہے یہ ایک مذہب اور اس کے پیروکاروں کو بدنام و رسوا کرنے کا عمل ہے۔یہ مسلمانوں کی عزت و ناموس اور ان کے بنیادی حقوق کی نفی کے مترادِف ہے۔ او آئی سی کے سربراہ احسان اوغلو صلیبیوں کی مسلمانوں کے خلاف صف بندی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صلیبیوں نے پہلے مرحلے میں اظہار خیال کی آزادی کو بہانا بنا کر اسلام اور مسلمانوں پر حملے کیے گئے حضرت محمد (ص) کے تضحیک آمیز خاکوں کی شکل میں شائع کیے گئے۔جیسا کہ مغربی میڈیا میں آئے دن توہین آمیز کارٹون شائع ہوتے ہیں اسلام پر رکیک حملے کرنے والے نام نہاد ادیبوں کی پذیرائی اور انہیں انعامات و کرامات سے سرفراز کرنا مغربی ملکوں کا محبوب مشغلہ ہے اس سلسلے میں سلمان راشدی سے لے کر تسلیمہ نسرین تک کتنے نام گنوائے جا سکتے ہیںاس کے برخلاف حضرت عیسیٰ (ع) کی شان میں گستاخی کرنا یورپ میں قانوناً جرم ہے اور یہ صحیح ہے مسلمان تمام پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا احترام لازم سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کی نام نہادہولوکاسٹ پر سوال کرنا بھی ایک جرم ہے چنددن قبل کا واقعہ ہے کہ جرمنی میں ایک شاعر کو اپنی ایک نظم میں اسرائیل پر نکتہ چینی کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ برطانیہ آزادی کے چیمپین نے گزشتہ سال مشہور مبلغ ڈاکڑذاکر نائیک کا ویزا یہ کہہ کے منسوخ کر دیا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کا حامی ہے۔اسلام دشمن فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کی شکست پر فرانسیسی مسلمانوں نے ایک گونہ راحت ضرور محسوس کی ہو گی جن کی صدارت کے دوران مسلمانوں پر عرصہ، حیات تنگ کرنے کی مضحکہ خیزکوششیں کی گئیں بالخصوص حجاب کے معاملے کہ قانونی جرم قرار دیا تھا۔اغلو کے مطابق دوسراا مریکہ مسلمانوں کے خلاف عناد ونفرت کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کی گئیں سوئٹزرلینڈ میں مسجدوں کے میناروں کی تعمیر پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ امریکہ میں اعلیٰ فوجی تربیت کے نصاب میں اسلام مخالف مواد کو شامل کرنا یہاں تک کہ مقامات مقدسہ ﴿مکہ و مدینہ﴾ کو نشانہ بنانے کا درس دینا وغیرہ۔اسی طرح میڈیا بھی مسلم دشمنی میں پیش پیش ہے نائن الیون کے بعد اس میں مزید اضافہ ہوا ہے یہ مسلمانوں کوبنیاد پرست،جنو نی،انتہا پسند،دہشت گرد اور وحشی کے طور پر پیش کرتا ہے کتنے افسوس کی بات ہے کی ایک مغرب کا باشندہ ناروے کا جنونی شہری آندرے بریک جب بم دھماکے اور فائرنگ کے ذریعے لوگوں کو ہلاک کر رہا تھا اس وقت بی بی سی اور دیگر مغربی چینل بغیر تحقیق کے اس کو القاعدہ کا حملہ قرار دے رہے تھے ۔اسی طرح پاکستان کا مغربی پلائنٹڈ الیکٹرونک میڈیا سوات کے اندر ایک خاتون کے کوڑوں کا منظر بغیر تحقیق کے مختلف زاویوں سے بڑھا چڑھا کر دکھا رہا تھا تاکہ اسلام بدنام ہو مگر اللہ کا کرنا کہ ایک شخص اسلام آبادمیں گرفتار کیا گیاجس نے کہا میں نے پانچ لاکھ ایک بیرونی این جی او سے لیکریہ جھوٹ گھڑا تھا ۔
اللہ کا شکر ہے مغربی میڈیا کی ان زہر افشانیوں کا تدراک کرنے کے لیے او آئی سی نے حال ہی میں ایک سٹیلائٹ چینل شروع کرنے اور میڈیا میں سرمایا کاری کو فروغ دینے اوررکن ملکوں کے درمیان معلومات کاتبادلہ کا منصوبہ بنایا ہے مغرب جو پوری دنیا کو رواداری، سیکولر، جمہوریت،مساوات اور،مذہبی آزادی کا درس دیتا رہتا ہے مگر اپنی غلط روش پردیان نہیں دیتا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مغرب کی دو رخی کو دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے مغرب کب اپنی اصلاح کی طرف کی کوشش کرتا ہے اس رپورٹ کے مطابق ووٹوں کے حصول کے لیے سیاسی جماعتوں کے سیاسی ایجنڈے اور میڈیا بھی مسلمانوں کی غلط تصویر کشی بے بنیاد باتوں کو تقویت پہنچاتی ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۱۱ ستمبر ۱۰۰۲ ئ کو امریکی شہر نیویارک کے ٹوئن ٹاور کے واقعے سے مسلمانوں کے خلاف تعصب میں جارحانہ حد تک اضافہ ہوا تھا مگر اس سے بہت پہلے سے تعصب موجود ہے۔یورپی باشندے مسلمان خاندان کواپنا ہمسایہ بنانا پسند نہیں کر تے۔ ایسی سنگین صورت کی مثالیںبیلجیم، بلغاریہ، استونیا،لتھوانیا،یونان،مالٹا،رومانیہ فن لینڈ میں ملتی ہیں۔ فرانس اور جرمنی کے باشندوں نے کہا ہے کہ مسلمان ان کے معاشرے میں ضم نہیں ہونا چاہتے یعنی مسلمان اپنی انفرادیت کیوں نہیں ختم کرتے ؟
قارئین ہماری اوپر بیان کردہ باتوں،خاص کر امریکی فوجیوں کی شیطانی ٹرینگ، برما کی نسل کشی، افغان جنگ سے پہلے صلیبیوں کی تیاری اور دنیا میں مسلمانوں کے خلاف صلیبیوں کی صف بندی جو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپنی رپورٹ میں ظاہر کی ہیں کو معمول کی باتیں نہ سمجھیں جائیں ۔مسلمانوں کو بھی ان کے شر سے بچنے کی پلاننگ کرنا چاہیے ورنہ ہماری بربادی کے سامان تو تیار ہو ہی رہے ہیں!!!

یہ بھی پڑھیں  ڈنگہ :ہم نے ہمیشہ جھوٹ اور منافقت کی سیاست کی نفی کی ہے،سید نورالحسن شاہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker