اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی توجہ کے لئے

وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے جمعتہ الوداع کو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے یوم دعا کے طور پرمنانے کی ہدایت جاری  کی ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے نہتے کشمیریوں کے خلاف مظالم میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اور رمضان المبارک  کے مقدس مہینے میں بھی کشمیری مسلمانوںکو مذہبی عبادات پر پابندیاں ہیں۔شہادتوں،گرفتاریوں،گھر گھر تلاشی اور جبری گمشدگیوں کس سلسلہ جاری ہے۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے آزاد کشمیر حکومت،تمام سیاسی جماعتوں اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری باشندوں سے اپیل  کی ہے کہ  جمعتہ الوداع کو کشمیریوں کی تحریک حریت کی کامیابی کے لئے یوم دعا کے طور پر منایا جائے،عیدالفطر کے روز نماز عید کے فورا بعد عید گاہوں سے جلوس نکالتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اس موقع پر یہ اعلان بھی کیا کہ 8جولائی سے19جولائی تک شہدائے کشمیر اور قرار دادالحاق پاکستان کے حوالے سے خصوصی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
دنیا کے مختلف ملکوں اور عالمی اداروں میں مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق سرگرمیوں پر ہندوستان کی طرف سے حقیقی طور پر پریشانی ظاہر ہوتی ہے،یعنی عالمی سطح اور عالمی اداروں،بالخصوص اقوام متحدہ کے مختلف اداروں میں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے خلاف مسلسل فوج کشی،انسانیت سوز مظالم کے مسلسل سلسلے کا معاملہ اٹھانے پر ہندوستان کی پریشانی قابل دید ہوتی ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے حالیہ اجلاس میں بھی ڈاکٹر سید نزیر گیلانی آپ نے کشمیریوں کی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے۔ڈاکٹر سید نزیر گیلانی کی یہ تجویز نہایت اہم ہے کہ آزاد کشمیر حکومت اور مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے 12اسمبلی نمائندے آزاد کشمیر کے مختلف علاقو ں پر ہندوستانی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے ہونے والی شہریوں کے نقصانات کی تفصیلات تیار کر کے ڈاکٹر سید نزیر گیلانی کو ارسال کی جائیں جو عالمی سطح پر ہندوستان کی غیر انسانی کاروائیوں اور کشمیریوں کے مطالبہ آزادی کو دبانے کے لئے فوجی طاقت کے ظالمانہ استعمال سے متعلق ہندوستان کے گھنائونے چہرے کو بے نقاب کرنے اور عالمی سطح پر ہندوستان کو دبائو میں لانے کے حوالے سے نہایت اہم اور موثر ہو سکتے ہیں۔
سید نزیر گیلانی نے حکومت آزاد کشمیر،مہاجرین ممبران آزاد کشمیر اسمبلی اورصحافی حضرات سے اپیل میں کہا ہے کہ جے کے سی ایچ آر JKCHRکے ڈیلیگیشن کی اقوام متحدہ کی ہیومن رایٹس کونسل اور ہای کمشنر برایے انسانی حقوق کے دفتر کے ذمہ داران کے ساتھ طے شدہ ملاقاتوں میں ان سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور دیگر مکاتب فکر کی آرا جو ہمیں اب تک موصول ہویی ہیں اور جو 15جون کی شام تک موصول ہونگی، ان تمام views کو باقاییدہ بحث اور ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔جن احباب نے جنگ بندی لاین پررہنے والی سول آبادی کی مشکلات کے بارے میں رپورٹ بھیجنی ہے ان سے گزارش ہے کہ وہ رپورٹ بر وقت بھیجیں۔حکومت آزاد کشمیر اور 12 ارکان اسمبلی برائے مہاجرین سے درخواست ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور عارضی بارڈر کے قریب رہنے والی سول آبادی کے جانی و مالی نقصان اور مشکلات پر اپنی رپورٹ 15 جون کی شام تک ای میل یا واٹسیپ کے ذریعے بھیجدیں۔ ایسا کرنا انکے حلف اور ان کی آئینی ذمہ داری میں شامل ہے۔
آزاد کشمیر حکومت اور مہاجرین ارکان اسمبلی کو اس متعلق اپنی تجاویز فوری بنیادوں پر فائنل کرتے ہوئے ڈاکٹر سید نزیر گیلانی کو ارسال کرنی چاہئیں۔اگر ایسا نہیں جاتا تو یہ کشمیر کاز کے ساتھ سنگین بد عہدی ہو گی ۔ یہ ضروریہ ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اس اہم معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت جاری کریں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اس اجلاس میں بھی ڈاکٹر سید نزیر گیلانی آپ نے کشمیریوں کی ترجمانی کا حق ادا کیا ہے۔ڈاکٹر سید نزیر گیلانی کی یہ تجویز نہایت اہم ہے کہ آزاد کشمیر حکومت اور مہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے 12اسمبلی نمائندے آزاد کشمیر کے مختلف علاقو ں پر ہندوستانی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے ہونے والی شہریوں کے نقصانات کی تفصیلات تیار کر کے ڈاکٹر سید نزیر گیلانی کو ارسال کی جائیں جو عالمی سطح پر ہندوستان کی غیر انسانی کاروائیوں اور کشمیریوں کے مطالبہ آزادی کو دبانے کے لئے فوجی طاقت کے ظالمانہ استعمال سے متعلق ہندوستان کے گھنائونے چہرے کو بے نقاب کرنے اور عالمی سطح پر ہندوستان کو دبائو میں لانے کے حوالے سے نہایت اہم اور موثر ہو سکتے ہیں۔آزاد کشمیر حکومت اور مہاجرین ارکان اسمبلی کو اس متعلق اپنی تجاویز فوری بنیادوں پر فائنل کرتے ہوئے ڈاکٹر سید نزیر گیلانی کو ارسال کرنی چاہئیں۔اگر ایسا نہیں جاتا تو یہ کشمیر کاز کے ساتھ سنگین بد عہدی ہو گی ۔ یہ ضروری ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اس اہم معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس حوالے سے رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت جاری کریں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button