تازہ ترینکالم

یونیورسٹی کی طالبہ ،،بات کام کی ،

سن رکھا ہے ، جو تعلیم کی اہمیت جا نتا اور جو پڑ ھا لکھا ہو تا اس کی بات چیت بھی بہت کام کی ، اور سبق آ موز ہو تی ہے ، میسج ملا ، اتنا طویل مگر طا لبہ قا ئداعظم یو نی و رسٹی کی ، غور سے پڑ ھنا پڑھا ، بات یہ تھی ، ان پڑ ھ شخص نے زرافے کی گر دن پکڑی او وہ سر جنو ں کا سر جن بن گیا ، یہ پڑھ کر بہت حیر ت ہو ئی ، مگر ، سو چ آ ئی یہ تحر یر ہو گی کا م کی ، پو ری پڑ ھی جا نی چا ہیے ، کیپ ٹا ؤن کی میڈ یکل یو نی ورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثت حا صل ہے ، دنیا کا پہلا با ئی پا س اپر یشن اسی یو نی ورسٹی میں ہوا تھا ، اس یو نی ور سٹی نے تین سا ل پہلے ایک سیا ہ فا م شخص کو ما سٹر آ ف میڈ یسن کی اعزازی ڈگر ی دی جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا ، جو انگر یز ی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا ، لیکن ایک صبح دنیا کے مشہو ر سر جن پر وفیسر ڈیو ڈ ڈینٹ نے یو نی ور سٹی کے آ ڈ یٹو ریم میں اعلا ن کیا ،ہم آ ج ایک ایسے شخص کو میڈ یسن کی اعز ازی ڈگر ی دے رہے ہیں ، جس نے دنیا میں سب سے زیا دہ سر جن پیدا کیے ہیں ، جو ایک غیر معمو لی استا د اور ایک حیران کن سر جن ہے ،اور جس نے میڈ یکل سا ئنس اور انسانی دما غ کو حیران کر دیا ۔ اس اعلا ن کے سا تھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نا لیا ، اور پو رے ایڈیٹو ریم نے کھڑ ے ہو کر اس کا استقبا ل کیا ، یہ اس یو نی ورسٹی کی تا ریخ کا سب سے بڑ ا استقبا ل تھا ، ہیملن کیپ ٹا ؤ ن کے دور دراز گاؤ ں سنیٹا نی میں پیدا ہو ا ، اس کے وا لدین چر وا ہے تھے ، وہ بکر ی کی کھا ل پہنتا تھا ، اور پہا ڑوں پر سا را دن ننگے پا ؤ ں پھر تا تھا ، بچپن میں اس کا والد بیما ر ہو گیا تھا اس لیے یہ کیپ ٹا ؤن میں آ گیا تھا ، ان دنوں کیپ ٹا ؤن میں یو نی ورسٹی کی تعمیرات جا ری تھی،وہ یو نی ورسٹی میں مز دور بھر تی ہو گیا ، اس کو مز دوری سے جو پیسے ملتے تھے وہ سار ے گھر بھجو ا دیتا تھا اور خو د چنے کھا کر گزارکر تا تھا ، وہ بر سو ں مز دوری کر تارہا ، تعمیر ات مکمل ہو ئی تو یہ یو نی ورسٹی میں ما لی بھر تی ہو گیا ، اسے کو ٹینس کو ٹ کا گھا س کھا ٹنے کا کا م ملا ، تین سا ل اس نے یہ کھا م کیا ، پھر اس کی زند گی میں ایک مو ڑ آ یا ، وہ میڈ یکل سا ئنس کے اس مقام تک پہنچا جہاں تک آ ج تک کو ئی دوسرا نہیں پہنچا ، پر وفیسر رابر ٹجو ئز زرافے پر تحقیق کر رہے تھے ، وہ یہ دیکھنا چا ہتے تھے جب زرافے پا نی پینے کے لیے گردن جھکا تا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا ، انہوں نے آ پریشن ٹیبل پر زرافے کو لٹا یا ، اسے بے ہو ش کیا ، لیکن جو ں ہی آ پر یشن شر وع ہو ا زرافے نے گر دن ہلا دی ، چنا نچہ انہیں ایک ایسے مضبو ط شخص کوضرورت تھی جو آ پر یشن کے دوران زرافے کی گر دن جکڑ سکے ، پر وفیسر تھیٹر سے با ہر آ ئے سا منے ہیملٹن گھا س کا ٹ رہا تھا ، پر وفیسر نے دیکھا کہ نو جوان قد کا ٹ کا صحت مند جو ان ہے ، انہوں نے اس کو اشا رے سے بلا یا اور اسے زرافے کی گر دن پکڑ نے کا حکم دے دیا ، ہیملٹن نے آ ٹھ گھنٹے زرافے کی گر دن پکڑی رکھی اور اس دوران آ پر یشن جا ری رہا ، اس طر ح اس کی مکمل ڈیو ٹی لگا گئی ، آ پر یشن کے دوران وہ زرا فے کی گر دن پکڑ کے رکھتا اور اس کے بعد گھا س کا ٹتا اور کو ئی اضا فی چا رج کا مطا لبہ نہیں کیا ، یہ سلسلہ کا فی عر صہ جا ری رہا ، اور ہیلمٹن ایسے آ پر یشن تھیٹر میں کا م کر تا رہا ، پر وفیسر رابر ٹ نے اس شخص کی استقا مت اور حو صلہ دیکھا تو ما لی سے لیب اسسٹنٹ بنا دیا ۔
اس کی پر ومو شن ہو ئی ، سر جن کی ہیلپ کر تا ، کا فی عرصہ گزرا ، تو ہیلمٹن کو ٹا نکے لگا نے کا کام سو نپ دیا گیا ، اس کی ٹا نکے لگا نے کی رفتا ری بھی کا فی تیز تھی اس لیے سب سر جن اس کی بہت تعر یف کر تے ، ڈاکٹر بر نا رڈ یو نی ورسٹی آ ئے اور انہو ں نے دل کی منتقلی کے آپر یشن شروع کر دیے ،ہیملٹن نے ڈاکٹر بر نا رڈ کے کا م کو غو ر سے دیکھتا ، اور اس دوران اسسٹنٹ سے ایڈ یشنل سر جن بن گیا ، بڑے ڈاکٹر وں نے اسے جو نئیر ڈاکٹروں کو سمجھا نے اور سکھا نے کی ذ مہ داری سو نپ دی ، وہ آ ہستہ آہستہ یو نی ورسٹی کی اہم تر ین شخصیت بن گیا ، وہ میڈ یکل سا ئنس کی اصلا حیا ت سے نا وا قف تھا لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سر جن سے بہتر سر جن تھا ۔ اس کی زند گی میں ایک اور مو ڑ آ یا ، اس سا ل جگر پر تحقیق شروع ہو ئی ، تو اس نے آ پر یشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شر یا ن کی نشا ند ہی کر دی جس کی وجی سے جگر کی منتقلی اسا ن ہو گی ، اس کی اس نشا ند ہی نے میڈ یکل سا ئنس کے بڑے دما غو ں کو حیران کر دیا ، آ ج دنیا کے کسی کو نے میں جگر کا آ پر یشن ہو تا اور مر یض آ نکھ کھو ل کر روشنی کو دیکھتا ہے تو اس کا میا ب آ پر یشن کا ثو اب ہیلمٹن کا جا تا ہے ، پچا س بر س وہ کیپ یو نی ورسٹی کے ساتھ منسلک رہا ہے ، اس نے کبھی چھٹی نہیں کی ، وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا چو دہ میل پید ل چلتا ہوا یو نی ورسٹی پہنچتا اور ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو تا ، لو گ ااس کی آ مد رفت سے اپنی گھڑیا ں ٹھیک کر تے تھے ۔ اس نے اس سارے عر صے میں زیا دہ مر اعا ت کا مطا لبہ نہیں کیا ، پھر ایک وقت ایسا آ یا کہ اس کی تنخو اہ اور مر اعا ت سب سے زیا دہ تھی ، جب وہ فو ت ہو ا تو اس کو اسی کیپ ٹا ؤن یو نی ورسٹی میں دفن کیا گیا ، اس کے بعد یو نی ورسٹی کی طر ف سے یہ اعلا ن کیا گیا کہ جو طالب علم اپنی پڑ ھا ئی مکمل کر کے یو نی ور سٹی سے نکلتے ہیں تو وہ اس کے مزار میں جا کر اسپیشل حا ضری دیتے ہیں ، یہ یو نی ورسٹی کی لا زمی شر ط رکھ دی گئی ہے ،
اس تحر یرکو پڑ ھ کے ایک سبق ملا کہ ہیلمٹن نے جب گھا س کا ٹتے ہو ئے پر وفیسر کی آ واز سے آ پر یشن تھیٹر میں جا کر زرا فے کی گر دن جکڑی اور اس با ت پر اعتر اض نہیں کیا کہ میں تو ما لی ہو ں اور کیوں زرا فے کی مشکل گر دن پکڑ کر رکھوں ، اگر وہ اس دن انکا ر کر دیتا تو وہ ساری زند گی گھا س کا ٹتا رہتا ، اور اب جیسے میڈ یکل دنیا میں ہیلمٹن کا نام مو جو د ہے ایسے کبھی یہ مقام نہ ملتا ، ہما رے نو جو ان جا ب کی تلا ش میں رہتے ہیں اور جب جا ب ملتی ہے تو اکسٹر ا کا م ملنے پر انکا ر کرتے ہیں اور صرف فو کس اپنی جا ب پر کر تے ہیں ، ہیلمٹن اپنی جا ب مالی پر رہتا ، وہ کبھی آ پر یشن تھیڑ نہیں جا تا تو ساری زند گی اسی کی مالی کے کا م میں گز ر جا نی تھی، اس نے اضا فی مطا لبہ کیا تھا اور نہ ہی کسی دوسرے کا م کر نے سے انکا ر کیا تھا ۔سن رکھا ہے ، جو تعلیم کی اہمیت جا نتا اور جو پڑ ھا لکھا ہو تا اس کی بات چیت بھی بہت کام کی ، اور سبق آ موز ہو تی ہے ، میسج ملا ، اتنا طویل مگر طا لبہ قا ئداعظم یو نی و رسٹی کی ، غور سے پڑ ھنا پڑھا ، بات یہ تھی ، ان پڑ ھ شخص نے زرافے کی گر دن پکڑی او وہ سر جنو ں کا سر جن بن گیا ،

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button