شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اعجاز رانا / پاکستان میں اردو ہائیکو کے بانی ڈاکٹر محمد امین

پاکستان میں اردو ہائیکو کے بانی ڈاکٹر محمد امین

گزشتہ دنوں حکومت جاپان نے زبان اورادب کے ذریعے پاکستان اورجاپان کو قریب لانے میں نمایاں خدمات سر انجام دینے پر ملتان کے معروف ادیب و ماہر تعلیم ، ملتان ٹی ہاؤس کے ممبر پروفیسر ڈاکٹرمحمد امین کو جاپان کے قومی اعزاز ’’دی آرڈرآف دی رائزن سن، گولڈریز ودروزیٹ‘‘سے نوازا ۔ معروف ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹرمحمد امین کا شمار اردو ہائیکو کے بانیوں میں ہوتا ہے۔آپ 35سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں جن میں بیشتر جاپانی زبان ،ادب اورثقافت بارے ہیں۔ ان کو پہلی جاپانی اردو ڈکشنری کی تدوین کا اعزاز بھی حاصل ہے جو کہ 1988 ء میں شائع ہوئی۔ عرصہ دراز تک شعبہ درس و تدریس سے وابستہ رہنے والے ڈاکٹر محمد امین کی ساری زندگی ادب کے ترویج و آبیاری میں گزری ، بہا ؤالدین زکریا یونیورسٹی میں لیکچرار رہے ، گورنمنٹ ولایت حسین اسلامیہ کالج میں بطور پرنسپل خدمات سرانجام دیں اور 1970 ء کی دہائی میں جب پی ایچ ڈی کے سلسلہ میں جاپان گئے تو انہوں نے جاپان میں قیام کے دوران ہائیکو کے مزاج کا مطالعہ کیا، اور وہاں سے ہائیکو کی پنیری ساتھ لے آئے اس کا ثمر پاکستان آ کر اٹھایا۔ ہائیکو کی پنیری کو ملتان میں بیٹھ کر شاعری کی کیاری میں لگایا ، اور بڑی کامیابی سے اس صنف میں طبع آزمائی کرنے لگے جس کی مقبولیت چارسو پھیل گئی۔
اردو شاعری کی مختلف اصناف تخلیقی طور پر مہمیز کا کام دیتی ہیں، انہی اصناف میں ایک منفرد صنف سخن ہائیکو ہے۔ 17ویں صدی کے اوائل سے رائج جاپانی شاعری کے قدیم ترین محفوظ سرمایہ ادب میں شامل ہائیکو (HAIKU) جاپانیوں کی منفرد شاعری کی صنف ہے۔ جاپان کے قدیم ترین اصناف سخن میں چوکا ،واکا یا تنکا اور رینگا(نظم مسلسل) شامل ہیں۔ نظم مسلسل کے مختلف تجربات صدیوں جاری رہنے کے بعد اس میں سے ایک حصہ ہائیکئی(Haikai)کے نام سے جدا کیا گیا، بعد ازاں اسے ہوکو(Hokku)کہا گیا اور پھر یہ شعری صنف ہائیکو (Haiku)کے نام سے موسوم ہوئی۔ جو کہ صرف وہیں رائج تھی لیکن اس سے جاپانیوں کی والہانہ محبت اور مسلسل کوششوں کی وجہ سے یہ دنیا بھرمیں اپنا مقام بنا چکی ہے ۔ کم و بیش پینتیس زبانوں کے الفاظ کا ذخیرہ ، ہماری قومی زبان اردو جو کہ دنیا کی سب سے منفرد زبان ہے جس میں ہر چھوٹی بڑی زبان کے ذخیرہ الفاظ اور ادب کوبحسن و خوبی اپنانے اور سمونے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے،ہماری اس عظیم زبان کے متنوع ادب میں شامل بہت کم عرصے میں بہت تیزی سے مقبول ہونے والی صنف سخن ہائیکو ہے ۔ یہ صنف دیکھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ کفایت لفظی اور اختصار کا دوسرا نام ہائیکو ہے۔ بلکہ یہ محض اردو کا معاملہ نہیں اس وقت دنیا کی تمام قابل ذکر نمایاں زبانوں میں سب سے زیادہ طبع آزمائی اسی صنف سخن پر ہورہی ہے۔ اردو شاعری سے ہائیکو اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ یہ مکمل پابند شاعری ہے اس میں سطروں یا مصرعوں کی تعداد متعین اور ہر ہر سطر یا مصرع میں مقطع لفظی (syllables) کی تعداد بھی متعین ہوتی ہے۔ یعنی سطروں یا مصرعوں کی طوالت بھی طے شدہ ہوتی ہے ان دونوں چیزوں سے انحراف کا مطلب ہائیکو کی حدود سے باہر نکلنا ہے۔ جبکہ اردو میں دونوں باتوں کی پابندی ایک ساتھ ہر جگہ نہیں ہے۔ دوسرا ہائیکو اردو شاعری سے اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ اس میں بحر کی پابندی نہیں ہے۔ کسی ہائیکو میں سطروں یا مصرعوں کا کسی طرح بھی بحر میں ہونا کوئی شرط نہیں ہے۔ ہائیکو کل تین سطروں یا مصرعوں پر مشتمل شاعری ہے جس کی پہلی سطر (مصرع) پانچ ، دوسری سطر (مصرع) سات اور تیسری سطر (مصرع) پھر پانچ مقطع لفظی (syllables) پر مشتمل ہوتی ہے، اور ان سب کا ایک بحر میں ہونا شرط نہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد امین 1971ء میں جاپانی حکومت کی ایم ای ایکس ٹی سکالرشپ پرجاپان گئے جہاں انہوں نے واسیڈایونیورسٹی سے سوشیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہاں انہیں ہائیکو سے باقاعدہ تعارف حاصل ہوا۔یہ 1980ء کی دہائی کا زمانہ تھا جب ڈاکٹر محمد امین نے ہائیکو کہنے کے لیے بحر خفیف مسدس استعمال کی اور مفرد الفاظ کی بجائے اضافت و ترکیب کا نظام بھی قبول کیا۔ ان کے اس تجربے کے بعد خیال کی رو کا موضوع کے ساتھ گہرا تعلق بن گیا، جس سے یہ صنف جاپانی اثر سے باہر آئی اور بالکل پاکستانی آہنگ کے ساتھ سامنے آ گئی۔ اب ڈاکٹر محمد امین کی کہی ہائیکو اتنی خوبصورت اور توانا تھی کہ اس کی گونج بڑے بڑے شعراء کرام تک پہنچ گئی۔ان کی کوشش اور تحریک سے ملتان اور پنجاب کے دیگر حصوں میں اس صنف کا رواج عام ہوا۔ڈاکٹر محمد امین نے اردو ہائیکو کا پہلا مجموعہ 1981ء میں مرتب کرکے شائع کیا جو اب نایاب ہے۔ اس کے بعد اردو مجموعہ ہائے کلام کا سلسلہ چل پڑا اور آج ان کی تعداد کم وبیش پچاس سے زائدہے۔ علاقائی زبانوں میں بھی ہائیکو کا چلن اتنا زیادہ ہے کہ ان میں آئے دن مجموعے شائع ہورہے ہیں۔جبکہ ڈاکٹر محمد امین کی غزل و نظم آج بھی معاصر شعراء میں ممتاز حیثیت رکھتی ہے، جس پر پاکستان میں جاپان کے سفیر تکاشی کورائے نے حکومت جاپان کی طرف سے ڈاکٹرمحمدامین کو ایوارڈ سے نوازا۔ اس پروقار تقریب میں ڈاکٹرمحمد امین کے دوستوں، اہل خانہ اورساتھیوں نے بھی شرکت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر امین کی علمی و ادبی کاوشوں نے جاپان کے علمی و ادبی حلقوں میں ملتان اور پاکستان کا نام روشن کیا ، ان کی شاندار ادبی خدمات پر اہل ملتان نازاں ہیں، اور حکومت جاپان کی جانب سے قومی اعزاز پانے پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  راحیل شریف سعودی عسکری اتحاد کے سربراہ، حکومت نے این او سی دے دیا