تازہ ترینکالم

آخر’’اردو ‘‘کو زباں مل ہی گئی۔۔۔ تاریخی فیصلہ

mriza rizwanآج پوری قوم انتہائی فخر اور خوشی محسوس کررہی ہے اور عدالت عظمیٰ کی تہہ دل سے مشکور ہے کہ انہوں نے ایک تاریخ ساز فیصلہ کرکے پاکستانیوں کے دل جیت لئے ہیں۔یعنی پاکستان کی پہنچان اور ہماری قومی زبان ’’اردو‘‘کو بھی زبان مل ہی گئی وہ بھی ’’سرکاری‘‘۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے عظیم جج جسٹس جواد ایس خواجہ جوکہ صرف 26روز کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز رہے اور جاتے جاتے انہوں نے دیگر اہم فیصلوں کے ساتھ ساتھ ایک اہم اور تاریخی فیصلہ بھی سنا دیا کہ جس پر وہ تاریخ میں اہم مقام پر جاپہنچے ، یقیناً ایک فیصلہ اور ایسا مخلص اقدام جو گذشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل نظراندازو تعطل کا شکار تھا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپنی رخصتی سے کچھ وقت قبل آرٹیکل 251کے تحت قومی زبان ’’اردو‘‘کے بلا تعطل عملی نفاذکے احکامات جاری کئے ۔جس کی رو سے پاکستان کے تمام سرکاری اداروں میں ’’اردو‘‘زبان رائج ہوجائیگی۔مقابلے سمیت دیگر تمام امتحانات ’’اردو‘‘زبان میں ہوسکیں گے۔ عدالت عظمیٰ نے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں اس کے فیصلے کی 9ہدایت وفاقی حکومت کو جاری کیں۔جبکہ درخواست گزارکوکب اقبال نے جسٹس جواد ایس خواجہ سے کہاکہ یہ فیصلہ آپ کا پوری قوم پر احسان ہے، اور اس فیصلے پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی روح بھی خوش ہوگی ۔فیصلہ میں یہ بھی کہاگیا کہ 3ماہ کے اندر اندرقومی قوانین کا قومی زبان ’’اردو‘‘میں ترجمہ کرلیا جائے۔عدالت عظمیٰ کی طرف جاری اس محب وطن فیصلے میں کہاگیا کہ آرٹیکل 251کے احکامات کو بلا غیر ضروری تاخیر فوری نافذکیا جائے ۔جو معیاد خود حکومت نے مقرر کی ہے اسکی ہر حال میں پابندی کی۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1973ء کا آئین جب معرض وجود آیا تو اس آئین میں یہ بھی طے پایا کہ ملک کی سرکار ی زبان ’’اردو‘‘ہوگی جو تقریباً 15روز تک قومی زبان ’’اردو‘‘کو مکمل طور پر سرکار ی و دفتری درجہ دیا جائے گا۔لیکن افسوس کا مقام کس درجہ بلند ہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے ’’اردو‘‘کو مسلسل نظرانداز کیا گیا اور انگلش چاہے ہماری فی میل فلم سٹارز کی طرح ہی بولی جائے مکمل سہارا لیا گیا ۔بہت ساری آئینی ترامیم ، نئے سے نئے قوانین معرض وجود میں آئے ۔نئی نویلی حکومتیں آئیں مگر کسی محب وطن حکمران کی توجہ اس نیک مقصد اور پاکستان کی پہنچان ’’اردو‘‘کی جانب مبذول نہ ہوئی۔جبکہ اس کے نفاذ کی اگر ماضی میں بھی ’’نیت ‘‘کرلی جاتی تو شاید اب تک سرکاری سطح پر رائج ہوچکی ہوتی۔
محترم قارئین ! خیر اب ہماری اس عظیم پہچان اور قومی زبان ’’اردو‘‘کو ’’سرکاری زبان‘‘مل ہی ہے چکی ہے تو ہماری موجودہ حکومت جو پاکستانی قوم کیلئے بہت سے دیرپا،اہم اور’’محب وطن‘‘خدمات سرانجام دینے میں شب وروز مصروف عمل ہے اور ان کے سارے اقدامات اور مثبت کارنامے تاریخی اہمیت کے عظیم ’’درجہ فضیلت‘‘ کو چھو رہے ہیں تو ’’محب وطن ‘‘حکمرانوں کیلئے قدرتی طور اس وقت ایک ’’گولڈن چانس‘‘ہے کہ وہ ہماری قومی زبان ’’اردو‘‘زبان کے نفاذ میں کسی تاخیر حربے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوری طور پر اپنا اہم اور محب وطن کردار ادا کرکے تاریخ پاکستان میں اپنے نام ’’سنہری حروف‘‘میں درج کروا کر قوم کے جذبات کی عکاس بنے اور ہمیشہ کیلئے عوام کے دلوں پر راج کرے۔اگر اب بھی عدالت عظمیٰ کے اس تاریخی فیصلے کو اپنی مصروفیات کے باعث ان حکمرانوں نے نظرانداز کردیا تو شاید ہماری آنیوالی نسلیں انہیں اچھے الفاظ میں یاد نہ کرے اور ہماری قومی زبان ’’اردو‘‘کو سرکاری سطح پر رائج نہ کرکے جو ناانصافی پاکستانی قوم کے ساتھ کی جائیگی شاید اسے کبھی فراموش نہ کیا جاسکے ۔یہ وقت تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت کا حامل ہے ، جس میں ملک وقوم کے وسیع ترمفاد اور ایک پرُامن و مستحکم پاکستان کیلئے بہت سارے فقیدالمثال فیصلے کئے جارہے ہیں وہاں عدالت عظمیٰ کے اس تاریخی فیصلے کا نفاذ بھی انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور اب اس کا نفاذبھی جلد از ہوجانا چاہیے تاکہ ہم اپنی قوم کو اسکی قومی زبان ’’اردو‘‘سونپتے ہوئے ملکی وقوم کی خدمت کا فریضہ ادا کرنے میں عملی معاونت کرسکیں۔اللہ رب العزت ہماری غلطیوں کوتاہیوں کو معاف فرماتے ہوئے ہمیں ملک وقوم کی وسیع ترمفاد میں عملی خدمت کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

یہ بھی پڑھیں  بلدیاتی انتخابات،پنجاب میں نامزدگی فارم کی چھپائی شروع

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker