پاکستانتازہ ترین

اوباما کا نگرانی پروگرام کے از سرِ نو جائزے کا عندیہ

obamaامریکہ(مانیٹرنگ سیل) امریکی صدر براک اوباما نے جاسوسی کے متعلق نئے انکشافات کے نتیجے میں یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ قومی سلامتی  یجنسی (این ایس اے) کے نگرانی پروگرام کا نئے طور پر جائزہ لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا ہے کہ این ایس اے کے ’نگرانی پروگرام کے متعلق انکشافات کی روشنی میں‘ اور عوام کے خدشات کے پیش نظر اس ادارے کی ’کارکردگی کو کم کرنے کے مزید طریقے ہو سکتے ہیں۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ این ایس اے کے سابق ملازم ایڈورڈ سنوڈن نے دستاویزات کو ظاہر کر کے ’غیرضروری نقصان‘ پہنچایا ہے۔ انھوں نے سنوڈن کو معافی دیے جانے یا نہ دیے جانے کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا۔ واضح رہے کہ رواں سال مئی کے آخر میں ایڈورڈ سنوڈن خفیہ معلومات کا بڑا ذخیرہ لے کر امریکہ سے فرار ہو گئے تھے۔ امریکہ میں ان پر جاسوسی کا الزام ہے لیکن روس میں انھیں عارضی پناہ ملی ہوئی ہے۔ براک اوباما نے یہ تبصرے وائٹ ہاؤس کے سال کی اختتامی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیے۔ خیال رہے کہ اسی ہفتے امریکہ میں ایک وفاقی جج نے وسیع پیمانے پر ٹیلی فون کالز کی نگرانی کے عمل کو آئین کے خلاف قرار دیا تھا جبکہ صدر کے مشیروں کی ایک کمیٹی نے اس بابت اصلاحات کی تجاویز پیش کی تھیں۔ جج اور صلاح کار کمیٹی دونوں نے کہا تھا کہ اس پروگرام کے تحت کسی بھی دہشت گردی کی کاروائی کو ناکام بنانے کے شواہد نہیں ہیں۔ براک اوباما نے کہا: ’اس کام کو (نگرانی) کرنے کے بہت سے دوسرے مؤثر طریقے ہیں جس سے عوام کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ (ادارے پر) لگام ہے اور معقول نگرانی اور معقول شفافیت ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’وسیع پیمانے پر ٹیلی فون ریکارڈز کے پروگرام کو نئے انداز سے ترتیب دیا جا سکتا ہے تاکہ جب آپ کو اس کی ضرورت ہو تو وہ آپ کو بغیر کسی خلاف ورزی کے دستیاب ہوں۔‘امریکی صدر نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی صلاح کار کمیٹی کی سفارشات پر وہ جنوری میں وہ ’فیصلہ کن بیان‘ دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ این ایس اے ملکی سطح پر جاسوسی اور ذاتی معاملوں میں تاک جھانک میں شامل نہیں ہے۔ عوام کو مزید اعتماد فراہم کرنے کے لیے ہمیں اسے مزید بہتر بنانا ہے۔ اور میں اس کام کے لیے سخت محنت کرنے جا رہا ہوں۔‘ سنوڈن کو ممکنہ طور پر معافی دیے جانے کے بارے میں اوباما نے کہا: ’یہ معاملہ میں عدالت اور سرکاری وکیلوں پر چھوڑتا ہوں کہ وہ سنوڈن کے معاملے کی جانچ کریں۔‘ واضح رہے کہ جمعہ کو دا گارڈیئن، نیویارک ٹائمز اور دیر شپیگل نے امریکہ اور برطانیہ کے ذریعے عوام اور اداروں کی نگرانی کے مزید دستاویزات  شائع کیے۔ یہ انکشافات بھی ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے آئے ہیں۔ اخبار میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 1000 اہداف میں یورپی یونین کے کمشنر، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ایک وزیراعظم سمیت اسرائيلی حکام شامل ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے این ایس اے اور برطانیہ کے جی سی ایچ کیو کے نشانے پر 60 سے زائد ممالک رہے ہیں۔ یورپی کمیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر یہ انکشافات صحیح ہیں تو ’یہ سخت ترین تنقید کے لائق ہیں۔ یہ ایسے سلوک ہیں جن کی ہمیں اپنے سٹریٹیجک پارٹنروں سے امید نہیں چہ جائے کہ یہ ہمارے اپنے ہی رکن ممالک کی جانب سے روا رکھے جائیں۔‘ یاد رہے کہ اکتوبر میں جب یہ خبر آئی تھی کہ این ایس اے نے جرمنی کی چانسلر اینگیلا میرکل کے فون کی نگرانی کی تھی تو اس بات پر برلن اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔ برازیل کی صدر ڈیلما روزیف نے بھی برازیل کی سرکاری تیل کمپنی کے کمپیوٹر ہیک کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

 

 

 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button