تازہ ترینصابرمغلکالم

پاکستان دفاعی میدان میں خود کفیل امریکہ سمیت بیرونی انحصار پر نمایاں کمی

پاکستان نے حال ہی میں مقامی طور پر تیار ہونے والے بابر کروز میزائل کی رینج میں اضافہ کر کے اس کا کامیاب تجربہ کیا ہے آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ایرو ڈائنا میکس اور ایوونکس کا شاہکار یہ میزائل بابر ویپن سسٹم ون بی 700کلومیٹر فاصلے تک زمین اور سمندر میں جی پی ایس سسٹم اور نیوی گیشن کی غیر موجودگی میں بھی اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ،یہ میزائل پہلی بار2005میں بنایا گیا تھا جس میں کئی طرح کی تبدیلیاں کر کے اسے جدید ترین بنا دیا گیا کئی خصوصیات کا حامل یہ میزائل انتہائی کم اونچائی پر پرواز کرنے والا اسٹینلے خصوصیات کا بھی حامل ہے جو مختلف اقسام کے دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،29مارچ کو سب میرین کروز میزائل بابر کا بھی کامیاب تجربہ کیا گیا تھا زیر سمندر آبدوزسے فائر کئے جانے والے اس میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا تھایہ زیر آب پروپلشن کے ساتھ جدید ترین گائیڈنس اور نیوی گیشن کی صلاحیت کا حامل ہے 5مارچ کو پاک بحریہ کی مشقوں رباط کے دوران پاک بحریہ اور پاک فضائی کی جانب سے لانگ رینج اینٹی شپ میزائل کی فائرنگ کا کامیاب تجربہ کیا گیا یہ میزائل جے ایف17۔تھنڈر ائیر کرافٹ اور بحریہ کے 22P۔Fفریگیٹ پی این ایس سیف سے فائر کئے گئے،پی این ایس سیف نے سطع سمندر پرمار کرنے والا میزایل 802۔Cجبکہ جے ایف 17تھنڈر نے ہوا سے سطع سمندر پر مار کرنے والا میزائل 802AK۔Cفائر کیا،پاکستان گذشتہ ایک عرصہ سے جدید ترین بیلسٹک میزائلوں،اواکس طیاروں،براق نامی ڈرونز،میزائل لانچرز،ریڈراز،بحری فریگیٹ ،الخالد ٹینک اور جے ایف17تھنڈر ائیر کرافٹ کے علاوہ مزید کئی ایسے جدید ترین ٹیکنالوجی کے شاہکاروں پر دن رات کام جاری ہے ،جاپانی انگلش اخبار فائنینشل ٹائمز کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی ہتھیاروں پر پاکستان کا بڑی حد تک انحصارکم ہو گیا ہے،اس انحصار میں کمی کا آغاز اس وقت ہواجب اوباما انتظامیہ کے دور میں کانگرس نے پاکستان کو ایف .۔16طیاروں کی فراہمی روک دی تھی،اس فیصلے کے بعد پاکستان میں امریکی رویہ کے تناظر میں دیکھا گیا کہ اب امریکہ پر انحصار نہیں کیا جا سکتا وہ ایک ناقابل اعتبار دوست ہے ،پاکستان نے ایف 16 کی بجائے چین کے اشتراک سے تیار ہونے والے جے ایف17 ۔تھنڈرکی جانب پوری توجی مبذول کر لی جو اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے امریکی ساختہ طیارے کے ہم پلہ تھا،امریکی پابندیوں نے پاکستان کو مجبور کر دیا کہ اپنی فوجی طاقت کو امریکی ہتھیاروں سے دور کرتے ہوئے چین کے ہتھیاروں یا ملکی سطع پر چین کے اشتراک سے بنائے گئے ہتھیاروں پر انحصار کرے،اس رپورٹ میں اسٹاکلم انٹرنیشنل بیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اعداد وشمار کا حوالہ دیا گیا جن کے مطابق 2010سے پاکستان میں امریکی ہتھیاروں کی برآمدات ایک ارب ڈالر سالانہ سے کم ہو کر 2کروڑ 10لاکھ تک آ گئی دوسری جانب چینی ہتھیاروں کی برآمدات میں بھی کمی واقع ہوئی جو 74کروڑ 70لاکھ ڈالر سے کم ہو کر 51کروڑ 40ڈالر کی سطع تک پہنچ چکی ہیں یہ اعدادو شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان زیادہ تر ہتھیار خود ہی تیار کر رہا ہے،ان اعدادو شمار کے مطابق چین کو پاکستان کے لئے سب سے بڑا ہتھیاروں کا برآمد کنندہ بناتے ہیں،نئی دہلی ،واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان ہونے والی قربت میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کے لئے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا جو2011میں القاعدہ رہنماء اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد مزید بڑھ گئے اسی واقعہ نے اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات کو مزید خراب کیا،پاک امریکا تعلقات کو اس شدید جھٹکا لگا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس جنوری میں پاکستان کی 2ارب ڈالر کی امداد پر پابندی عائد کر دی ان میں ایک ارب ڈالر فوجی سازو سامان اورایک ارب ڈالر افغانستان میں امریکہ اور نیٹو افواج کی ترسیل پر خرچ ہوتے تھے،اس امریکی اقدام کے حوالے سے واشنگٹن کا ماننا ہے کہ اسلام آباد اب افغانستان میں امریکا کی حمایت میں اتنا ذمہ دار نہیں جتنا پہلے تھا،سیاسی تجزیہ کار ہیرسن ایکننسن نے فائننشل ٹائمز کو بتایا کہ ٹرپب کے فیصلے نے پاکستان کو بیجنگ کی جانب مزید دھکیل دیا ہے پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے چین سے اسلحہ خرید رہا ہے جس کا آغاز 1965میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد امریکہ کی جانب سے ہتھیاروں کی پاکستان کو فروخت پر پابندی سے ہوا یہی وہ پابندی تھی جس نے پاکستان کو سوچنے پر مجبور کیا اور اس نے چین سے ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ کر دیا،چین نے 1980اور1990کی دہائیوں میں پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کے لئے سامان اور تکنیکی صلاحیت فراہم کی،اس کے علاوہ1990میں ہی چین نے پاکستان کو30سے زائد 11۔Mبیلسٹک میزائلوں کو فروخت کر کے امریکہ سمیت سب کو چونکا دیا،دفاعی تجزیہ نگار جان گریویٹ کے مطابقگذشتہ دہائی میں چین نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو وسیع پیمانے تک برھا دیا ہے،ان کے مطاب چین نے پاکستان کو 2010کے بعد سے اب تک100راکٹ لاؤنچراور ایچ کیو،16ائر ڈیفنس سسٹم ،CTٹینک بھی فراہم کئے جن کے تجربات اب بھی پاکستان میں جاری ہیں ان میں جے ایف17۔تھنڈر اور مزید ایسے ہتھیاروں کا ذکر کیا گیا جو چین کی نئی صلاحیتوں کے ضامن ہیں جن سے جنوبی ایشیا میں چین نے امریکی اثرو رسوخ کے لئے خطرہ کھڑا کر دیا،جے ایف 17۔تھنڈر جس کی قیمت امریکی ایف۔16سے انتہائی کم ہے جس کا ڈیزائن بھی چین نے پاکستان کو فراہم کر دیا جس کے بعد پاکستان ان ہتھیاروں کو نہ صرف تیار کر رہا ہے بلکہ ان کی فروخت کا بھی آغازکر چکا ہے،پاکستان کی طرف سے براق نامی ڈرون طیارہ جو پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے چینی ڈرون سے مکمل مشابہت رکھتا ہے، وہ8آبدوزیں شامل بھی ہیں جو امریکی ایف سولہ کی فروخت کی منسوخی کے بعد 5ارب ڈالر میں چین نے پاکستان کو فروخت کیں،ہتھیاروں کی یہ ڈیل پاکستانی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی ڈیل تھی،8اپریل 2017کو چین کی شراکت سے بننے والے جے ایف 17۔تھنڈرطیارے نے اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز کی تھی،اس طیارے کی کامیاب آزمائش کو خود انحصاری کی جانب قومی سطع پر ایک قدم قرار دیا گیا،(جے ایف تھنڈرکم وزن ملٹی رول طیارہ ہے جو کہ اپنی آواز سے بھی دوگنا رفتار سے 35ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ان کی قیمت ایف سولہ سے16/18کروڑ ڈالر کم ہے فضا میں ری فیولنگ،ڈیٹا لنک،توسیعی الیکٹرانک وار فیئراور زیادہ سے زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت کا حامل ہے ،جے ایف17 ۔تھنڈر کی بڑی تعداد اس وقت پاک فضائیہ میں شامل کی جا چکی ہے،4 اکتوبر2017کو سابق امریکی سینیٹر ری پریسلز نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کو ایف16دینے کا معاہدہ کروانے کے لئے جس فرم(پوڈیسٹاگروپ) نے لابنگ کی تھی اسی نے تجویز شدہ فروخت رکوانے کے لئے طیارہ ساز کمپنی کے سامنے بھارت کی وکالت کی تھی اس فرم نے یہ معاہدہ ختم کرانے کے لئے ہندوستان سے 7لاکھ امریکی ڈالر وصول کئے تھے،پاکستان اور چین تقریباً60سال سے انتہائی قریبی تعلقات کے حامل ہیں جن کے درمیان کبھی مسائل نے جنم نہیں لیا،ان ممالک کے اسٹریٹجیک مفادات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں،اب امریکہ چین اور روس کے سہ فریقی مقابلوں کی وجہ سے جنوبی ایشیا میں طاقتوں کا توازن بگڑ رہا ہے،بڑی قوتوں کے ساتھ علاقائی تعلقات تشکیل پا رہے ہیں ،امریکہ انڈیا اور چین پاکستان کے ساتھ،امریکہ ہر محاذ پر پاکستان پر بھرپور دباؤ ڈال رہا ہے جن میں کشمیری حریت پسند رہنماؤں کے خلاف ایکشن اور ایٹمی میزائل پروگرام کو محدود کرنے پر زور ،امریکہ کو اس بات سے غرض نہیں کہ بھارت اس وقت دنیا بھر میں اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور پاکستان کے خلاف نہ صرف دہشت گردی کراتا ہے بلکہ دہشت گردوں کی مالی معاونت بھی جاری رکھے ہوئے ہے،بھارت اس وقت امریکہ،روس،اسرائیل،سپین،برطانیہ ،جنوبی افریقہ اور فرانس سے اسلحہ خریدنے میں پیش پیش ہے فرانس نے پاکستان کوآبسوزیں دینے سے انکار کر دیا بلکہ بھارت کو اس نے دی ہیں،،عالمی معاملات کی وجہ سے چین امریکہ کے سامنے اتحاد کھڑا کرنا چاہتا ہے اس نے پڑوسیوں،کمبوڈیا،لاؤس،میانماریہاں تک کہ فلپائن کے ساتھ بھی جس سے اس کے بحری تنازعات چل رہے ہیں جاپان بارے بھی اس کا رویہ نرم ہو چکا ہے،ٹرمپ انتظامیہ نظریاتی طور پر چین کو اقتصادی ،سیاسی و عسکری طور پر محدود اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے، امریکہ پاکستان کا دوست نہیں وہ مطلب اور مفاد پرست ملک ہے جس نے دہشت گردی کے بھنور میں ڈوبے پاکستان کی قربانیوں کو کبھی نہیں سراہا یہ تو مقام شکر ہے کہ پاک فوج نے وطن سے دہشت گردی کے عفریت کو اکھاڑ پھینکا ہے،امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ بے یقینی کی فضا کو پروان چڑھایا،مقام شکر ہے کہ اب عالمی سطع پر اس بات کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ پاکستان محدود تر وسائل کے باوجود پاک فوج کی بدولت دوسروں پر انحصار کو بڑی کامیابی سے بڑی حد تک ختم کر چکا ہے اور وہ دشمن جو ہر سال اربوں روپے جدید ہتھیاروں کی خرید میں جھونک رہا ہے اس سمیت امریکہ،اسرائیل جیسے دشمنوں کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں،پاکستان زندہ باد۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker