پاکستان

نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن کی یمنی بیوہ 9 ماہ تک کراچی میں رہی، مشترکہ تفتیشی ٹیم کا انکشاف

اسلام آباد ﴿بیورو رپورٹ﴾ القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کی بیوہ امل احمد عبدالفتح نے سول اور فوجی اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبرو پوچھ گچھ کے دوران انکشاف کیا ہے کہ اسامہ بن لادن افغانستان اور بالخصوص تورا بورا کے پہاڑی علاقے پر امریکی بمباری کے باعث 2002ئ میں پاکستان گئے تھے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کی پاکستان آمد اور ایبٹ آباد میں سکونت سے متعلق بتاتے ہوئے اسامہ بن لادن کی بیوہ امل نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ نائن الیون واقعہ کے بعد وہ دوبارہ اپنے شوہر سے 2002ئ میں پشاور میں ملیں جہاں سے وہ سوات چلے گئے اور وہاں وہ نو ماہ تک رہے۔ بعدازاں وہ دو سال تک ہری پور میں رہے۔ بعدازاں وہ ایبٹ آباد چلے گئے جہاں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی کمانڈوز نے حملہ کیا۔ اسامہ بن لادن کی بیوہ نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ آیا کوئی اعلیٰ سرکاری اہلکار ان کے رابطے میں تھا۔ 29 سالہ یمنی امل کا کہنا ہے کہ اس نے اسامہ بن لادن کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور اسامہ بن لادن کی جانب سے شادی کا پیغام آنے پر وہ 17 جولائی 2000ئ کو کراچی ہوائی اڈے پر اتریں۔ تین ماہ تک ان کے ویزے کی میعاد تھی۔ تب تک وہ کراچی میں رہیںبعدازاں وہ قندھار چلی گئیں۔ امل نے بتایا کہ ان کی اسامہ بن لادن سے شادی نائن الیون کے واقعہ سے قبل ہوئی تھی۔ تاہم انہوں نے تاریخ نہ بتائی۔ اسامہ بن لادن امل سمیت 3 ازواج کے ساتھ رہتے تھے۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد شیرازہ بکھر گیا اور وہ کراچی چلی گئیں جہاں ایک پاکستانی فیملی نے ان کے لئے تمام انتظامات کئے اور اسامہ بن لادن کا بڑا بیٹا سعد ان سے رابطے میں رہتا تھا۔ امل نے کہا کہ کراچی میں قیام کے دوران انہوں نے 6یا 7 بار اپنی رہائش تبدیل کی۔ امل کی بڑی بیٹی صفیہ 2001ئ میں کراچی میں پیدا ہوئی۔ آسیہ اور ابراہیم نے ہری پور کے ایک سرکاری ہسپتال میں جنم لیا اور زینب اور حسین ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کے خاندان کے ساتھ دو پاکستانی شہریوں ابراہیم اور ابرار کی فیملی رہتی تھی۔ تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ دونوں پاکستانی شہریوں نے سرگودھا سے جعلی شناختی کارڈ بنوائے ہوئے تھے۔ تاہم ان سے متعلق مزید تحقیقات نہ ہو سکی ہیں کیونکہ دونوں امریکی حملے کے دوران مارے گئے تھے۔ رپورٹ سے یہ واضح نہ ہوا کہ آیا پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے خفیہ ادارے آگاہ تھے یا نہیں۔ اسامہ بن لادن کی فیملی کے خلاف فارنرز ایکٹ کے تحت مقدمات کی سماعت جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker