تازہ ترینرفاقت حسینکالم

مقبو ضہ وادی میں امن کو ن قا ئم کر ے گا۔۔۔؟

روئے زمین پر ایک ٹکڑ ا جسے کچھ لوگ جنت بھی کہتے ہیں،ہمیشہ سے ہی مردم خیز خطہ رہا ہے لیکن اف کہ یہاں کشمیری عوام صدیو ں سے سے ماتم کناں ہیں ۔ گزشتہ ساڑھے چھ دہا یو ں سے یہاں تصفیہ طلب سیا سی مسئلے کے چلتے ہلاکتوں، ما ل کے اتلاف، عزت وآ برو کی بے حرمتی ،عصمت ریزیوں کے جگر سوز واقعات، باپ، بھا ئی ،بیٹے ، خا وندیا کسی دوسرے عزیز کی زیر حرا ست کی گمشدگی کا نا قابل مندمل زخم، یتیموں، بیواوں اور نیم بیواوں کا طو فان۔ایسا لگتا ہے کہ یہاں بس مظلومیت ہی مظلو میت کا پہرہ ہے ہر گلی نکڑ پر اورہر گاوں، قصبہ اور شہر میں۔ عصری تاریخ کے یہ المیے صاف طور بتاتے ہیں کہ انسانی حقوق کے آ ینہ میں یہ خطہ زمین جہنم زار ہے۔ ایسے میں اگر دنیا ہیو من رائٹس ڈے کی یاد گاری تقاریب منا کر اکرامِ و دمیت کا پیغام عام کر یں مگر ہم کشمیری اس موقع کی منا سبت سے ماتم کریں یا خوشی منائیں۔
عالمی سطح پر یو م حقوق البشر کو ہر نئی برس کر وفر اورشان وشوکت سے ساتھ منایا جاتا ہے۔ چنا نچہ اس حوالے سے جا گرتی بڑ ھا نے کے لئے ایک طرف عالمی سطح پر بنی نوعِ انسان کو اپنے حقوق اور اختیارات کی تعلیم دی جارہی ہے تو دوسری جانب دنیا کے بیشتر ایسے خطے ہیں جہاں انسانی حقوق اور ان حقوق سے متعلق قوانین کی کو ئی پاسداری نہیں کی جاتی ۔اکثر و بیشتر اپنے دکھ درد کو اجا گر کر نے کے ضمن میں اس روزایسے ممالک اور قومیں دسمبر کے روز بے چارگی کا احتجاج کرتے ہیں۔ کشمیر بھی دنیا کے انہیں بدنصیب خطوں میں سے ایک ہے ۔ یہاں یومِ حقوق البشر کے روز تکا لیف اور غموں کی گو یا با رات نکلتی ہے جو دنیا جہا ں پر باور کرا تی ہے کہ یہاں کے بے نوا لو گو ں کے سینوں میں کتنی ان کہی داستا نیں مدفو ن ہیں ، یہا ں کتنے لو گو ں کی آ ہیں اور آ نسو جذ با ت کے نگا ر خا نے میں مقید ہیں ، یہاں کتنی جو انیا ں سلا خوں کے پیچھے سڑ رہی ہیں ، یہاں کتنے لوگ اپنے عزیزوں کی بے گور وکفن لا شیں ڈھونڈ رہے ہیں ، یہاں کے نو جو انوں کی چیخ وپکار سے انٹرا گیشن مراکز کے د رودیوار کس طرح لرز رہے ہیں ، یہاں کس طرح بڑ ی بے فکر ی کے ساتھ کسی حقیقی یا فرضی جھڑ پ میں فورسز بے قصور لوگوں کو جرم بے گنا ہی کی سزا کے طور ان کے گھر بار کو جلا کر خا کستر کر دیتے ہیں ۔غرض ہر اس ظلم اور المیے کی بات لب ہا ئے اظہار پر آہ وزاری کی صورت اختیار کر تی ہے جن سے گزشتہ با ئیس سال طویل تاریخ خاص طور داغ داغ بنی ہو ئی ہے ۔ عوام اِس روز بھی ہڑ تا ل کر کے اسی داستان کو اظہار کی زبان عطا کر تے ہیں ۔ اس سال بھی دس دسمبر کے روز وادی کے طول وعرض میں بے مثال بند منا کر لو گو ں نے اسی ورایت کی آ بیا ری کی اور اگلے سال بھی چند نئی کہا نیا ں اور نئے المیو ں کے ساتھ کشمیری عوام نا لہ وفر یا د کر رہے ہو ں گے ۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک اصل سیا سی مسئلہ حل نہیں ہو تا اور احترامِ آ دمیت کا مکمل لح اظ نہیں رکھا جا تا ۔
اس سال کشمیر میں دسمبر کو انٹر نیشنل ہیو من روئٹس ڈے کے مو قع پر جہا ں عام کشمیری نا لہ زن تھا کہ یہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں برا بر شد ومو سے جا ری ہیں کہ کم سن بچو ں تک کو جیلوں میں ٹھو نس خود اپنے وضع کر دہ قوانین کی پا ما لی کی جا تی ہے ، وہا ں اس اب بت بھی خاصا غم وغصہ پا یاجا تا ہے کہ جن کشمیری نوجوانوں کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں ان کی تعداد اب تقریبا دو درجن سے تجا وز کر گئی ہے ۔ اِن قیدیوں میں اورو ں کے علاوہ کشمیر کے ایک مزاحمتی لیڈر اور عالم دین ڈاکٹر محمد قاسم فکتو بھی شامل ہیں۔ کشمیر کاز ککی وکا لت کر نے کے جرم میں موصوف سمیت کئی نوجوانوں نے اور برس کی عمر قید کی سزا مکمل طور پر کاٹ لی ہے لیکن حال ہی میں ریاستی عدالت عالیہ نے ڈاکٹر محمد قاسم کے کیس میں یہ فیصلہ سنایا ہے کہ عمر قید کا مطلب تمام عمر (یعنی تا مرگ )قید و بند میں رہناہے۔۔ الغرض کشمیر ی من حیثث القو م یہ یقین رکھتے ہیں کہ سیاسی قیدیوں کو اتنی سخت سزائیں سنا نا گویا پوری قوم کو اجتما عی تعذ یب سے پسپا کرنا، ان کو جا ئز سیا سی حقوق سے کنا رہ کش ہو نے کا پیغام دینے کے مترادف ہے۔ ادھرڈاکٹر محمد قاسم فکتو کا گھرانہ انتہائی مشکل حالات کا ستایا ہوا ہے۔آپ خواتین تنظیم دخترانِ ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کے شوہر ہیں، جن کو خود بھی سلاخوں کے پیچھے کئی بار رہنا پڑا ہے۔ڈاکٹرقاسم خود ایک سیاسی، سماجی اور علمی شخصیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے قید و بند کی صعوبتوں کے باوجود کئی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ حتی کہ جیل کے اندر ان کے تعمیری، تعلیمی اور اصلاحی خدمات کے عوض جیل حکام نے انہیں جیل کے اندر بہ حیثیت قیدی بہترین کردار کی سند سے بھی نوازا ہے۔ انسانی حقوق کا تقاجا یہی ہے کہ ظلم وضب کی ہرط شکل میں بیخ کنی کی جا ئے تا کہ دائمی امن کا قیا م ممکن بنے ۔

یہ بھی پڑھیں  نوجوانوں کمر باندھ لو:(ساتواں حصہ)

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker