تازہ ترینکالم

ویلنٹائنز ڈے کی تاریخ اور حقیقت

sajid habibدوسال قبل انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو دیکھی تھی۔ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے آج اچانک مجھے وہ ویڈیو یاد آگئی۔ ویڈیو کا تعلق بھارت سے ہے۔ اس ویڈیو میں ہوتا یہ ہے کہ ایک لڑکا اپنے دوست سے کہتا ہے کہ یار میری نئی گرل فرینڈ بڑی کمال ہے اور دوسرا دوست اس سے نمبر مانگ لیتا ہے۔ پہلے والا فوراً اسے نمبر دے دیتا ہے اور کہتا ہے تو بھی اس کو سیٹ کراور انجوائے کر۔ دوسرا دوست نمبر لے کر چلا جاتا ہے۔ گھر پہنچ کر وہ اس لڑکی کو میسج کرتا ہے اور بات چیت شروع ہوجاتی ہے۔انکی دوستی ہو جاتی ہے اور لڑکا ملاقات کے لئے وقت مانگنے لگتا ہے۔ لڑکی لڑکے کو ایک انٹرنیٹ کیفے پر ملنے کا ایڈریس دیتی ہے اور اسے 3 بجے انٹرنیٹ کلب پہنچنے کا کہتی ہے۔ لڑکی نے پہلے لڑکے کو بھی اسی انٹرنیٹ کلب پر 12 بجے کا ٹائم دیا ہوتا ہے اور سوچ رکھا ہوتا ہے کہ 2 بجے تک پہلے والے سے ملاقات کروں گی اور تین بجے دوسرے والے سے مل لوں گی۔ لڑکے اس معاملے میں بڑے بے صبرے اور جلد باز ہوتے ہیں۔ دوسرا لڑکا مقررہ وقت سے پہلے ہی یعنی تین کی بجائے دو بجے انٹرنیٹ کیفے پہنچ جاتا ہے۔ پہلے والا لڑکا ابھی انٹرنیٹ کیفے کے بند کیبن میں لڑکی کے ساتھ بے ہودگی میں مصروف ہوتا ہے۔ اسی لمحے دوسرا لڑکا اس کیبن کا دروازہ کھولتا ہے اور سامنے جو منظر دیکھتا ہے اس سے اسکی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتیں ہیں۔ سامنے کیبن میں جو لڑکی اسکے دوست کے ساتھ رومینس کر رہی ہوتی ہے وہ اسکی سگی بہن ہوتی ہے۔ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے نوجوانوں کو سمجھانے کے لئے یہ ایک بہترین پیغام تھا۔ اگر کوئی کسی کے گھر کی عزت کے ساتھ ویلنٹائن ڈے منانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تو یقیناًکوئی اسکی بہن بیٹی کے ساتھ بھی یہی منصوبہ بندی کر رہو گا۔ یہ ایک کائناتی اصول ہے عزت دینے سے ملتی ہے۔ کسی کا بھلا سوچنے سے اپنا بھلا ہوتا ہے۔ آج پورے ملک میں نوجوان 14 فروری کو محبت کے دن کے طور پر منانے کے لئے تیاریاں کر رہے ہیں۔ لیکن اس دن کی حقیقت کے متعلق بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اصل میں اس دن کا محبت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس دن کی تاریخ کے حوالے سے مختلف کہانیاں گردش کرتی ہیں۔ کونسی سچی ہے اور کونسی جھوٹی اس بات کی تصدیق کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ لیکن ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگرچہ مشرقی اور مغربی تہذیبوں میں بہت سی تبدیلیاں آ گئی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اس دن کی بے حیائی مذہبی تعلیمات اور اخلاقیات کے خلاف ہیں۔ عیسائی پادری بھی ویلنٹائن ڈے کو بے حیائی اور مذہبی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہیں اور اسلام کا تھوڑا بہت شعور رکھنے والے بھی۔ لیکن اس کے باوجود بھی نفسانی خواہشات کے پجاری اور نام نہاد روشن خیالی کا نعرہ لگانے والے لوگ اس دن کو منانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اب ذرا اس دن کی تاریخ کے متعلق مختلف قصے کہانیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں ویلنٹائن نام کے ایک پادری تھے جو ایک راہبہ (Nun) کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوئے ۔ چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کے لئے نکاح ممنوع تھا۔ اس لئے ایک دن ویلن ٹائن صاحب نے اپنی معشوقہ کی تشفی کے لئے اسے بتایا کہ اسے خواب میں بتایا گیا ہے کہ14 فروری کا دن ایسا ہے کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔ راہبہ نے ان پر یقین کیا اور دونوں جوشِ عشق میں یہ سب کچھ کر گزرے ۔ کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اُڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا ہے یعنی انہیں قتل کردیا گیا۔ بعد میں کچھ منچلوں نے ویلن ٹائن صاحب کو146شہیدِ محبت145 کے درجہ پر فائز کرتے ہوئے ان کی یادمیں دن منانا شروع کردیا۔ اس کے علاوہ ویلنٹائن ڈے سے متعلق درج ذیل کہانیاں اور روایات پائی جاتی ہیں :۔
(1) تقریبا 1700 سال پہلے جب روم میں بہت سے رب مانے جاتے تھے بہت سے معبودوں کی عبادت کی جاتی تھی ، بارش والا معبود الگ ، روشنی والا الگ ، اندھیرے والا الگ ، محبت والا الگ ، نفرت والا الگ ، طاقت والا الگ ، کمزوری والا الگ ، کفر و شرک کا ایک لامتناہی سللسہ تھا ، ایسے میں رومیوں کے ایک مذہبی راہنما ” ویلنٹائن ” نے عیسائت قبول کر لی ، پس حکومت روم کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی حل نہ تھا کہ اس کو قتل کر دیا جاتا تا کہ ان کے آباو ا جداد کا اور حکومتی دین محفوظ رہے ، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب روم میں عیسائیت عام ہو گئی تو لوگوں نے ” ویلنٹائن” کے قتل کا دن ” منانا” شروع کیا ، تا کہ اس کو یاد رکھا جائے اور اس کے قتل پر ندامت کا اظہار کیا جائے
(2) 14 فروری رومیوں کی ایک مقدس معبودہ ” یونو یا جونو ” کا دن تھا ، اس معبودہ کے بارے میں رومیوں کا عقیدہ تھا کہ وہ ان کے سب معبودوں کی ملکہ ہے اور اس کو عورتوں اور شادی کے معاملات کے لیے خاص سمجھا جاتا تھا ، پس اسی کفریہ عقیدے کی بنا پر اس معبودہ کا دن منانا عورتوں ، محبت اور شادی یا بغیر شادی کے ہی شادی والے تعلقات بنانے کے لیے خاص جان کرمنایا جانے لگا ۔
(3) رومیوں کی ایک اور معبودہ ” لیسیوس” نامی بھی تھی ، جو ایک مونث بھیڑیا تھی ، رومیوں کا عقیدہ تھا کہ اس ” لیسیوس ” نے روم کے دونوں بانیوں Rumulusاور Remusکو ان کے بچپن میں دودھ پلایا تھااور انہوں نے ” محبت ” نامی عبادت گاہ میں اس بھیڑیا معبودہ کا دن منانا شروع کیا ، اس عبادت گاہ کو” محبت ” نام اس لیے دیا گیا کہ ان کے کفریہ عقیدے کے مطابق ان کی یہ بھڑیا معبودہ روم بنانے والے دونوں بچوں کو محبت کرتی تھی۔
(4) قدیم رومی بادشاہ کلاڈیس 2 نے رومی مردوں کی مطلوبہ تعداد کو اپنی فوج میں شامل کرنے میں کافی مشکلات محسوس کیں ، کلاڈیس نے جب اس کا سبب تلاش کرنا چاہا تو پتہ چلا کہ شادی شدہ مرد اپنی بیویوں اور خاندانوں کو چھوڑ کر فوج میں شامل نہیں ہونا چاہتے تو کلاڈیس نے یہ شادیوں سے ممانعت کا فیصلہ صادر کر دیا ، اسوقت کے روم کے ایک بڑے پادری” ویلنٹائن ” نے اپنے بادشاہ کی بات کو غلط جانتے ہوئے اس کی خلاف ورزی کی اور اپنے گرجا میں خفیہ طور پر محبت کرنے والے جوڑوں کی شادیاں کرواتا رہا کچھ عرصہ بعد یہ بات بادشاہ کو معلوم ہو گئی تو اس نے بتاریخ 14 ، فروری ، 269عیسوئی ویلنٹائن کو قتل کروا دیا ، اور یوں یہ ویلنٹائن محبت کرنے کروانے کے سلسلے میں ایک مثالی شخصیت بن گیا ۔
(5) قتل کیے جانے سے پہلے ویلنٹائن اور اس کے ایک اور ساتھی پادری ماریوس کو جیل میں قید رکھا گیا ، اس قید کے دوران ویلنٹائن ایک لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو گیا ، جو غالباً جیلر کی بیٹی تھی ، جو اس کو قتل والے دن یعنی 14 فروری کو دیکھنے یا ملنے آئی تو ویلنٹائن نے اسے ایک محبت نامہ دیا ۔
(6) قدیم روم میں جوان لڑکے اور لڑکیوں کی ملاقات اور میل جول پر سخت پابندی تھی ، سوائے ایک میلے یا عید کے موقع پر جسے ” Lupercalia لیوپیرکالیا”کہا جاتا تھا ،یہ عید بھی ایک جھوٹے باطل معبود” Lupercus لیوپرکاس ” کی تعظیم کے لیے منائی جاتی تھی جسے رومی اپنے چرواہوں اور جانوروں کی حفاظت اور مدد کرنے والا سمجھتے تھے ،اس دن جوان لڑکیاں اپنے نام کی پرچیاں بوتلوں میں ڈال کر رکھ دیتیں اور مرد یا لڑکے ان پرچیوں کو نکالتے جس کے ہاتھ جس کے نام کی پرچی لگتی ان کو ایک سال تک یعنی اگلی عید Lupercalia تک ایک دوسرے کے ساتھ تعلق استوار کرنے کی عام چھٹی ہو جاتی کبھی وہ جوڑا شادی کر لیتا اور کبھی بغیر شادی کے ہی سال بھر یا سال سے کم کسی مدت تک میاں بیوی جیسے تعلق کے ساتھ رہتا .اس میلے یا عید کی تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فروری تھی ، اور یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ سے فروری تک یہ عید منائی جاتی رہتی تھی ۔ ویلنٹائن کی موت کی یادگار منانے کی تاریخ اسی میلے کے ساتھ جا ملی اور دونوں کی کہانیاں اور گناہ مل کر ایک دن منائے جانے لگے اور نام بدنام کیا جانے لگا محبت کا ، جو ایک مثبت جذبہ ہے اور صرف اسی کیفیت تک محدود نہیں جس کی تعلیم اس عید اور اس کی کہانی اور اس جیسی دوسری گناہ آلود کہانیوں میں دی جاتی ہے ۔ 1969 عیسوی تک تو بین الاقوامی طور پر یہ دن اُس ویلنٹائن سے منسوب کر کے رومی بنیادی گرجا کی طرف سے ” منایا ” جاتا رہا اور اس سے کچھ عرصہ پہلے تک اسی گرجا کی طرف سے یہ دن بھیڑیا معبودہ کی طرف منسوب کیا جاتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں  معروف موسیقاراوراداکارہ شبنم کے شوہر روبن گھوش انتقال کر گئے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker